نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی انتظامیہ نے 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کے بعد گراؤنڈ زیرو اور اس کے اطراف فضائی آلودگی کے صحت پر اثرات اور شہر کے حکام کے ردعمل سے متعلق ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل سرکاری ریکارڈ عوام کے لیے جاری کر دیا ہے۔
میئر ظہران ممدانی نے منگل کو دستاویزات جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو ریکارڈ تک رسائی دینے کے لیے ایک آن لائن پورٹل بھی متعارف کرایا۔
یہ اقدام 9/11 ہیلتھ واچ کی جانب سے دائر کیے گئے 2 مقدمات کے تصفیے کے بعد سامنے آیا، جن کے ذریعے تنظیم طویل عرصے سے ان دستاویزات کی فراہمی کا مطالبہ کر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
ظہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک کے شہریوں کو ان ریکارڈز تک رسائی کے لیے کئی برس تک جدوجہد کرنا پڑی، حالانکہ یہ معلومات ابتدا ہی سے عوام کے سامنے ہونی چاہییں تھیں۔
پریس کانفرنس میں میئر کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد دھواں چھٹنے اور ملبے کی گرد بیٹھ جانے سے لوگوں کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔
ان کے مطابق، کئی افراد بعد ازاں بیماریوں کا شکار ہوئے کیونکہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ گراؤنڈ زیرو کے اطراف کی ہوا سانس لینے کے لیے محفوظ ہے۔
mamdanibulletin
🔴 NYC Unseals 9/11 FilesMayor Zohran Mamdani released more than 170,000 pages of New York City records on the government’s 9/11 response and settled two 9/11 Health Watch lawsuits, ending a years-long fight over post-attack air quality and health records. pic.twitter.com/EfV397MEx5
— Jonathan Harvey (@LCBline) September 8, 2026
جاری کیے گئے ریکارڈ میں گراؤنڈ زیرو کے فضائی معیار سے متعلق متعدد دستاویزات شامل ہیں، جن میں ایک اندرونی یادداشت بھی موجود ہے جس میں شہر کے حکام نے فضائی آلودگی کے باعث ممکنہ قانونی ذمہ داری کا جائزہ لیا تھا۔
یہ ریکارڈ 9/11 حملوں کی 25ویں برسی سے صرف 3 روز قبل منظرعام پر آیا ہے۔ ان حملوں میں نیویارک، واشنگٹن اور پنسلوانیا میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی کانگریس کے رکن جیری نڈلر نے کہا کہ انہوں نے اور دیگر حکام نے اس وقت ہی گراؤنڈ زیرو اور اس کے اطراف موجود زہریلے مادوں سے لاحق صحت کے خطرات سے متعلق مقامی اور وفاقی حکام کو خبردار کیا تھا، تاہم ان انتباہات کو نظرانداز کیا گیا۔
مزید پڑھیں: نیویارک میئر ظہران ممدانی نے اسکولوں میں ’اے آئی‘ کے استعمال پر پابندی کیوں عائد کی؟، وجہ سامنے آگئی
نڈلر کے مطابق، اب سامنے آنے والے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق میئر روڈی جولیانی کی انتظامیہ کو بھی خدشہ تھا کہ ہزاروں امدادی کارکنوں اور مقامی آبادی کو ان زہریلے مادوں کے باعث طویل مدتی اور سنگین صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیویارک سٹی کونسل کی رکن گیل بریور نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران 9/11 کے پہلے جواب دینے والے اہلکاروں، متاثرین، ان کے خاندانوں اور زیریں مین ہٹن میں رہنے، کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے والے افراد نے صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کیا، جبکہ اہم سرکاری ریکارڈ عوام کی پہنچ سے باہر رہے۔
مزید پڑھیں: نیویارک میں گھوڑا گاڑیوں پر پابندی کے مطالبات بڑھنے لگے، وجہ کیا ہے؟
9/11 ہیلتھ واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بین شیواٹ نے ظہران ممدانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 25 برس بعد پہلی مرتبہ کوئی میئر اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے کہ گراؤنڈ زیرو پر موجود زہریلے بادل کے خطرات کے بارے میں حکام کو کیا معلوم تھا اور یہ معلومات انہیں کب حاصل ہوئی تھیں۔
شیواٹ کے مطابق، گزشتہ برسوں میں چار مختلف میئر انتظامیہ نے ایسے ریکارڈ عوام، کانگریس اور سٹی کونسل سے پوشیدہ رکھے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ حکام ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام کے بعد زیریں مین ہٹن اور مغربی بروکلین میں موجود زہریلے کیمیائی مادوں کے خطرات سے کس حد تک آگاہ تھے، جبکہ عوام کو مسلسل بتایا جاتا رہا کہ ہوا ’محفوظ اور قابل قبول‘ ہے۔













