پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے جہاں عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے، وہیں ارکان پارلیمنٹ بھی بڑھتی قیمتوں اور اس کے نتیجے میں مہنگائی کے خدشات پر تشویش کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو عوام کے لیے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے پالیسی پر نظرثانی اور عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
رکن پارلیمنٹ عابد شیر علی نے کہا کہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر عوام کی طرح پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے سے متعدد مسائل جڑے ہوئے ہیں جن کا حل ضروری ہے، حکومت اور متعلقہ وزیر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باوجود حکومت کی جانب سے اس معاملے پر وہ سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی جس کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں اور حکومت کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں بے قابو مگر پڑوسی ممالک میں صورتحال کیا ہے؟
سینیٹر پلوشہ خان نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کو بنیاد بنا کر ہر مرتبہ پٹرول مہنگا کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام میں شدید بے چینی اور ناراضی پائی جاتی ہے، اس لیے وزیراعظم کو خود اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔
رکن قومی اسمبلی شہرام تراکئی نے کہا کہ انہیں پیٹرول کی تازہ قیمت کا علم نہیں، تاہم انہوں نے سنا ہے کہ پیٹرول تقریباً 12 سے 13 روپے مہنگا ہوا ہے۔ اپوزیشن کے کردار سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ٹی وی پروگراموں اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے آواز اٹھانے کے ساتھ اسمبلی میں بھی احتجاج کرتی ہے، جس کا ریکارڈ دیکھا جاسکتا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نورالحق قادری نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو ’غفلت مجرمانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو دیگر تمام معاملات کے ساتھ اہمیت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بتدریج بڑھائی جا رہی ہیں اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بہت جلد فی لیٹر قیمت ایک ہزار روپے تک پہنچنے کی بات ہونے لگے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب رکن پارلیمنٹ ناصر بٹ نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان موجودہ حالات سے نکل کر بہتر پوزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے اور دنیا میں پاکستان کی بات سنی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی حالات بھی ان شاء اللہ بہتر ہوں گے، جبکہ ایران سے تیل اور گیس کے حصول کے امکانات بھی موجود ہیں، جو مستقبل میں توانائی کے مسائل پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔













