غذا، ورزش اور بعض ادویات جسمانی عمر بڑھنے کے عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان سے انسان کی عمر بڑھنے کا عمل براہ راست سست ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بڑھتی عمر میں چلنا کیوں مشکل ہو جاتا ہے؟ نئی تحقیق نے حیران کن وجہ بتادی
عمر بڑھنا ایک قدرتی اور ناگزیر عمل ہے تاہم تقریباً ہر شخص چاہتا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ بھی زیادہ عرصے تک صحت مند اور توانا رہے۔
سائنس میں اس حوالے سے صرف کسی شخص کی اصل عمر ہی نہیں بلکہ اس کی حیاتیاتی عمر بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔ حیاتیاتی عمر سے مراد جسم کی وہ جسمانی اور حیاتیاتی کیفیت ہے جو اس بات کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہے کہ کوئی شخص کس رفتار سے عمر رسیدہ ہو رہا ہے۔
طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں خون میں موجود بعض حیاتیاتی اشاریوں کا جائزہ لے کر یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ غذا، طرزِ زندگی اور بعض ادویات عمر بڑھنے کے عمل سے وابستہ حیاتیاتی تبدیلیوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔
ڈی این اے سے حیاتیاتی عمر کا اندازہ کیسے لگایا جاتا ہے؟
محققین حیاتیاتی عمر جانچنے کے لیے خون میں موجود ایسے حیاتیاتی اشاریوں کا استعمال کرتے ہیں جنہیں ایپی جینیٹک کلاک کہا جاتا ہے۔
یہ نظام ڈی این اے پر موجود مخصوص کیمیائی تبدیلیوں خصوصاً میتھائل گروپس کا جائزہ لیتا ہے۔ تحقیق سے پہلے ہی معلوم ہو چکا ہے کہ انسان کی زندگی کے مختلف مراحل میں ڈی این اے سے منسلک یہ کیمیائی نشانات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
نئی تحقیق میں دیکھا گیا کہ بعض غذائی عادات، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں اور ادویات ڈی این اے کی ان تبدیلیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اور ممکنہ طور پر یہ اشارہ دے سکتی ہیں کہ جسم کس رفتار سے عمر رسیدہ ہو رہا ہے۔
بحیرہ روم کی طرز کی غذا اور ورزش کے مثبت اثرات
محققین نے عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرنے سے متعلق 51 مطالعات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو یکجا کیا۔ ان مطالعات میں عمر بڑھنے سے متعلق ڈی این اے کی 110 سے زیادہ حیاتیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں 2 طرز زندگی کی تبدیلیاں خاص طور پر مؤثر نظر آئیں۔
ان میں ایک صحت مند غذا کا استعمال تھا جس میں بحیرہ روم کی طرز اور کم کاربوہائیڈریٹ یا کم چکنائی والی غذا شامل تھی جبکہ دوسری باقاعدہ ورزش تھی۔
مزید پڑھیے: بڑھتی عمر کا چہرہ قبول کرنا مشکل کیوں، اس کو جاذب نظر کیسے بنایا جائے؟
تحقیق کے مطابق ان دونوں اقدامات سے ایپی جینیٹک عمر بڑھنے کے بعض اشاریوں میں کمی دیکھی گئی۔
بعض ادویات کے اثرات زیادہ نمایاں
تحقیق میں بعض ادویات کے استعمال کے ساتھ عمر بڑھنے سے متعلق حیاتیاتی اشاریوں میں اس سے بھی زیادہ نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں۔
ان میں میٹفارمن شامل ہے جو ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج میں عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
اسی طرح سیماگلوٹائڈ، جو ٹائپ ٹو ذیابیطس اور وزن پر قابو پانے کے لیے استعمال ہونے والی دوا ہے اور اینٹی ٹی این ایف ادویات جو جسم میں سوزش کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں بھی 16 مختلف ایپی جینیٹک کلاک اشاریوں میں عمر سے متعلق پیمائشوں میں نمایاں کمی سے وابستہ پائی گئیں۔
لندن ری جنریٹو انسٹی ٹیوٹ کی جینیاتی انجینیئر اور چیف لانجیویٹی افسر شبنم اُنلوئشلر جو تحقیق میں شامل نہیں تھیں کے مطابق ادویات کے اثرات اوسطاً سب سے زیادہ نمایاں تھے جبکہ غذا اور طرزِ زندگی کی تبدیلیوں کے نتائج مختلف حیاتیاتی اشاریوں میں نسبتاً زیادہ مستقل نظر آئے۔
کیا اس کا مطلب ہے کہ یہ ادویات بڑھاپا روک دیتی ہیں؟
نہیں۔ تحقیق کے مرکزی مصنف اور ییل یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں نفسیات کے شعبے سے وابستہ محقق ڈاکٹر راگھو سہگل کے مطابق تحقیق کے نتائج دلچسپ ضرور ہیں لیکن ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مذکورہ اقدامات انسانی عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی اشاریے اس لیے مفید ہیں کہ ان کے ذریعے چند ماہ یا برسوں میں جسم میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے جبکہ بیماری یا موت جیسے نتائج جانچنے کے لیے کئی دہائیاں درکار ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: آخر انسان کب ’’بوڑھا‘‘ ہوتا ہے؟ عمر رسیدگی کی دلچسپ حقیقت سامنے آگئی
تاہم صرف ان اشاریوں میں تبدیلی کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کہ انسان زیادہ عرصے تک صحت مند رہے گا، بہتر جسمانی یا ذہنی کارکردگی برقرار رکھے گا یا زیادہ طویل زندگی گزارے گا۔
غذائی سپلیمنٹس کے بارے میں شواہد محدود
تحقیق میں غذائی سپلیمنٹس کے عمر بڑھنے کے عمل پر اثرات کے حوالے سے مضبوط شواہد نہیں ملے۔
ڈاکٹر سہگل کے مطابق سپلیمنٹس کے بارے میں دستیاب شواہد محدود اور غیر مستقل ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ سپلیمنٹس کسی صورت فائدہ مند نہیں۔ اگر کسی شخص میں کسی مخصوص غذائی جز کی کمی ہو یا کوئی طبی ضرورت موجود ہو تو سپلیمنٹ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم صحت مند افراد میں بڑھاپا روکنے یا سست کرنے کے حوالے سے بہت سے دعوے ایسے ہیں جن کے حق میں ابھی کافی سائنسی شواہد موجود نہیں۔
ماہرین کے مطابق عام طور پر سب سے پہلے متوازن غذا، ورزش، مناسب نیند اور بیماریوں سے بچاؤ اور ان کی بروقت تشخیص پر توجہ دینی چاہیے جبکہ سپلیمنٹس کا استعمال ضرورت کے مطابق ڈاکٹر سے مشورے کے بعد کیا جانا چاہیے۔
بیماریوں کے شکار افراد میں ادویات کا اثر زیادہ ہو سکتا ہے
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ صرف بڑھاپا روکنے کے مقصد سے میٹفارمن، سیماگلوٹائڈ یا اینٹی ٹی این ایف ادویات استعمال نہیں کرنی چاہییں۔
شبنم اُنلوئشلر کے مطابق تحقیق میں شامل بعض مطالعات مخصوص بیماریوں میں مبتلا افراد پر کیے گئے تھے۔ اس لیے ان میں دیکھی جانے والی تبدیلیاں ممکن ہے براہِ راست عمر بڑھنے کے عمل کو پلٹنے کے بجائے متعلقہ بیماری، جسمانی سوزش یا میٹابولک صحت میں بہتری کا نتیجہ ہوں۔
یعنی اگر کسی مریض کی ذیابیطس یا سوزش بہتر ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں عمر سے متعلق بعض حیاتیاتی اشاریے بھی بہتر ہو سکتے ہیں، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دوا نے خود بڑھاپا روک دیا ہے۔
صرف حیاتیاتی اشاریے صحت مند عمر کی ضمانت نہیں
ماہرین کے مطابق ایپی جینیٹک کلاک مستقبل میں عمر بڑھنے کے عمل کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں لیکن فی الحال ان کی اپنی حدود ہیں۔
اب اگلا اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان اشاریوں میں ہونے والی تبدیلیاں واقعی ایسے نتائج کی پیش گوئی کر سکتی ہیں جن کی انسان کی صحت پر عملی اہمیت ہو مثلاً جسمانی اور ذہنی صلاحیت کا زیادہ عرصے تک برقرار رہنا اور بیماریوں میں کمی یا صحت مند زندگی کے دورانیے میں اضافہ۔
ڈاکٹر سہگل کے مطابق کسی حیاتیاتی اشاریے میں کسی علاج کے نتیجے میں تبدیلی آ جانا اور یہ ثابت ہو جانا کہ اس علاج نے عمر بڑھنے کی رفتار سست کر دی ہے 2 الگ باتیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا نفسیاتی تھراپی عمر کے کسی بھی مرحلے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے؟
ان کے بقول موجودہ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ یہ حیاتیاتی پیمانے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا سراغ لگا سکتے ہیں یا نہیں۔ اب اگلا چیلنج یہ معلوم کرنا ہے کہ ان میں سے کون سی تبدیلیاں واقعی انسان کی صحت اور طویل عمر کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔
صحت مند عمر کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟
تحقیق کے مصنف ڈاکٹر سہگل کے مطابق فی الحال ایسا کوئی ایک طریقہ موجود نہیں جس کے بارے میں یہ ثابت ہو چکا ہو کہ وہ مجموعی طور پر انسانوں میں عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔
تاہم صحت مند عمر کے لیے سب سے مضبوط شواہد اب بھی نسبتاً سادہ اقدامات کے حق میں ہیں۔
ان میں تمباکو نوشی سے پرہیز، باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، مناسب نیند اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس کو قابو میں رکھنا شامل ہیں۔
شبنم اُنلوئشلر کے مطابق باقاعدہ ایروبک اور جسمانی طاقت بڑھانے والی ورزش، بحیرہ روم کی طرز کی متوازن غذا، صحت مند وزن برقرار رکھنا، تمباکو نوشی سے گریز، شراب نوشی محدود کرنا اور مناسب و باقاعدہ نیند طویل مدت میں میٹابولک، قلبی اور ذہنی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کی باقاعدہ نگرانی اور مناسب علاج بھی انتہائی اہم ہے۔
مزید پڑھیں: کم عمر بچوں میں اینٹی ایجنگ مصنوعات کے بڑھتے رجحان پر اٹلی میں تحقیقات
مختصر یہ کہ نئی تحقیق سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ ہمارے طرزِ زندگی اور بعض طبی علاج جسم میں عمر بڑھنے سے وابستہ حیاتیاتی تبدیلیوں پر اثر ڈال سکتے ہیں لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان طریقوں سے انسان کا بڑھاپا واقعی سست یا الٹ سکتا ہے۔














