عمران خان جیسی سہولیات نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا فیڈرل آئینی عدالت سے رجوع

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں نے منگل کے روز فیڈرل آئینی عدالت (ایف سی سی) سے رجوع کیا ہے تاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) کے اس فیصلے کو چیلنج کیا جا سکے جس میں ان کی نجی اسپتالوں میں علاج کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں جو قید سابق وزیراعظم عمران خان کو دی گئی سہولت جیسی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ : اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی نجی اسپتال میں علاج اور بیرون ملک رشتہ داروں سے رابطے کی درخواست مسترد 

ڈان کے مطابق ایڈووکیٹ اختر چیمہ نے بتایا کہ ہم پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کی تشریح چاہتے ہیں جو قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کے طریقہ کار کو کنٹرول کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران کے حوالے سے 18 اگست کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد یہ ریلیف ضروری ہو گیا تھا جس میں حکومت کو پی ٹی آئی بانی کو نجی اسپتال شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم حکومت انہیں سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے گئی تھی۔

اس کے بعد اڈیالہ کے 3 قیدیوں نے عمران کو دی گئی سہولت جیسی سہولت کے لیے آئی ایچ سی سے رجوع کیا تھا۔ 31 اگست کو آئی ایچ سی نے درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

منگل کو ایڈووکیٹ چیمہ ایک قیدی محمد الیاس خان کی جانب سے پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر قیدیوں یعنی محمد اسماعیل حسین اور اویس الطاف کی نمائندگی بالترتیب ایڈووکیٹس عرفان ناصر چیمہ اور سید جعفر باقر کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آج ایف سی سی میں 3 الگ الگ درخواستیں دائر کی گئیں۔

مزید پڑھیے: کیا عمران خان کو علاج کے لیے باہر جانے کی آفر کی گئی ہے؟

ایڈووکیٹ چیمہ نے کہا کہ رول 197 میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کو سول اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے یہ دلیل دیتے ہوئے کہ حکومت کی جانب سے یہ تمیز کہ اس اصطلاح سے مراد صرف سرکاری اسپتال ہے غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس لفظ سے مراد فوجی اور سرکاری اسپتال کے درمیان فرق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 18 اگست کے سپریم کورٹ کے حکم کے تناظر میں کسی بھی قیدی کو جسے سنگین بیماری لاحق ہو علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے جس کا خرچ اس کا خاندان ادا کرے۔

چیمہ نے کہا کہ ان کے مؤکل کو اندرونی خون بہنے کا شدید مسئلہ ہے اور گزشتہ 2 ماہ کے دوران 8 بار سرکاری اسپتال میں علاج کے لیے لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اسپتال کے نظام کی حالت کے پیش نظر ہمیں بھروسہ نہیں ہے کہ میرے مؤکل کو سرکاری اسپتال میں مناسب طبی توجہ ملے گی۔

مزید پڑھیں: جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

ایف سی سی میں دائر درخواستوں میں استدعا کی گئی کہ آئی ایچ سی کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست گزاروں کو وہی طبی سہولیات فراہم کی جائیں جو پی ٹی آئی بانی کو دستیاب ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کے لیے مساوی سلوک کا تقاضا کرتا ہے یہ دلیل دیتے ہوئے کہ تینوں درخواست گزاروں کو وہی سلوک دیا جانا چاہیے جو عمران کے لیے دیا گیا تھا۔

درخواست میں ایف سی سی سے یہ ہدایت جاری کرنے کی بھی درخواست کی گئی کہ قیدیوں کو واٹس ایپ کے ذریعے بیرون ملک مقیم خاندان کے افراد سے رابطہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیے: اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا نجی اسپتال سے علاج کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا تھا کہ قید کا مطلب قانون کے مطابق آزادی پر پابندی ہے اور یہ کہ ہر تکنیکی سہولت کو بنیادی حق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ایک قیدی کو اپنی پسند کے نجی اسپتال میں منتقل ہونے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp