اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کی جانب سے نجی اسپتال سے علاج اور اہل خانہ سے رابطے کی اجازت دینے کی درخواستوں پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے پیرا وائز کمنٹس طلب کر لیے۔
جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی۔
محمد اسماعیل خان کے وکیل بیرسٹر اختر چھینہ عدالت میں پیش ہوئے۔
بیرسٹر اختر چھینہ نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا ہے اور اسے انٹرنل بلیڈنگ کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کو 2 ماہ کے دوران 10 مرتبہ اسپتال لایا گیا، تاہم اس کی حالت میں کوئی افاقہ نہیں ہوا۔
وکیل نے کہا کہ اس مسئلے کا علاج فی الحال پاکستان میں صرف شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ممکن ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر کسی بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں ممکن نہ ہو تو قیدی کو نجی اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔
بیرسٹر اختر چھینہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ علاج کے اخراجات قیدی کے اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی۔
بیرسٹر اختر چھینہ نے استفسار کیا کہ اگر لیور ٹرانسپلانٹ کی سہولت سرکاری اسپتال میں دستیاب نہ ہو تو کیا قیدی کو نجی ہسپتال منتقل نہیں کیا جائے گا؟
درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔
سید جعفر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ درخواست گزار اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب علاج معالجہ کرانا قیدی کا بنیادی حق ہے۔
یہ بھی پڑھیے عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کا معاملہ، وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کردی
وکیل نے استدعا کی کہ سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہ ہونے کے باعث اویس الطاف کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست گزار محمد اسماعیل کے وکیل نے بتایا کہ ان کا موکل گزشتہ 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے۔ وکیل نے کہا کہ درخواست گزار کا ایک بھائی دبئی میں رہتا ہے اور کئی سال سے اس سے رابطہ نہیں ہوا۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جیل حکام کو واٹس ایپ کال کے ذریعے درخواست گزار کی اس کے بھائی سے بات کرانے کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے تینوں کیسز میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے پیراوائز کمنٹس طلب کرتے ہوئے جیل حکام کو نوٹس جاری کر دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیسز کی مزید سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔














