پاکستانی روپیہ بہتری کی سیڑھیاں مسلسل چڑھتا ہوا، آہستہ لیکن مستقل

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی روپے نے جمعرات کے روز انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی معمولی مضبوطی کا رجحان برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایک پیسہ بھی بہت ہے‘: امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ جاری

انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری روز کے اختتام پر روپیہ 277.35 پر بند ہوا جو گزشتہ روز کے مقابلے میں ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے کا اضافہ ہے۔

خیال رہے کہ بدھ کو پاکستانی روپیہ 277.36 فی ڈالر پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر جمعرات کو کرنسی مارکیٹس محتاط ٹریڈنگ میں مجموعی طور پر مستحکم رہیں کیونکہ سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافے اور عالمی بانڈ ییلڈز کے اثرات کا جائزہ لے رہے تھے جبکہ ین کی زبردست تیزی بھی امریکی پی پی آئی اور افراطِ زر کے اعداد و شمار سے قبل تھوڑی سست پڑ گئی۔

توانائی کی قیمتوں کے باعث بڑھنے والے تازہ افراطِ زر کے دباؤ نے عالمی بانڈ ییلڈز کو دوبارہ اوپر کی جانب گامزن کر دیا جہاں بینچ مارک 10 سالہ ٹریژری ییلڈز سنہ 2023 کے بعد اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں جبکہ طویل مدتی بانڈز کی بائی بیک اسکیم بھی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔

ڈالر کو کچھ معمولی سہارا ملا جس سے یورو اور برطانوی پاؤنڈ اسٹرلنگ بالترتیب 1.1633 ڈالر اور 1.3547 ڈالر پر معمولی کمزوری کا شکار رہے۔

اسی وجہ سے جاپانی کرنسی کی سات ماہ کی نئی بلند ترین سطح کی جانب پیش قدمی بھی رک گئی، اور ین معمولی کمزوری کے ساتھ 153.70 فی ڈالر پر ٹریڈ ہوا کیونکہ آئندہ ہفتے متوقع بینک آف جاپان کی شرح سود میں اضافے سے قبل یہ زیادہ تر ایک محدود دائرے میں ہی رہا۔

ڈالر انڈیکس جو کرنسیوں کے ایک مجموعے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر ناپتا ہے آخری بار 98.81 پر ٹریڈ ہوا، جو تین ہفتوں کی کم ترین سطح سے کچھ فاصلے پر ہے۔

مزید پڑھیے: خراماں خراماں: روپے کی قدر مسلسل مضبوطی کی سمت گامزن، جانیے یہ سلسلہ کب سے جاری ہے؟

اب مارکیٹ کی توجہ مکمل طور پر ہفتے کے اختتام پر جاری ہونے والے میکرو اکنامک اعداد و شمار پر مرکوز ہو چکی ہے۔ مارکیٹ کی نظریں بعد ازاں امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار پر ہوں گی جن میں جمعرات کو پروڈیوسر پرائسز اور جمعہ کو سی پی آئی شامل ہیں جو 15 سے 16 ستمبر کو ہونے والے ایف او ایم سی اجلاس سے قبل آخری اہم ڈیٹا ریلیزز ہوں گی۔

کرنسی کی ٹکر کا اشاریہ

کرنسی کی برابری کے ایک اہم اشاریے تیل کی قیمتوں میں بھی جمعرات کو استحکام رہا جہاں برینٹ کروڈ کے 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کرنے کے بعد ٹریڈرز مزید سپلائی میں خلل کے خدشات کے پیشِ نظر تیار تھے کیونکہ ایران اور امریکا نے 6 ماہ سے جاری تنازع کے آغاز کے بعد بحری جہاز رانی پر اب تک کے سب سے بڑے حملے کیے۔

مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں اضافہ، ڈالر کتنے کا ہوگیا؟

برینٹ کروڈ فیوچرز 0256 جی ایم ٹی تک 0.1 فیصد معمولی کمی کے ساتھ 101.10 ڈالر فی بیرل پر رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp