افغان ڈاکٹر کی پاکستان میں ہلاکت، پڑھے لکھے نوجوان بھی فتنہ الخوارج میں شامل ہونے لگے

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان ڈاکٹر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد فتنہ الخوارج کے ساتھ شامل ہوکر پاکستان میں فورسز کے خلاف لڑائی کے دوران ہلاک ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے،فتنہ الخوارج کو دشمن ملک سے وسائل مل رہے ہیں، وزیراعظم شہبازشریف

اطلاعات کے مطابق عبیداللہ سعید نے رواں سال جنوری میں کابل سے ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی تھی اور اس کے والد بھی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔

عبیداللہ سعید کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر کے گاؤں شاہی قلعہ سے بتایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ فتنہ الخوارج کے دیگر جنگجوؤں کے ہمراہ پاکستان میں داخل ہوا تھا۔

عبیداللہ سعید 3 روز قبل ضلع کرم میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران اپنے 3 ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

تعلیم یافتہ افغان نوجوانوں کی مسلح گروہوں میں شمولیت کا معاملہ

عبیداللہ سعید کا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان سے سرگرم مسلح گروہوں کی پاکستان میں کارروائیوں اور ان میں افغان شہریوں کی شمولیت کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

عبیداللہ کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات میں خاص طور پر یہ پہلو نمایاں ہوتا ہے کہ اس نے حال ہی میں طب کی تعلیم مکمل کی تھی جس کے بعد وہ مسلح گروہ کا حصہ بن گیا۔

مزید پڑھیے: افغان طالبان کا فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کا دعویٰ جھوٹا، دونوں کا گٹھ جوڑ برقرار

طالبان حکومت کے دور میں افغانستان میں مسلح گروہوں کی مبینہ سرگرمیوں اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی ان میں شمولیت باعث تشویش قرار دی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نماز کی پابندی نے ہمایوں سعید کی زندگی کیسے بدل دی؟ اداکار کا بڑا انکشاف

انگلش کپتان ہیری کین فٹ بال کے بہترین کھلاڑی قرار، بیلن ڈی اور اپنے نام کرلیا

پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کے مثبت نتائج، اڑیال کی آبادی مستحکم ہونے لگی

مائیکروسافٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی پیکیج دینے کا اعلان

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں