پاکستان نیوی دشمن کو اس کے علاقے میں جا کر نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے، آصف سلیم

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر دفاعی تجزیہ کار اور پاکستان نیوی میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دینے والے کموڈور ریٹائرڈ آصف سلیم نے کہا ہے کہ پاکستان نیوی تیزی سے ایک جدید، نیٹ ورک سے منسلک اور زیادہ خود انحصار بحری قوت میں تبدیل ہو رہی ہے، جس میں نئے سرفیس جہاز، ہنگور کلاس آبدوزیں، جدید ہتھیار، بہتر ڈیٹیکشن سسٹمز اور ریئل ٹائم معلومات کے تبادلے کی صلاحیت شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیوی ڈے ملک بھر میں جذبے سے منایا گیا، جنگ 1965 کے بحری جانبازوں کی بہادری کو خراج عقیدت

وی ایکسکلوسیو کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مستقبل کی جنگ کسی ایک سروس کی جنگ نہیں ہوگی بلکہ پاکستان نیوی، ایئر فورس اور زمینی افواج کو ریئل ٹائم میں معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا، انہیں ذہانت سے سمجھنا ہوگا اور مختلف جنگی محاذوں پر استعمال کرنا ہوگا۔

ان کے مطابق پاکستان نیوی اب ایسی فورس کی طرف بڑھ رہی ہے جو سمندر میں اپنے پورے آپریشنل علاقے کی جامع تصویر حاصل کر سکے، دشمن کو اس کے اپنے علاقے میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھے اور ضرورت پڑنے پر اس کے مشرقی حصے تک پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ صرف جدید پلیٹ فارم کافی نہیں بلکہ آج کی جنگ میں ایک مکمل نیٹ ورکڈ فورس کی ضرورت ہے۔

کموڈور ریٹائرڈ آصف سلیم نے کہا کہ پاکستان نیوی کی نئی صلاحیتوں میں ٹائپ 054 جہاز، ملجم کوروٹس اور نئی ہنگور کلاس آبدوزیں شامل ہیں، جبکہ خود انحصاری بھی نیوی کی مستقبل کی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

2 جنگی جہازوں سے جدید بحری قوت تک کا سفر

پاکستان نیوی کے تاریخی سفر پر بات کرتے ہوئے آصف سلیم نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت بحریہ کے پاس انتہائی محدود وسائل تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نیوی تقسیم سے پہلے رائل انڈین نیوی کا حصہ تھی۔ پاکستان کے ایک آزاد اور خودمختار ملک بننے کے بعد نیوی نے بہت محدود وسائل کے ساتھ کام شروع کیا۔

ان کے مطابق ابتدا میں پاکستان کے پاس صرف 2 جنگی جہاز یا فریگیٹس، چند مائن سویپرز، کچھ ہاربر کرافٹ اور 2 سیل بوٹس موجود تھیں۔

مائن سویپرز کا مقصد سمندری بارودی سرنگوں کو تلاش کرکے انہیں ناکارہ بنانا تھا جبکہ ہاربر کرافٹ بنیادی طور پر بندرگاہ کے اندر نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دور میں پاکستان نیوی کے سربراہ بھی برطانوی رائل نیوی کے افسر تھے۔

اس وقت پاکستان کے پاس مناسب مرمت اور مینٹیننس کی سہولیات بھی موجود نہیں تھیں اور نہ ہی مکمل طور پر فعال ڈاک یارڈ یا شپ یارڈ دستیاب تھا۔

ان کے مطابق انہی محدود وسائل سے پاکستان نیوی نے اپنا سفر شروع کیا اور اس وقت کی قیادت نے طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت قدم بہ قدم بحریہ کو ترقی دی۔

غازی کی آمد نے خطے میں طاقت کا توازن بدلا

کموڈور ریٹائرڈ آصف سلیم نے کہا کہ پاکستان نیوی کی ترقی میں 1963 ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا جب بحریہ نے اپنی پہلی آبدوز غازی حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ غازی امریکا سے لیز پر حاصل کی گئی تھی اور اس کا سابق نام یو ایس ایس ڈیابلو تھا۔

ان کے مطابق یہ اس خطے میں آنے والی پہلی آبدوز تھی اور پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے ایسی صلاحیت حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ غازی کی آمد سے خطے میں پاکستان کے خلاف موجود طاقت کا عدم توازن کافی حد تک کم ہوا بلکہ بعض حوالوں سے پاکستان کو برتری بھی حاصل ہوئی۔

یہ برتری 1965 کی جنگ میں نمایاں طور پر سامنے آئی۔

ان کے مطابق غازی کی موجودگی کی وجہ سے شمالی بحیرہ عرب اور بحر ہند میں بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت بہت حد تک محدود ہو گئی۔

آپریشن دوارکہ کیسے کیا گیا؟

آپریشن دوارکہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے آصف سلیم نے کہا کہ 1965 کی جنگ کے دوران غازی کی موجودگی کے باعث بھارتی بحریہ بڑی حد تک اپنی بندرگاہوں تک محدود تھی۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے بڑے محاذ پاکستان کے شمالی علاقوں میں تھے اور بھارتی فضائیہ کی زیادہ تر جنگی کوشش بھی اسی جانب مرکوز تھی۔

پاکستان کو سمندر میں حاصل برتری کو دیکھتے ہوئے ایک جرات مندانہ بحری آپریشن کا منصوبہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایڈمرل ایچ ایم ایس چوہدری کے بعد بحری قیادت کے تحت پاکستان کے مرکزی سرفیس فلیٹ کے جہازوں کو بھارتی ساحلی شہر دوارکہ میں کارروائی کا ہدف دیا گیا۔

دوارکہ میں بھارتی ریڈار اسٹیشن اور دیگر تنصیبات موجود تھیں، جن میں ایسے بیکنز بھی شامل تھے جو طیاروں کو سمت فراہم کرتے تھے۔

مزید پڑھیے: معرکہ حق میں شکست کے بعد دشمن بے امنی پھیلانا چاہتا ہے، انتشارپھیلانے والی ہر کوشش کو کچلا جائےگا، کور کمانڈرز کانفرنس

ان کے مطابق آپریشن کا ایک مقصد ان تنصیبات کو غیر مؤثر کرنا تھا جبکہ دوسرا مقصد بھارتی بحریہ کو اس کی بندرگاہوں سے باہر آنے پر مجبور کرنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سات پاکستانی جہاز 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی رات دوارکہ کے قریب پہنچے اور وہاں موجود ریڈار اسٹیشن اور دیگر اہداف پر گن فائر کیا۔

ان کے مطابق تمام جہازوں نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد کامیابی کے ساتھ واپس پاکستانی سمندری حدود میں پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے دو اہم اثرات سامنے آئے۔

پہلا یہ کہ شمال میں موجود بھارتی فضائیہ کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے بھارت کو کچھ فضائی وسائل جنوب کی طرف منتقل کرنا پڑے۔

دوسرا اثر بھارتی بحریہ پر پڑا کیونکہ اس پر سوال اٹھا کہ وہ اپنی بندرگاہوں کے اندر کیوں محدود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش تھی کہ بھارتی بحریہ باہر نکل کر پاکستانی بحریہ کا مقابلہ کرے، تاہم بھارتی بحریہ نے ایسا نہیں کیا۔

سنہ1971 میں میزائل بوٹس نے جنگی صورتحال تبدیل کی

سنہ1971 کی جنگ پر بات کرتے ہوئے آصف سلیم نے کہا کہ بھارتی بحریہ نے سنہ 1965 کی جنگ سے ایک اہم سبق حاصل کیا اور فوری طور پر ایسی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی جو اسے زیادہ مضبوط جارحانہ طاقت دے سکے۔

انہوں نے بتایا کہ روسی ساختہ اوسا کلاس میزائل بوٹس پہلے پاکستان کو بھی پیش کی گئی تھیں۔

تاہم ان کے مطابق بعض ایسی پالیسی وجوہات کی بنیاد پر، جو صرف نیوی کے دائرہ اختیار تک محدود نہیں تھیں، پاکستان نے اس وقت یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

بعد میں بھارت نے یہی اوسا کلاس میزائل بوٹس حاصل کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ سنہ 1971 کی جنگ کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو پاکستان نیوی نے مشرقی پاکستان، چٹاگانگ اور دیگر علاقوں میں کئی مؤثر آپریشنز کیے، جبکہ ہنگور آبدوز کی کارروائی بھی ایک بڑی کامیابی تھی۔

تاہم بھارتی میزائل بوٹس کی جانب سے آپریشن ٹرائیڈنٹ کے تحت کیے جانے والے حملوں نے بحری جنگ پر بڑا اثر ڈالا۔

ان حملوں کے نتیجے میں پاکستان کے بعض جہازوں کو نقصان ہوا اور کراچی کی بندرگاہ کے علاقے پر ہونے والی کارروائیوں نے صورتحال مزید مشکل بنا دی۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں اس بات کا تجزیہ کرنا ضروری تھا کہ ماضی میں کیا گیا ایک فیصلہ پاکستان کی مجموعی جنگی حکمت عملی پر کس حد تک اثر انداز ہوا۔

ہنگور نے بھارتی جنگی جہاز ککری کو کیسے ڈبویا؟

کموڈور ریٹائرڈ آصف سلیم نے کہا کہ سنہ 1971 کی جنگ میں پاکستان نیوی کی آبدوز ہنگور نے بھارتی جہاز آئی این ایس ککری کو ڈبویا اور دوسرے جہاز آئی این ایس کرپان کو نقصان پہنچایا۔

ان کے مطابق یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک اہم سرفیس انگیجمنٹ تھی جس میں ایک آبدوز نے بڑے سرفیس جنگی جہاز کو ڈبویا۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی جہاز ممبئی کے جنوب مغربی علاقے میں سرگرم تھے اور بنیادی طور پر اینٹی سب میرین مشن انجام دے رہے تھے۔

اس وقت ہنگور کی کمان احمد تسنیم کے پاس تھی۔

ہنگور نے سونار کے ذریعے بھارتی جہازوں کی موجودگی کا پتہ لگایا اور بعد میں انہیں بصری طور پر بھی شناخت کیا۔

اس کے بعد آبدوز نے انتہائی احتیاط سے اپنی پوزیشن ایسی بنائی کہ بھارتی جہاز اس کی فائرنگ کی مؤثر رینج میں آ جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہنگور نے ایک سے زیادہ ٹارپیڈو فائر کیے۔

ان کے مطابق دوسرے ٹارپیڈو نے ککری کو نشانہ بنایا اور جہاز چند منٹ میں ڈوب گیا۔

بعد میں ہنگور نے دوسرے بھارتی جہاز کو بھی نشانہ بنایا جو جوابی کارروائی کے لیے اس کی جانب بڑھا تھا۔

اس جہاز کو بھی نقصان پہنچا اور وہ جنگ میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہا۔

آصف سلیم نے کہا کہ یہ انتہائی جرات مندانہ کارروائی تھی کیونکہ آبدوز نے دشمن کے علاقے کے قریب جا کر ہتھیار استعمال کیے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ آبدوز جب ٹارپیڈو فائر کرتی ہے تو دشمن کے لیے اس کے ممکنہ مقام کا اندازہ لگانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

بھارت نے ہنگور کو تلاش کرنے کے لیے فضائی اور سرفیس وسائل کے ساتھ وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کیا۔

تاہم ہنگور نے انتہائی مؤثر حکمت عملی اختیار کی۔

انہوں نے کہا کہ آبدوز دشمن کی توقع کے مطابق دور جانے کے بجائے بعض مرحلوں میں اس کے قریب کی سمت میں گئی اور اس حکمت عملی کے ذریعے دشمن کی تلاش سے بچ گئی۔

ان کے مطابق ہنگور نے 2 بھارتی جہازوں کو نقصان پہنچانے کے بعد بحفاظت کراچی واپسی کی اور اسے تباہ نہیں کیا جا سکا۔

نئی ہنگور کلاس آبدوزیں کیوں اہم ہیں؟

نئی ہنگور کلاس آبدوزوں سے متعلق آصف سلیم نے کہا کہ پرانی ہنگور کے بعد اسی نام سے فوری طور پر نئی آبدوز لانے کی ضرورت اس لیے پیش نہیں آئی کیونکہ پاکستان نیوی کی سب میرین فورس مسلسل موجود اور مؤثر رہی۔

انہوں نے کہا کہ پرانی ہنگور کے ساتھ پاکستان نیوی کے پاس مزید 3 آبدوزیں بھی موجود تھیں۔

ان آبدوزوں کے مرحلہ وار سروس سے نکلنے سے پہلے پاکستان نے فرانس سے مزید جدید آبدوزیں حاصل کرلی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 5 آبدوزیں اب بھی پاکستان نیوی کے آپریشنل استعمال میں ہیں۔

ان کے مطابق اصل چیز کسی ایک نام کا تسلسل نہیں بلکہ سب میرین فورس کی صلاحیت اور موجودگی کا برقرار رہنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنہ 2015 میں پاکستان نیوی نے چین کے ساتھ نئی اور جدید ہنٹر کلر آبدوزوں کے لیے معاہدہ کیا۔

اسی منصوبے کے تحت نئی آبدوزوں میں ہنگور کا تاریخی نام دوبارہ استعمال کیا گیا۔

آصف سلیم نے کہا کہ جدید ہنگور کلاس آبدوزیں موجودہ دور کے لحاظ سے خطے کی جدید ترین ہنٹر کلر آبدوزوں میں شمار ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق ان کے ڈیٹیکشن سسٹمز اور ویپن سسٹمز انتہائی جدید نوعیت کے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان آبدوزوں میں بعض ایسے ویپن سسٹمز بھی شامل ہیں جو پاکستان نے مقامی طور پر تیار کیے ہیں۔

ان کے مطابق یہ پاکستان کی خود انحصاری کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی نظاموں کی موجودگی سے نہ صرف ان سسٹمز کی طویل مدت تک دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں ان کی اپ گریڈیشن بھی پاکستان خود کر سکے گا۔

ان کے مطابق ہنگور کلاس کے ذریعے ایک نئی نسل کی کمپیکٹ اور جدید سب میرین فورس کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

اس منصوبے کے تحت 8 ہنگور کلاس آبدوزیں حاصل کی جا رہی ہیں جن میں چار پاکستان میں تیار کی جا رہی ہیں۔

غازی کیسے تباہ ہوئی؟

سنہ1971  میں غازی آبدوز کے نقصان سے متعلق آصف سلیم نے کہا کہ پاکستان کا سرکاری مؤقف آج بھی یہی ہے کہ غازی کو بھارتی جنگی جہاز نے تباہ نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے غازی کو انتہائی مشکل مائن لئینگ مشن پر بھارت کے مشرقی ساحل پر وشاکھاپٹنم بھیجا گیا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ آبدوز کا بنیادی مشن دشمن کے جہازوں اور آبدوزوں کو نشانہ بنانا ہوتا ہے جبکہ مائن لئینگ اس کا ثانوی مشن ہوتا ہے۔

سمندری بارودی سرنگیں فضائی ذریعے، سرفیس جہاز یا آبدوز کے ذریعے نصب کی جا سکتی ہیں۔

غازی کو وشاکھاپٹنم بندرگاہ کے قریب مائن لئینگ آپریشن کی ذمہ داری دی گئی۔

ان کے مطابق یہ انتہائی پیچیدہ اور خطرناک آپریشن تھا جس میں بڑے خطرات قبول کیے گئے تھے۔

آصف سلیم نے کہا کہ پاکستان نے سنہ 1971 میں جو مؤقف اختیار کیا تھا وہ آج بھی تبدیل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے غازی کو تباہ کرنے کے دعوؤں کے برخلاف مختلف تاریخی اور مقامی ذرائع بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

ان کے مطابق بھارتی بحریہ کے ایک سابق وائس ایڈمرل ہیرانندانی نے بھی اپنی کتاب میں لکھا کہ غازی کو بھارتی ڈسٹرائر کے حملے سے تباہ نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے وشاکھاپٹنم کے ایک مقامی ماہی گیر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دھماکے کی آواز تو سنی لیکن اس وقت علاقے میں کسی بھارتی جہاز کی موجودگی نہیں دیکھی۔

انہوں نے ایک مصری افسر کا بھی ذکر کیا جس کا جہاز اس وقت وشاکھاپٹنم میں موجود تھا۔

آصف سلیم کے مطابق اس افسر نے بھی کہا کہ واقعے سے پہلے اس نے بھارتی جنگی جہازوں کو بندرگاہ سے نکلتے نہیں دیکھا تھا۔

انہوں نے بھارتی دعوے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایسے واقعے پر فتح کا دعویٰ قرار دیا جو ان کے بقول بھارتی کارروائی کا نتیجہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ غازی کے مشن میں شریک پاکستانی افسران اور جوانوں نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کیا۔

ان کے مطابق اگر مائن لئینگ آپریشن مکمل طور پر کامیاب ہو جاتا تو ممکن تھا کہ سنہ 1965 کی طرح بھارتی بحریہ سنہ 1971 میں بھی اس بندرگاہ کو مؤثر انداز میں استعمال نہ کر پاتی۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں بعض اوقات ایک واقعہ انتہائی دور رس نتائج پیدا کرتا ہے۔

غازی کا وشاکھاپٹنم تک پہنچنا خود ایک غیر معمولی سفر تھا کیونکہ اسے پورے بھارتی ساحل کے گرد جنوب سے ہوتے ہوئے شمال مشرقی علاقے تک جانا پڑا۔

ان کے مطابق یہ تقریباً 6 سے 7 ہزار کلومیٹر کے سفر کے برابر تھا۔

وکرانت کے کردار پر سوال

بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت کے حوالے سے آصف سلیم نے کہا کہ جنگی صورتحال میں بڑے بحری اثاثوں کو ایک محاذ سے دوسرے محاذ پر منتقل کرنا معمول کی حکمت عملی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکرانت کو میڈیا میں اس انداز سے پیش کیا گیا کہ اس نے پاکستان کی بندرگاہوں کو بلاک کردیا اور تجارت بند کردی۔

تاہم ان کے مطابق خود طیارہ بردار جہاز کی ایسی کارروائی کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ ثبوت موجود نہیں تھا۔

انہوں نے موجودہ دور کے اسی نام کے بھارتی طیارہ بردار جہاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ’معرکہ حق‘ کے دوران بھی وہ پاکستانی علاقوں اور پاکستان کے اقتصادی زون سے فاصلے پر رہا اور تقریباً 400 میل جنوب میں موجود تھا۔

پاکستان نیوی کے بیشتر پلیٹ فارمز اب نئے ہیں

موجودہ پاکستان نیوی کی طاقت اور چیلنجز پر بات کرتے ہوئے آصف سلیم نے کہا کہ بحریہ ایک انتہائی مہنگی سروس ہے اور اس کے جہاز اور دیگر پلیٹ فارمز راتوں رات تیار نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی نے کئی دہائیوں تک زیادہ تر استعمال شدہ جہاز اور آبدوزیں حاصل کیں۔

یہ پلیٹ فارم زیادہ تر مغربی ممالک سے لیے گئے جبکہ بعد میں چین سے بھی خصوصاً چھوٹے جنگی اور میزائل کرافٹ حاصل کیے گئے۔

تاہم ان کے مطابق آج صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی کی موجودہ انوینٹری کا بڑا حصہ اب نئے پلیٹ فارمز پر مشتمل ہے۔

ان میں چین سے حاصل کیے گئے ٹائپ 054 جہاز شامل ہیں۔

اسی طرح ملجم کوروٹس کے 4 جہازوں کا منصوبہ ہے۔

ان کے مطابق دو جہاز پاکستان حاصل کرکے کمیشن کر چکا ہے جبکہ دو کراچی شپ یارڈ میں تیار کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ یہ دونوں بھی ایک سال کے اندر پاکستان نیوی کا حصہ بن جائیں گے۔

اس کے ساتھ نئی ہنگور کلاس آبدوزیں بھی فورس میں شامل ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: معرکہ حق میں پاکستان سے شکست کے بعد مودی بوکھلاہٹ کا شکار، پروپیگنڈے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، خواجہ آصف

ان کے مطابق ان نئے پلیٹ فارمز کے ساتھ پاکستان نیوی جو صلاحیت حاصل کر رہی ہے اس میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ خود انحصاری کا عنصر بھی انتہائی اہم ہے۔

دشمن کو اس کے علاقے میں نشانہ بنانے کی صلاحیت

کموڈور ریٹائرڈ آصف سلیم نے کہا کہ پاکستان نیوی کی کوشش ہے کہ مختلف پلیٹ فارمز اور ان کی صلاحیتوں کو آپس میں مربوط کیا جائے۔

اس کا مقصد سمندر میں ایک مکمل آپریشنل تصویر حاصل کرنا اور پورے علاقے میں ایسی صلاحیت قائم کرنا ہے جس سے دشمن کو نشانہ بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان نیوی دشمن کے علاقے میں جا کر بھی اسے نشانہ بنانے اور اس کے مشرقی حصے تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ صلاحیتیں مستقبل کی کسی جنگ میں انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید جنگ میں صرف جہاز یا آبدوز کی موجودگی کافی نہیں بلکہ نیٹ ورک فورس کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے لیے جہازوں اور ہیڈکوارٹرز کے درمیان رابطہ فوری، تیز رفتار اور مسلسل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام میں آبدوزوں کے ساتھ بھی کمیونیکیشن لنک موجود رکھنے کی سمت پیش رفت ہو رہی ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان نیوی مسلسل نیٹ ورک سے منسلک اور فوری ردعمل دینے والی فورس رہے تاکہ کسی بھی خطرے کا فوری مقابلہ کیا جا سکے۔

سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر میں بھی نیوی آگے بڑھ رہی ہے

پاکستان ایئر فورس کی حالیہ کارروائیوں اور سائبر و الیکٹرانک صلاحیت سے متعلق سوال پر آصف سلیم نے کہا کہ پی اے ایف کی کامیابی میں الیکٹرانک اسپیس کو استعمال اور ایکسپلائٹ کرنے کا بہت بڑا کردار تھا۔

ان کے مطابق فضائی پلیٹ فارمز کا زمین پر موجود ہیڈکوارٹرز سے بہترین رابطہ تھا اور معلومات کی انتہائی تیز رفتار منتقلی کا نظام استعمال کیا گیا۔

اس وجہ سے پاکستان ایئر فورس ایک مؤثر نیٹ ورکڈ فورس کے طور پر کام کر سکی۔

انہوں نے کہا کہ فورس نے نہ صرف اپنی آپریشنل صورتحال کی مکمل آگاہی برقرار رکھی بلکہ دشمن کو بھی اسی نوعیت کی معلومات حاصل کرنے سے روکا۔

ان کے مطابق اگر کاؤنٹر ٹیکنالوجیز استعمال نہ کی جاتیں تو دشمن بھی ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

مستقبل کی جنگ کسی ایک فورس کی نہیں ہوگی

آصف سلیم نے کہا کہ مستقبل کی جنگ انفرادی سروسز کی جنگ نہیں ہوگی۔

اس جنگ میں تمام افواج کو ریئل ٹائم میں ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔

ان معلومات کو ذہانت سے سمجھنا اور مختلف سروسز کے درمیان ڈی کنفلکٹ کرنا بھی ضروری ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میری ٹائم ایریا، فضائی حدود اور زمینی جنگی میدان میں بڑی تعداد میں معلومات سامنے آئیں گی جن میں غیر ضروری اور غیر مطلوب معلومات بھی شامل ہوں گی۔

ان معلومات کو فلٹر کرنا اور مختلف فورسز کی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ رکھنا ضروری ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نیوی اور ایئر فورس کا مستقبل کی جنگ میں چولی دامن کا ساتھ ہوگا۔

ایئر فورس ممکنہ طور پر دشمن سے ابتدائی طور پر رابطہ کرنے والی اہم فورس ہوگی جبکہ سمندر میں بھی اس کا پاکستان کی میری ٹائم وارفیئر میں انتہائی اہم کردار ہوگا۔

ان کے مطابق مکمل نیٹ ورکنگ کا نظام سمندر، فضا اور زمینی سرحد تینوں پر ضروری ہے۔

جہاں بھی زمینی، فضائی یا بحری فورس دشمن سے رابطے میں ہوں گی، انہیں تمام متعلقہ معلومات آپس میں ذہانت سے شیئر کرنے کی صلاحیت درکار ہوگی۔

سمندر کی 24 گھنٹے نگرانی مستقبل کی جنگ میں فیصلہ کن ہوگی

کموڈور ریٹائرڈ آصف سلیم نے کہا کہ مستقبل کی جنگ میں صورتحال کو مسلسل دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت انتہائی اہم ہوگی۔

جس طرح زمینی سرحد پر یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ بھارتی جانب سے کون سے طیارے آ رہے ہیں، فوجی فارمیشنز کہاں حرکت کر رہی ہیں اور پاکستانی فورسز کو کس مقام پر مدد درکار ہے، اسی طرح سمندر میں بھی مسلسل مکمل نگرانی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے پورے میری ٹائم آپریشنل علاقے میں 24 گھنٹے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کہاں کیا موجود ہے، کون سا ہدف اہم ہے اور کس چیز کو نشانہ بنانا ہے۔

یہ تمام کارروائی باہمی رابطے اور ایک مکمل نیٹ ورکڈ فورس کے طور پر ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق اگر پاکستان سمندر میں اس سطح کی مکمل صورتحال سے آگاہی اور نیٹ ورکنگ یقینی بنا لے تو مستقبل کے کسی بھی بحری چیلنج سے نمٹنے میں اسے بڑی مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے: معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پروقار تقریب: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بہادری کی نئی تاریخ رقم کی، وزیراعظم شہباز شریف

انٹرویو کے آخری حصے میں میزبان نے پاکستان کے قریب سمندری علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ خطے میں بحری تناؤ میں اضافے سے پاکستان کس طرح متاثر ہو رہا ہے اور بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان نیوی کا کردار کیا بنتا ہے۔ فراہم کردہ گفتگو اسی سوال پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp