کسی کو مرنے میں مدد دینا کن ممالک میں قانونی ہے؟ موت منتخب کرنے کے قوانین پر ایک نظر

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا میں 30 کروڑ سے زیادہ افراد ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں کسی نہ کسی شکل میں معاونت سے موت کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا بڑھتی عمر کی رفتار سست کی جا سکتی ہے؟ نئی تحقیق سے اہم اشارے

سنہ2015  میں برطانوی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اس معاملے پر آخری ووٹنگ کے بعد سے کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اسپین اور آسٹریا سمیت کئی ممالک نے معاونت سے موت کے قوانین متعارف کرائے ہیں۔ ان میں بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں یہ سہولت صرف ایسے مریضوں تک محدود نہیں جو آخری مرحلے کی بیماری میں مبتلا ہوں۔

اگرچہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کسی شخص کو طبی مدد کے ذریعے موت تک پہنچانے کی اجازت نہیں تاہم جن ممالک میں معاونت سے موت قانونی ہے وہاں اس کے لیے شرائط اور طریقہ کار ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔

امریکا

امریکا کی 50 ریاستوں میں سے 30 ریاستوں کے علاوہ دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بھی معاونت سے موت قانونی ہے۔ بعض ناقدین اس عمل کے لیے ’معاونت سے خودکشی‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

ریاست اوریگن سنہ 1997 میں ان اولین مقامات میں شامل تھی جہاں بعض مریضوں کو اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے طبی مدد فراہم کرنے کی اجازت دی گئی۔ تقریباً 30 سال کا تجربہ رکھنے والی اوریگن کی قانون سازی کو امریکا کی دیگر ریاستوں میں متعارف کرائے گئے قوانین کے لیے ایک نمونہ بھی سمجھا جاتا ہے۔

اوریگن میں یہ سہولت ایسے بالغ افراد کے لیے ہے جو کسی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوں، ذہنی طور پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور جن کے بارے میں توقع ہو کہ وہ 6 ماہ کے اندر انتقال کر جائیں گے۔ درخواست کی 2 ڈاکٹروں سے تصدیق بھی ضروری ہے۔

سنہ1997  سے اب تک اوریگن میں 5 ہزار 520 افراد کو مہلک دوا لینے کا نسخہ دیا جا چکا ہے جبکہ ان میں سے 3 ہزار 691 افراد کی موت واقع ہوئی۔

سال2025  کی ایک رپورٹ کے مطابق معاونت سے موت کی درخواست کرنے والے 61 فیصد افراد کینسر میں مبتلا تھے، 14 فیصد کو اعصابی بیماریاں، مثلاً موٹر نیورون بیماری جبکہ 11 فیصد کو دل کی بیماری لاحق تھی۔

گزشتہ سال مہلک دوا استعمال کرنے والے 400 افراد میں سے 89 فیصد نے زندگی پر اختیار ختم ہونے کو اپنی بڑی تشویش قرار دیا۔ 65 فیصد نے وقار ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔47 فیصد کو جسمانی افعال پر قابو کھونے کی فکر تھی۔43 فیصد نے خاندان اور دوستوں پر بوجھ بننے کا خدشہ ظاہر کیا۔28 فیصد نے درد پر مناسب قابو نہ پانے کو وجہ بتایا۔اور 4 فیصد نے علاج کے مالی اخراجات کو تشویش قرار دیا۔

اوریگن سمیت امریکا کی ان ریاستوں میں جہاں معاونت سے موت قانونی ہے مہلک دوا مریض کو خود استعمال کرنا ہوتی ہے۔ انگلینڈ اور ویلز میں زیر غور تجاویز میں بھی یہی طریقہ تجویز کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: ’کچھ آلودگیاں تو اچھی ہوتی ہیں‘، جانیے کام اور کھیل کے دوران مٹی کا کمال

اوریگن میں تقریباً ہر 3 افراد میں سے ایک ایسا ہے جسے مہلک دوا کا نسخہ ملنے کے باوجود وہ دوا استعمال نہیں کرتا۔

انگلینڈ اور ویلز میں معاونت سے موت کے حامیوں کے لیے اوریگن اس لیے اہم مثال ہے کہ وہاں سنہ 1997 میں قانون بننے کے بعد سے یہ سہولت اب بھی آخری مرحلے کی جان لیوا بیماری میں مبتلا بالغ افراد تک محدود ہے۔

تاہم مخالفین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ اس قانون کی کچھ شرائط نرم کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر ریاست سے باہر کے افراد کے لیے رہائش کی شرط ختم کر دی گئی ہے جس کے بعد دوسری ریاستوں کے لوگ بھی وہاں اس سہولت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ معاونت سے ہونے والی اموات کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

کینیڈا

کینیڈا کو اکثر معاونت سے موت کے مخالفین اس بحث میں ’آہستہ آہستہ دائرہ وسیع ہونے‘ کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

کینیڈا میں طبی معاونت سے موت کا نظام سنہ 2016 میں متعارف کرایا گیا تھا اور ابتدا میں یہ صرف آخری مرحلے کی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے تھا۔

سنہ2021  میں قانون میں تبدیلی کے بعد اسے ایسے افراد تک بھی توسیع دی گئی جو کسی ناقابلِ علاج بیماری یا معذوری کے باعث ’ناقابل برداشت تکلیف‘ میں مبتلا ہوں۔

اس سہولت کو ذہنی بیماری میں مبتلا افراد تک بھی توسیع دی جانی تھی تاہم اس اقدام کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ قانون کا دائرہ وسیع ہونے سے معذور اور دیگر کمزور افراد کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ کینیڈا میں طبی معاونت سے ہونے والی اموات کی تعداد میں بھی ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔

اب کینیڈا میں تقریباً ہر 20 میں سے ایک موت طبی معاونت سے واقع ہوتی ہے جبکہ اوریگن میں یہ شرح تقریباً ہر 100 میں سے ایک موت ہے۔

یورپ

یورپ کے 6 ممالک سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، بیلجیئم، لکسمبرگ، اسپین اور آسٹریا میں کسی نہ کسی شکل میں معاونت سے موت قانونی ہے۔

انگلینڈ اور ویلز میں زیر غور تجاویز کے برعکس ان تمام ممالک میں یہ سہولت صرف آخری مرحلے کی جان لیوا بیماری تک محدود نہیں۔

سوئٹزرلینڈ نے سنہ 1942 میں معاونت سے خودکشی کو قانونی حیثیت دے کر دنیا کے اولین ممالک میں اپنا نام درج کرایا۔ یہ ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں غیر ملکی شہری بھی بعض تنظیموں کے ذریعے معاونت سے موت حاصل کر سکتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں کام کرنے والی تنظیم ’ڈیگنیٹاس‘ کے ذریعے گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران 600 سے زیادہ برطانوی شہری موت کی سہولت حاصل کر چکے ہیں جن میں گزشتہ سال 43 افراد شامل تھے۔

سوئٹزرلینڈ میں مہلک دوا مریض کو خود استعمال کرنا ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: شنگلز کیا بیماری ہے اور اس سے کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ ویکسین کے دل کے لیے بھی فوائد سامنے آگئے

نیدرلینڈز اور بیلجیئم نے 20 سال سے زیادہ عرصہ قبل ناقابل علاج بیماری کے باعث ناقابل برداشت تکلیف میں مبتلا مریضوں کے لیے معاونت سے موت کو قانونی حیثیت دی تھی۔ بعد ازاں ان قوانین کا دائرہ ذہنی صحت کے مسائل تک بھی بڑھایا گیا۔

ان دونوں ممالک میں بچوں کو بھی مخصوص حالات میں یہ سہولت حاصل ہے جس کی اجازت دینے والے یہ یورپ کے واحد ممالک ہیں۔ دونوں ملکوں میں ڈاکٹر کی جانب سے موت واقع کرنے یعنی رضاکارانہ طبی موت کی بھی اجازت ہے۔

حالیہ برسوں میں اسپین اور آسٹریا نے بھی جان لیوا بیماری اور ناقابل برداشت تکلیف دونوں صورتوں میں معاونت سے موت کو قانونی حیثیت دی ہے۔

آسٹریا میں مریض کو مہلک دوا خود استعمال کرنا ہوتی ہے جبکہ اسپین میں طبی ماہر بھی دوا دے سکتا ہے۔

ادھر برطانوی ارکان پارلیمنٹ ایک بار پھر انگلینڈ اور ویلز میں معاونت سے موت کو قانونی حیثیت دینے کی تجاویز پر بحث کر رہے ہیں۔

برطانوی جزائر میں جرسی کا منفرد قانون

برطانوی جزائر کے ایک حصے جرسی میں پہلے ہی معاونت سے موت کو قانونی حیثیت دی جا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دانتوں کی صحت کا راز صرف برش نہیں، آپ کی خوراک بھی اہم ہے

جولائی میں جرسی کے متعلقہ قانون کو شاہی منظوری مل گئی۔ ویسٹ منسٹر اور اسکاٹ لینڈ کے برعکس یہ قانون جرسی کی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔

جرسی حکومت کے مطابق معاونت سے موت کی سروس قائم کرنے میں تقریباً 18 ماہ لگ سکتے ہیں اور پہلی معاونت سے موت اگلے سال کے آخر میں متوقع ہے۔

نام نہاد ’موت کے سیاحت‘ کے خدشے کو روکنے کے لیے ایک سال کی رہائش کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔

جرسی کے قانون کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اہل افراد کو اپنی زندگی ختم کرنے کے طریقے کا انتخاب کرنے کی اجازت ہوگی۔

وہ چاہیں تو ڈاکٹر کے ذریعے رگ میں مہلک دوا لگوا سکیں گے۔ ایسا طریقہ اسپین، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے بیشتر حصوں میں بھی اختیار کیا جاتا ہے۔

یہ طریقہ عملی طور پر رضاکارانہ طبی موت کے زمرے میں آتا ہے اور جہاں دونوں طریقوں کی اجازت ہو وہاں یہ معاونت سے موت کا زیادہ مقبول طریقہ بنتا جا رہا ہے۔

اس کے برعکس ویسٹ منسٹر، اسکاٹ لینڈ اور آئل آف مین میں زیر غور قوانین میں موت کے لیے دوا مریض کو خود استعمال کرنا ہوگی، جس کا عام طور پر مطلب مہلک دوا نگلنا ہے۔

آئل آف مین میں معاونت سے موت کا قانون گزشتہ سال مارچ میں وہاں کی پارلیمنٹ ’ٹائن والڈ‘ نے منظور کیا تھا۔ تاہم برطانیہ کے شاہی زیر انتظام علاقے کی حیثیت رکھنے والے جرسی کی طرح اسے بھی قانون بننے کے لیے شاہی منظوری درکار تھی۔

برطانوی وزارت انصاف نے رواں سال اس کی منظوری دینے سے انکار کر دیا تاہم ٹائن والڈ نے اس کے بعد ترمیم شدہ قانون منظور کرکے دوبارہ برطانوی حکومت کو بھیج دیا ہے۔

اگر اسے شاہی منظوری مل جاتی ہے تو آئل آف مین میں یہ سروس اگلے سال فعال ہونے کی توقع ہے۔ وہاں معاونت سے موت حاصل کرنے کے لیے 5 سال کی رہائش کی شرط رکھی گئی ہے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ

گزشتہ چند برسوں میں آسٹریلیا کے بیشتر حصوں میں رضاکارانہ معاونت سے موت کو قانونی حیثیت دی جا چکی ہے۔

گزشتہ ماہ شمالی خطے کی پارلیمنٹ نے بھی رضاکارانہ معاونت سے موت کی قانون سازی منظور کرلی، جس کے بعد آسٹریلیا کا یہ آخری حصہ بن گیا جہاں یہ قانون منظور ہوا۔

نیوزی لینڈ میں یہ سہولت ایسے مریضوں کے لیے ہے جو جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوں اور جن کے بارے میں توقع ہو کہ وہ 6 ماہ کے اندر انتقال کر جائیں گے۔

آسٹریلیا کے بیشتر حصوں میں اعصابی نظام کو بتدریج متاثر کرنے والی بیماریوں کے بعض مریضوں کے لیے یہ مدت 12 ماہ تک ہے۔

دونوں ممالک میں مریض خود بھی مہلک دوا استعمال کر سکتا ہے، تاہم بعض حالات میں ڈاکٹر یا نرس بھی یہ دوا دے سکتے ہیں عموماً رگ میں انجیکشن کے ذریعے۔

مزید پڑھیں: کونسی غذائیں جسم کی خوشبو کو پرکشش بناتی ہیں؟

یوں دنیا بھر میں معاونت سے موت کے قوانین کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ کہیں یہ سہولت صرف آخری مرحلے کی جان لیوا بیماری تک محدود ہے کہیں ناقابل برداشت تکلیف میں مبتلا افراد بھی اس کے اہل ہیں جبکہ بعض ممالک میں طبی ماہرین کو خود مہلک دوا دینے کی اجازت بھی حاصل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp