پاکستان کی مردوں کی والی بال ٹیم رواں ماہ جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز میں مضبوط حریفوں کو حیران کرنے اور ٹاپ آٹھ میں جگہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان کو 16 ٹیموں پر مشتمل مقابلے کے گروپ اے میں میزبان جاپان، قازقستان اور ازبکستان کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ ایشین گیمز 26 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: کھیلوں کا سب سے بڑا میلہ پاکستان میں، 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان
پاکستانی ٹیم کے منیجر اور سابق کپتان نصیر احمد نے کہا ہے کہ انہیں قومی ٹیم سے اچھی کارکردگی کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان بلاشبہ ایک مضبوط ٹیم ہے، تاہم پاکستان اسے شکست دینے کی بھرپور کوشش کرے گا۔
نصیر احمد کے مطابق جاپان کو شکست دینا پاکستان کا اولین ہدف ہے، تاہم اگر یہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی تو قازقستان اور ازبکستان کے خلاف فتوحات حاصل کرکے ٹاپ آٹھ میں جگہ بنائی جاسکتی ہے، جس کے بعد اگلے مرحلے میں مضبوط ٹیموں کے خلاف کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
پاکستان عالمی درجہ بندی میں 38ویں نمبر پر ہے جبکہ جاپان چھٹے نمبر پر موجود ہے، تاہم نصیر احمد کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم میں اتنا تجربہ اور معیار موجود ہے کہ وہ ایشین گیمز میں حیران کن نتائج دے سکتی ہے۔
پاکستانی دستے میں 2023 میں ہانگژو میں ہونے والے ایشین گیمز میں پانچویں پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کے تقریباً 9 کھلاڑی دوبارہ شامل ہوں گے، جبکہ تین نوجوان کھلاڑیوں کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے، جن میں انڈر 19 کا ایک سیٹر اور ایک مڈل بلاکر بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین گیمز کے لیے پاکستان کے شوٹر اسکواڈ کا اعلان کردیا
ہسپانوی کوچ لوئس البرٹو گزشتہ چند ماہ سے قومی ٹیم کی تربیت کررہے ہیں، جبکہ ان کے ہم وطن روئز پابلو بطور ٹرینر اور جسمانی فٹنس کوچ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
نصیر احمد نے بتایا کہ کھلاڑی روزانہ دو سیشنز میں تقریباً چار گھنٹے تربیت حاصل کررہے ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے مسلسل تیاریوں میں مصروف ہیں۔ قومی ٹیم نے 5 سے 20 اگست تک واہ کینٹ میں تربیتی کیمپ لگایا، جس کے بعد لیاقت جمنازیم میں تربیتی سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان والی بال فیڈریشن کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل نصیر احمد نے کہا کہ کوچنگ عملہ کھلاڑیوں کی تیاری پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔ ان کے مطابق لوئس البرٹو ایک اچھے کوچ ہیں اور کھلاڑیوں پر سخت محنت کررہے ہیں۔
کیمپ میں اس وقت 18 کھلاڑی موجود ہیں، جبکہ جاپان روانگی کے لیے حتمی 12 رکنی ٹیم کا اعلان جلد متوقع ہے۔
تاہم قومی ٹیم کی تیاریوں کے دوران لیاقت جمنازیم میں نصب کیے گئے ایئر کنڈیشننگ یونٹس تاحال فعال نہ ہونے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اسلام آباد میں موسم نسبتاً بہتر ہونا شروع ہوگیا ہے، تاہم سخت تربیتی سیشنز کے دوران کھلاڑیوں کے لیے مناسب درجہ حرارت برقرار رکھنا ضروری قرار دیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینٹرل ایشین والی بال چیمپیئن شپ 2026: پاکستان نے بنگلہ دیش کو ہرا کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا
ایشین گیمز میں پاکستان کی والی بال ٹیم کی بہترین کارکردگی 1962 میں جکارتہ میں سامنے آئی تھی، جہاں قومی ٹیم نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ اب قومی ٹیم اس شاندار روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرے گی۔
سعید احمد اور کاشف مزنوںر بھی تیاریوں کے دوران لوئس البرٹو کی معاونت کررہے ہیں۔
نصیر احمد کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ قومی دستے کے 14 ارکان کے اخراجات برداشت کرے گا جبکہ باقی چار ارکان کے اخراجات پاکستان والی بال فیڈریشن ادا کرے گی۔














