سنگاپور نے سیاسی قیادت کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کردیا، جس کے بعد وزیراعظم لارنس وونگ کی سالانہ تنخواہ میں تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا۔
وزیراعظم لارنس وونگ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ نظرثانی شدہ پیکیج کے تحت ان کی سالانہ بنیادی تنخواہ 22 لاکھ سنگاپور ڈالر (تقریباً 17 لاکھ امریکی ڈالر) سے بڑھ کر 36 لاکھ سنگاپور ڈالر (تقریباً 28 لاکھ امریکی ڈالر) ہوجائے گی۔
اسی طرح نائب وزیراعظم کی سالانہ تنخواہ 18 لاکھ 70 ہزار سنگاپور ڈالر سے بڑھ کر 30 لاکھ 60 ہزار ڈالر جبکہ کابینہ کے وزرا کو عہدے کی اہمیت اور سینیارٹی کے لحاظ سے 18 لاکھ سے 28 لاکھ 80 ہزار سنگاپور ڈالر تک سالانہ معاوضہ ملے گا۔
World's highest paid Prime Minister received a 64% pay hike earning seven times more than US President Donald Trumphttps://t.co/gNv4CWnUSv
— Economic Times (@EconomicTimes) September 9, 2026
لارنس وونگ نے کہا کہ ان کی تنخواہ میں ہونے والے اضافے کی پوری رقم وہ اپنے دورِ حکومت میں فلاحی اور دیگر مناسب مقاصد کے لیے عطیہ کردیں گے۔
سنگاپور میں سیاسی رہنماؤں کو دنیا کی بلند ترین سرکاری تنخواہیں دینے کا مقصد باصلاحیت افراد کو سیاست کی جانب راغب کرنا اور بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنانا بتایا جاتا ہے، تاہم یہ معاملہ ملک میں ایک حساس سیاسی موضوع بھی ہے کیونکہ وزرا کی آمدنی عام شہریوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تھائی لینڈ اور سنگاپور کے وزرائے اعظم کی میوزیکل ڈپلومیسی، ویڈیو وائرل
وزیراعظم وونگ کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کی سفارش ایک آزاد کمیٹی نے کی ہے۔ موجودہ عہدیداروں کو فوری طور پر نئی تنخواہوں کے مطابق معاوضہ نہیں دیا جائے گا، تاہم 15 اکتوبر سے انہیں انفرادی حالات اور کارکردگی کی بنیاد پر ایک مرتبہ 9 فیصد تک اضافی رقم دی جائے گی۔
سنگاپور نے وزرا کی تنخواہوں میں آخری مرتبہ 15 سال قبل تبدیلی کی تھی۔ یہ ملک دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں بدعنوانی کی شرح انتہائی کم ہے۔













