پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں بے قابو مگر پڑوسی ممالک میں صورتحال کیا ہے؟

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں فی لیٹر قیمت قریباً 341 روپے سے بڑھ کر 364.35 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ خطے میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور امریکہ ایران تنازع سے پیدا ہونے والی سپلائی کی غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں حکومت نے 9 ستمبر 2026 سے پیٹرول کی قیمت میں مزید 5.58 روپے فی لیٹر اضافہ کرتے ہوئے اسے 364.35 روپے فی لیٹر مقرر کیا ہے۔ ایک روز قبل پیٹرول 358.77 روپے فی لیٹر تھا، جبکہ 22 اگست کو اس کی قیمت 341.59 روپے فی لیٹر تھی۔ یوں 22 اگست سے 9 ستمبر تک پیٹرول قریباً 22.76 روپے فی لیٹر مہنگا ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں:حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اعلان، نئی قیمتیں جاری

حکومت نے حالیہ عرصے میں عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر روزانہ نظرثانی کا طریقہ کار بھی اختیار کیا ہے۔ تازہ اضافے کے حوالے سے عالمی ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کے مغرب میں افغانستان میں بھی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پیٹرول کی قیمت بڑھی ہے۔ کابل میونسپلٹی کی 27 اگست کی قیمت فہرست کے مطابق 92 آکٹین پیٹرول کی قیمت 87 افغانی فی لیٹر مقرر کی گئی، جو یکم اگست کی 78 افغانی قیمت کے مقابلے میں قریباً 9 افغانی زیادہ ہے۔

افغانستان میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، خطے میں جاری بحران اور درآمدی سپلائی پر دباؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق افغانستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ بیرونی ذرائع سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔

9 ستمبر کے دستیاب ایکسچینج ریٹ کے مطابق ایک افغان افغانی قریباً 4.31 پاکستانی روپے کے برابر تھا، اس حساب سے 87 افغانی کا پیٹرول قریباً 375 پاکستانی روپے فی لیٹر بنتا ہے۔

پاکستان کے مشرقی پڑوسی بھارت میں صورتحال نسبتاً مختلف ہے۔ نئی دہلی میں پیٹرول کی قیمت گزشتہ کئی دنوں سے 102.12 بھارتی روپے فی لیٹر پر برقرار ہے۔

تازہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 30 اگست سے 9 ستمبر تک نئی دہلی میں پیٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ تاہم بھارت کے مختلف بڑے شہروں میں قیمت مختلف ہے؛ ممبئی، کولکاتا، چنئی اور حیدرآباد میں نرخ نئی دہلی سے زیادہ ہیں۔

مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ ہوئی تو حکومت گراؤ تحریک شروع کردیں گے، عنایت اللہ خان

بھارت میں قیمتیں مستحکم رہنے کے باوجود عالمی خام تیل کی قیمت میں اضافے کا دباؤ موجود ہے۔ بھارتی خام تیل کی اوسط درآمدی قیمت حالیہ دنوں میں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے مستقبل میں مقامی پیٹرولیم قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی دہلی کی موجودہ قیمت کو پاکستانی روپے میں تبدیل کیا جائے تو یہ قریباً 298 روپے فی لیٹر بنتی ہے، تاہم یہ موازنہ صرف شرحِ مبادلہ کی بنیاد پر ہے اور مختلف ممالک کے ٹیکس، سبسڈی اور قیمت مقرر کرنے کے نظام اس میں شامل نہیں۔

بنگلہ دیش نے ستمبر کے لیے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تبدیل نہیں کیں۔ حکومتی فیصلے کے مطابق پیٹرول 140 ٹکا فی لیٹر اور آکٹین 145 ٹکا فی لیٹر پر برقرار ہے، جبکہ ڈیزل 115 اور مٹی کا تیل 135 ٹکا فی لیٹر ہے۔

بنگلہ دیش میں یہ قیمتیں یکم ستمبر سے پورے ماہ کے لیے برقرار رکھی گئی ہیں اور یہ مسلسل چوتھا مہینہ ہے جس کے دوران بنیادی خوردہ ایندھن کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

موجودہ شرحِ مبادلہ کے مطابق ایک بنگلہ دیشی ٹکا قریباً 2.25 پاکستانی روپے کے برابر ہے، اس حساب سے بنگلہ دیش میں 140 ٹکا کا پیٹرول قریباً 315 روپے پاکستانی فی لیٹر بنتا ہے، جبکہ 145 ٹکا کا آکٹین قریباً 327 روپے پاکستانی بنتا ہے۔

چین میں پیٹرول کی اوسط قیمت قریباً 8.68 چینی یوآن فی لیٹر بتائی جاتی ہے، جو پاکستانی روپے میں قریباً 358 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ موجودہ شرحِ مبادلہ میں ایک چینی یوآن قریباً 41.3 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران چین میں پیٹرول کی قیمت قریباً 8.60 سے 8.70 یوآن فی لیٹر کے آس پاس رہی ہے۔ چین کی جانب سے توانائی کی طلب میں کمی اور ریفائنڈ مصنوعات کی برآمدات سے متعلق پالیسیوں سمیت کئی عوامل ایشیائی ایندھن مارکیٹ پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

خطے میں ایران کا پیٹرول قیمت کے لحاظ سے سب سے منفرد معاملہ ہے۔ ایران میں پیٹرول کی قیمتیں سبسڈی اور کوٹہ سسٹم کے تحت مقرر کی جاتی ہیں۔

تازہ حکومتی فیصلے کے مطابق 110 لیٹر ماہانہ کوٹے سے زائد پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کے لیے تیسرے درجے کی قیمت یکمشت دگنی کر دی گئی ہے۔ اس اضافی پیٹرول کی قیمت اب 100,000 ایرانی ریال فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ 50,000 ریال تھی۔

عام صارف کے لیے پہلے 60 لیٹر کی قیمت 15,000 ریال فی لیٹر اور اگلے 50 لیٹر کی قیمت 30,000 ریال فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔ یعنی پہلے 110 لیٹر کے کوٹے میں بنیادی سبسڈی شدہ نرخ تبدیل نہیں ہوئے، اصل اضافہ صرف 110 لیٹر سے زیادہ استعمال کرنے والوں پر لاگو ہوا ہے۔

مزید پڑھیں:پیٹرولیم لیوی ختم ہوگی یا نہیں؟ حکومت اور جماعت اسلامی وفود میں مذاکرات، بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ

ایرانی حکومت نے یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی کھپت، رسد اور طلب میں فرق اور ملک کو درپیش معاشی دباؤ کے تناظر میں کیا ہے۔ ایران میں پیٹرول کی کھپت حالیہ عرصے میں ملکی پیداوار کی صلاحیت سے بڑھ گئی ہے، جس کے باعث اضافی پیٹرول درآمد کرنے کی ضرورت بھی پیدا ہوئی ہے۔

پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے عالمی قیمتوں میں ہر بڑا اضافہ مقامی پیٹرول کی قیمت پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت اور بنگلہ دیش نے فی الحال مقامی قیمتوں کو نسبتاً مستحکم رکھا ہوا ہے، جبکہ افغانستان میں درآمدی لاگت اور علاقائی سپلائی کی صورتحال قیمتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

خطے کی مجموعی تصویر یہ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ سب ممالک کے لیے ایک مشترکہ دباؤ ہے، تاہم ہر ملک کا سبسڈی، ٹیکس، درآمدی پالیسی اور قیمت مقرر کرنے کا نظام مختلف ہونے کے باعث صارفین پر اس کا اثر یکساں نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp