بلوچستان کے پرسکون پہاڑ، صنوبر کے گھنے جنگلات اور ٹھنڈی ہوائیں آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن کا خواب دیکھنے اور اسے حقیقت میں بدلنے والے عظیم رہنما قائداعظم محمد علی جناح کی آخری یادوں کی گواہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: زیارت کراس حملہ: ٹی ٹی پی نے کارروائی کی، ذمہ داری بی ایل اے نے کیوں قبول کی؟ باہمی تعاون پر سوالات اٹھ گئے
یہی زیارت وہ تاریخی مقام ہے جہاں پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔
قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم کی صحت مسلسل خراب رہنے لگی تو ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں جولائی 1948 میں بلوچستان کے پُرفضا مقام زیارت منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے موجودہ قائداعظم ریزیڈنسی میں قیام کیا۔
زیارت کی یہ تاریخی عمارت آج بھی اس دور کی یادیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ لکڑی سے تعمیر کی گئی ریزیڈنسی، اس کے خاموش کمرے، قائداعظم کے زیرِ استعمال رہنے والی اشیا اور اردگرد بلند صنوبر کے درخت آنے والوں کو تاریخ کے اس دور میں لے جاتے ہیں جب پاکستان کے بانی اپنی زندگی کے آخری ایام یہاں گزار رہے تھے۔
بیماری کے باوجود ریاستی امور سے وابستگی
شدید علالت کے باوجود قائداعظم نے ملکی معاملات سے خود کو مکمل طور پر الگ نہیں کیا۔ بیماری کے باعث جسمانی کمزوری کے باوجود وہ ریاستی امور میں دلچسپی لیتے رہے اور اہم معاملات پر حکام سے مشاورت بھی کرتے رہے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں زیارت کراس حملہ، ٹی ٹی پی کا ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ، بھارتی میڈیا کی کوریج پر بھی سوالات
زیارت میں قائداعظم کا قیام تقریباً 2 ماہ جاری رہا۔ اس عرصے کے دوران یہ پرسکون پہاڑی مقام ان کی زندگی کے آخری سفر کا ایک اہم حصہ بن گیا۔ بعد ازاں قائداعظم کراچی واپس روانہ ہوئے جہاں 11 ستمبر 1948 کو ان کا انتقال ہوگیا۔
قائداعظم کی یادوں کا تاریخی ورثہ
قائداعظم کی وفات کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن زیارت آج بھی ان کی یادوں سے جڑی ہوئی ہے۔ قائداعظم ریزیڈنسی نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک اہم تاریخی ورثہ ہے۔
یہاں کھڑے صنوبر کے درخت، خاموش پہاڑ اور ریزیڈنسی کی دیواریں آج بھی ایک ایسی داستان سناتی محسوس ہوتی ہیں جو پاکستان کے قیام، اس کے بانی کی جدوجہد اور ان کی زندگی کے آخری ایام سے جڑی ہے۔
مزید پڑھیں: زیارت کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشتگرد ہلاک، 9 پولیس اہلکار شہید
زیارت کی یہ سرزمین آج بھی خاموش ہے مگر اس خاموشی میں قائداعظم کی آخری سانسوں، ان کی جدوجہد اور پاکستان کے مستقبل کے خوابوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔













