اگر آپ نے اس ہفتے انسٹاگرام کھولا ہے تو ممکن ہے آپ کو یوں محسوس ہوا ہو جیسے وقت واپس سنہ 1986 میں پہنچ گیا ہے۔ بڑے اور گھنے بال، ڈسکو طرز کی روشنیاں، پرانی فلم جیسی دانہ دار تصاویر اور 80 کی دہائی کے انداز میں بنائی گئی اے آئی تصاویر نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے نیا فیچر متعارف کرا دیا
اس نئے رجحان میں لوگ اپنی موجودہ تصاویر مصنوعی ذہانت کے ٹولز میں دے کر انہیں 80 کی دہائی کے انداز میں دوبارہ تخلیق کروا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ٹولز میں چیٹ جی پی ٹی بھی شامل ہے۔
صارف اپنی تازہ تصویر اپ لوڈ کرکے مصنوعی ذہانت سے کہتا ہے کہ اسے 80 کی دہائی کی تصویر میں تبدیل کیا جائے تاہم چہرے کی بنیادی شناخت، خدوخال اور جلد کی قدرتی رنگت برقرار رکھی جائے۔ اس کے بعد بالوں، لباس، پس منظر، روشنی، رنگوں اور تصویر کی ساخت کو اس دور کے مطابق تبدیل کیا جاتا ہے۔
یہ رجحان انسٹاگرام اسٹوریز میں ’ایڈ یورز‘ نامی سہولت کے ذریعے بھی تیزی سے پھیل رہا ہے، جس میں صارفین ایک دوسرے کو اسی انداز میں اپنی تصاویر بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔
بالی وڈ انداز نے رجحان کو مزید مقبول بنایا
اس رجحان کے تحت بنائی جانے والی بہت سی مقبول تصاویر میں عام مغربی طرز کے ریٹرو انداز کے بجائے بالی وڈ، خاندانی البم اور 80 کی دہائی کی مشہور فلموں جیسا انداز نمایاں ہے۔
یہ علاقائی انداز خاص طور پر بھارتی انسٹاگرام صارفین میں اس رجحان کی مقبولیت برقرار رکھنے میں مدد دے رہا ہے کیونکہ تصاویر صرف ایک عمومی پرانے زمانے کے فلٹر تک محدود نہیں بلکہ مقامی ثقافت اور اس دور کے فیشن کی جھلک بھی پیش کرتی ہیں۔
یہ رجحان اب ٹک ٹاک تک بھی پہنچ چکا ہے، جبکہ صارفین صرف چیٹ جی پی ٹی تک محدود نہیں۔ گوگل کے جیمنی جیسے دیگر مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے ذریعے بھی اسی طرز کی تصاویر تیار کی جا رہی ہیں۔
آپ بھی 80 کی دہائی کی تصویر کیسے بنا سکتے ہیں؟
اگر آپ بھی اپنی کسی تصویر کو اس دور کے انداز میں دیکھنا چاہتے ہیں تو مصنوعی ذہانت کے ٹول میں تصویر اپ لوڈ کرکے مختلف انداز کے پرامپٹس یا ہدایات دی جا سکتی ہیں۔
1۔ بالی وڈ اسٹوڈیو پورٹریٹ
تصویر کو 1980 کی دہائی کے ایک پُرکشش بالی وڈ اسٹوڈیو پورٹریٹ میں تبدیل کرنے کا کہیں۔ چہرے کے خدوخال اور جلد کی قدرتی رنگت بالکل تبدیل نہ کی جائے۔ بالوں کو گھنے اور ہلکے گھنگریالے انداز میں دکھایا جائے جبکہ لباس شوخ اور رنگین ہو اور اس کے ساتھ نمایاں زیورات شامل کیے جائیں۔
پس منظر اور چہرے پر گرم اسٹوڈیو روشنی، بھرپور فلمی رنگ اور ہلکی پرانی فلم جیسی دانہ دار ساخت ہو۔ تصویر حقیقی، نفیس اور خوبصورت لگنی چاہیے، کارٹون جیسی نہیں۔
2۔ خاندانی البم کی پرانی تصویر
تصویر کو سنہ 1980 کی دہائی میں بنائی گئی ایک عام خاندانی البم کی تصویر جیسا بنایا جائے۔ چہرے کے اصل خدوخال اور جلد کی رنگت برقرار رکھی جائے۔
بالوں اور لباس کو اس دور کے سادہ اور باوقار روزمرہ انداز میں تبدیل کیا جائے، مثلاً پرنٹ والی قمیص، اونچی کمر والی پتلون یا سادہ ساڑھی۔ پس منظر میں گھر کا سادہ اندرونی حصہ یا باغ دکھایا جائے۔
تصویر میں ہلکے پھیکے رنگ، نرم فوکس اور واضح فلمی دانے شامل کیے جائیں تاکہ ایسا محسوس ہو جیسے یہ کسی پرانی اصلی تصویر سے اسکین کی گئی ہو۔
3۔ ریٹرو ڈسکو پورٹریٹ
تصویر کو 1980 کی دہائی کے ڈسکو دور کی ایک پورٹریٹ تصویر میں تبدیل کیا جائے۔ چہرے کے قابلِ شناخت خدوخال اور جلد کی قدرتی رنگت برقرار رکھی جائے۔
بال بڑے اور قدرے ابھرے ہوئے ہوں، لباس میں چمک یا دھاتی رنگ شامل کیا جائے اور میک اَپ نمایاں ہو۔ پس منظر میں رنگین اسٹیج لائٹس ہوں جبکہ پوری تصویر میں پرانی فلم جیسی دانہ دار ساخت اور ہلکی سی زیادہ روشنی کا تاثر ہو۔
حتمی تصویر ایسی لگنی چاہیے جیسے یہ کسی حقیقی تقریب میں سنہ 1980 کی دہائی کے کیمرے سے کھینچی گئی ہو نہ کہ جدید تصویر پر محض کوئی ڈیجیٹل فلٹر لگایا گیا ہو۔
مزید پڑھیے: یورپی یونین کا فیس بک اور انسٹاگرام کی لت کے خلاف بڑا ایکشن، بھاری جرمانے کی دھمکی
مصنوعی ذہانت سے تصاویر بنانے کے اس رجحان نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ سوشل میڈیا صارفین اب صرف پرانی تصاویر دیکھنے یا ریٹرو فلٹر لگانے کے بجائے جدید اے آئی ٹولز کے ذریعے اپنی موجودہ شکل کو مختلف تاریخی ادوار کے انداز میں دوبارہ تخلیق کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔














