یورپی یونین نے فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی ‘میٹا’ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے مخصوص ڈیزائن کی وجہ سے صارفین کو ذہنی طور پر اپنا عادی بنا رہے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا رہے ہیں۔2 سال کی طویل تحقیقات کے بعد، یورپی ریگولیٹرز نے کمپنی کو سخت وارننگ دی ہے کہ وہ اپنے نظام میں فوری تبدیلیاں کرے، ورنہ اسے اربوں روپے کے بھاری مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کا میٹا کو حریف اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے واٹس ایپ کھولنے کا حکم
حکام کا کہنا ہے کہ میٹا کے پلیٹ فارمز پر ویڈیوز کا خود بخود چلنا اور اسکرین کو نیچے اسکرول کرتے ہوئے مسلسل نئے مواد کا سامنے آتے رہنا ایسے حربے ہیں جو صارفین کو گھنٹوں اسکرین سے چپکے رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔
یورپی کمیشن کے مطابق خاص طور پر انسٹاگرام اور فیس بک کی چھوٹی ویڈیوز (ریلز) نوجوانوں اور بچوں میں اس لت کو ایک بڑے بحران کی شکل دے رہی ہیں، جسے روکنے میں کمپنی کے اب تک کے اقدامات بالکل ناکام رہے ہیں۔
ریگولیٹرز نے واضح کیا کہ میٹا کے پاس اب صرف 2 ہی راستے ہیں؛ یا تو وہ اپنے پلیٹ فارمز کا یہ نشہ آور ڈیزائن بدلے اور صارفین کو اسکرین سے دور رکھنے کے لیے وقفے کے فیچرز متعارف کروائے، یا پھر اپنے عالمی سالانہ منافع کے 6 فیصد تک کا بھاری جرمانہ بھرنے کے لیے تیار ہوجائے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین نے فیس بک اور انسٹاگرام کے خلاف تحقیقات تیز کردیں
دوسری جانب، میٹا کمپنی نے یورپی یونین کے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
کمپنی کے ترجمان کا مؤقف ہے کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کی حفاظت کے لیے پہلے ہی بہت سے اہم اقدامات کر چکے ہیں، جن میں والدین کے لیے ایسے کنٹرولز شامل ہیں جن کے ذریعے وہ رات کے وقت بچوں کا اکاؤنٹ بند کرسکتے ہیں اور روزانہ اسکرین استعمال کرنے کا وقت صرف پندرہ منٹ تک محدود کرسکتے ہیں۔














