کیا درختوں کی چھال کو چھونا، گھاس پر بیٹھنا یا مٹی میں ہاتھ ڈالنا ہماری صحت کے لیے اچھا ہو سکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: بہت زیادہ گرم چائے یا کافی غذائی نالی کو نقصان پہنچا کر کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے
تحقیق سے سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹی، پودوں اور قدرتی ماحول سے جلد کا رابطہ نہ صرف جلد پر موجود جرثوموں کی تعداد اور تنوع بڑھا سکتا ہے بلکہ مدافعتی نظام کے لیے بھی ممکنہ فوائد رکھتا ہے۔
فن لینڈ کے ماہرین کی ایک تحقیق میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ 20 سیکنڈ تک اپنے ہاتھوں کو مٹی، پیٹ ) کیچڑ یا سڑی ہوئی مٹی نما مادہ( اور کائی سے رگڑیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کے بعد ان کی جلد پر موجود جرثوموں کی تعداد اور اقسام میں نمایاں اضافہ ہوا حتیٰ کہ نلکے کے پانی سے ہاتھ دھونے کے بعد بھی یہ تبدیلی برقرار رہی۔
فن لینڈ کے ماحولیاتی ادارے سے وابستہ ماحولیات اور صحت کی محقق میرا گرونروس کے مطابق بظاہر لوگوں کے ہاتھ صاف دکھائی دے رہے تھے لیکن جلد پر موجود جرثوموں میں تبدیلی بہت نمایاں تھی۔
جلد پر زیادہ بیکٹیریا کا خیال بظاہر کچھ لوگوں کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق جلد پر موجود مختلف اقسام کے جرثومے ایک دوسرے کو قابو میں رکھنے اور نقصان دہ جراثیم کے خلاف دفاع میں کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق کا ایک بڑھتا ہوا حصہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مٹی اور پودوں جیسے قدرتی مواد سے رابطہ جلد پر موجود جرثوموں کے تنوع کو بڑھانے کا ایک آسان ذریعہ ہو سکتا ہے جس کے فوائد صرف جلد تک محدود نہیں بلکہ مدافعتی نظام تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: جدید ٹیکنالوجی ہماری کلائیاں کمزور کر رہی ہے، بڑے نقصان سے بچنے کے آسان طریقے
تاہم محققین کے مطابق صرف 20 سیکنڈ کا رابطہ شاید کافی نہ ہو۔ میرا گرونروس کے تجربے میں جلد پر موجود جرثومے کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ پہلے جیسی حالت کے قریب پہنچ گئے۔ ان کے مطابق اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فطرت سے زیادہ دیر تک یا بار بار جسمانی رابطہ جلد اور جسم میں زیادہ نمایاں تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے۔
بچوں کا مٹی میں کھیلنا
فن لینڈ کے وسطی علاقے میں واقع اورینکولینا ڈے کیئر سینٹر میں بچوں کے ہاتھوں اور کپڑوں پر مٹی لگنا معمول کی بات ہے۔ بچے روزانہ کم از کم چند گھنٹے جنگل جیسے ماحول میں بنائے گئے کھیل کے میدان میں گزارتے ہیں جہاں وہ جھاڑیوں اور درختوں کے درمیان دوڑتے، رسیوں پر چڑھتے، ریت کے گھر بناتے، پانی کے چھینٹوں میں کھیلتے اور مٹی و لکڑی کے ٹکڑوں کو ہاتھوں میں اٹھاتے ہیں۔
دن کے اختتام تک اکثر بچے سر سے پاؤں تک مٹی میں اٹے ہوتے ہیں۔
سائنس دان اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس طرح فطرت کے قریب رہنا بچوں کی صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ محققین بچوں کی جلد، تھوک اور فضلے میں موجود جرثوموں کے ساتھ ساتھ خون اور بالوں کے نمونے بھی لے رہے ہیں تاکہ 3 سال کے دوران ان کے مدافعتی نظام میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
اورینکولینا فن لینڈ کے ان 43 ڈے کیئر مراکز میں شامل ہے جو ’واہِسٹو‘ نامی تحقیقی منصوبے کا حصہ ہیں۔ یہ منصوبہ ماحولیات کی ماہر ماریا روسلُنڈ کی سربراہی میں ہونے والی دو سالہ تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: شنگلز کیا بیماری ہے اور اس سے کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ ویکسین کے دل کے لیے بھی فوائد سامنے آگئے
سنہ2016 اور سنہ 2017 میں روسلُنڈ نے ایک ڈے کیئر سینٹر کے کھیل کے میدان میں جنگل کی زمین کا ماحول پیدا کیا جس میں پیٹ اور پودے لگانے کے ڈبے بھی شامل تھے۔ بچوں کے 28 دن تک اس ماحول میں باقاعدگی سے کھیلنے کے بعد ان کی جلد، تھوک اور آنتوں میں موجود بیکٹیریا کا جائزہ لیا گیا اور ایک سال بعد بھی دوبارہ جانچ کی گئی۔
جن بچوں نے جنگل جیسی زمین پر کھیلنے والے میدان میں وقت گزارا تھا ان کی جلد پر موجود جرثوموں کا تنوع ایک سال بعد بھی ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ تھا جو پختہ یا پتھریلے فرش والے میدان میں کھیلتے تھے۔
روسلُنڈ کے مطابق جلد پر موجود بیکٹیریا کا یہ تنوع صحت کے لیے اہم ہے۔ جلد پر مختلف اقسام کے بیکٹیریا کی تعداد بڑھنے سے بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا کے غالب آنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں اور جرثوموں کی مجموعی برادری میں توازن برقرار رہتا ہے۔
ان کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جنگل کی زمین پر کھیلنے والے بچوں کی جلد پر ممکنہ طور پر بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی تعداد کم تھی۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جب جلد پر مختلف جرثوموں کی تعداد اور تنوع زیادہ ہو تو نقصان دہ جراثیم کے لیے جگہ کم رہ جاتی ہے۔
صحت مند جلد، صحت مند جسم
جلد کی صحت کے اثرات صرف جلد تک محدود نہیں رہتے۔ تحقیق سے یہ اشارے بھی مل رہے ہیں کہ جلد کی صحت ہارمونز کی سرگرمی، قلبی امراض اور حتیٰ کہ دماغی افعال سے بھی تعلق رکھ سکتی ہے۔
خاص طور پر سائنس دان اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مختلف اقسام کے بیکٹیریا سے جلد کا رابطہ مدافعتی نظام پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا بڑھتی عمر کی رفتار سست کی جا سکتی ہے؟ نئی تحقیق سے اہم اشارے
روسلُنڈ نے ایک تجربے میں بچوں کے ایک گروپ کو ایسے ریت کے ڈبے میں کھیلنے دیا جس میں مختلف اقسام کے جرثوموں سے بھرپور مٹی شامل تھی جبکہ دوسرے گروپ نے بظاہر اسی طرح کے لیکن کم جرثومی تنوع والے ریت کے ڈبے میں کھیل کھیلا۔
جیسا کہ توقع کی گئی تھی جرثوموں سے بھرپور مٹی والے ریت کے ڈبے میں کھیلنے والے بچوں کی جلد پر بعض بیکٹیریا کا تنوع بڑھ گیا۔ لیکن اس کے ساتھ ان کے خون کے نمونوں میں سائٹوکائنز نامی مدافعتی اشاریوں میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔ یہ تبدیلیاں مدافعتی نظام کو متوازن رکھنے کے عمل کی حمایت کرتی تھیں، یعنی جسم کو خطرات کے خلاف دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ مدافعتی نظام کو ضرورت سے زیادہ فعال ہونے سے روکنا۔
ایسی ہی تحقیقات نے واہِسٹو منصوبے کی بنیاد رکھنے میں مدد دی۔
اورینکولینا ڈے کیئر سینٹر میں حکومتی فنڈنگ سے کھیلنے کی جگہ میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ وہاں بجری کے بجائے لکڑی کے ٹکڑے، ریت کا بڑا حصہ اور لکڑی کے راستے بنائے گئے ہیں جبکہ پہلے سے موجود برچ اور صنوبر کے درخت بھی برقرار رکھے گئے ہیں۔
اس تحقیق کے پیچھے ’حیاتیاتی تنوع کے مفروضے‘ کا تصور موجود ہے۔ اس کے مطابق مختلف اقسام کے جرثوموں سے بھرپور ہوا، پودے اور مٹی انسانی جسم میں موجود جرثومی نظام اور یوں ہماری صحت پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔
ماہرین طویل عرصے سے یہ امکان بھی ظاہر کرتے رہے ہیں کہ ہمارے ماحول میں حیاتیاتی تنوع میں کمی مدافعتی نظام سے متعلق بیماریوں میں اضافے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ روسلُنڈ کی تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ ایسا کس طرح ہو سکتا ہے۔
ان کی تحقیق میں ایک خاص خاندان کے بیکٹیریا، گاما پروٹیوبیکٹیریا، کا کردار بھی نمایاں ہوا۔ جنگل جیسی زمین والے کھیل کے میدان میں کھیلنے والے بچوں کی جلد پر ان بیکٹیریا کا تنوع بڑھا اور اس کا تعلق ریگولیٹری ٹی سیلز کی زیادہ تعداد سے تھا۔
یہ سفید خون کے خلیے مدافعتی نظام کو قابو میں رکھنے اور متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور خودکار مدافعتی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم ماہرین ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ فطرت سے رابطہ ایکزیما، دمہ یا الرجی جیسی مدافعتی بیماریوں سے یقینی طور پر بچاتا ہے۔
میرا گرونروس کے مطابق ابھی یہ کہنا ممکن نہیں کہ فطرت سے رابطہ رکھنے سے کسی شخص کو دمہ نہیں ہوگا، لیکن ممکن ہے کہ اس طرح کے رابطے سے مدافعتی نظام کی ایسی خرابیوں کے امکانات کم ہوں۔
باغبانی بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے
فطرت سے رابطے کے ممکنہ فوائد صرف بچوں تک محدود نہیں۔
ایک تحقیق میں بالغ افراد کو سردیوں کے دوران گھر کے اندر سبزیاں اگانے کے لیے کہا گیا۔ کچھ افراد نے ایسی مٹی استعمال کی جس میں مختلف اقسام کے جرثومے موجود تھے، جبکہ دوسرے گروپ نے بظاہر ایسی ہی مگر کم جرثومی تنوع والی مٹی استعمال کی۔
شرکا نے ایک ماہ تک پودوں کی دیکھ بھال کی اور اپنی اگائی ہوئی سبزیاں بھی کھائیں۔
مزید پڑھیں: خواتین پر گھر کے ذہنی بوجھ کی ذمہ داری زیادہ کیوں، اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
جرثومی تنوع سے بھرپور مٹی استعمال کرنے والے افراد کی جلد پر موجود بیکٹیریا کے تنوع میں اضافہ دیکھا گیا۔ ان کے خون میں سوزش کم کرنے والے سائٹوکائنز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، جبکہ دوسرے گروپ میں ایسی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔
میرا گرونروس کے مطابق اس طرح کی باغبانی فطرت سے رابطے کی ایک آسان اور ہر شخص کی پہنچ میں موجود مثال ہے، اور یہ بات خاصی حیران کن تھی کہ اس قسم کے رابطے سے مدافعتی نظام کے کام کرنے کے انداز میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔
ایک اور تحقیق میں فن لینڈ کے دفاتر میں زندہ پودوں سے بنی ’سبز دیواریں‘ نصب کی گئیں اور دو ہفتے بعد وہاں کام کرنے والے افراد کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے دیکھا کہ ملازمین کی جلد پر موجود جرثوموں کے تنوع میں اضافہ ہوا، جبکہ خون میں سوزش پیدا کرنے والے سائٹوکائنز کی سطح کم ہوئی۔ جلد پر موجود لیکٹو بیکیلس نامی بیکٹیریا کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا جو جلد کی صحت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
میرا گرونروس خود بھی اپنی روزمرہ زندگی میں ان نتائج کو اہمیت دیتی ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ اپنے بچوں کے ساتھ باہر جاتی ہیں اور بچے درختوں سے گرے ہوئے پھل، بیج یا لکڑی کی چھڑیاں اٹھانا چاہتے ہیں تو وہ انہیں منع نہیں کرتیں بلکہ انہیں یہ چیزیں گھر لا کر کھیلنے دیتی ہیں۔
شہروں میں بھی فطرت سے رابطہ بڑھانے کی ضرورت
میرا گرونروس کا کہنا ہے کہ اس سوچ کو شہروں کی منصوبہ بندی میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق شہروں کو اس طرح تعمیر کیا جانا چاہیے کہ لوگوں کو فطرت سے رابطے کے زیادہ مواقع ملیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رابطہ ہمیشہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہونا ضروری نہیں بلکہ بہتر ہوگا کہ لوگ کام یا اسکول جاتے ہوئے بھی غیر ارادی طور پر پودوں، مٹی اور قدرتی ماحول کے قریب آ سکیں۔
ماہرین کے مطابق ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ پوری طرح سمجھا جا سکے کہ فطرت سے رابطہ مدافعتی نظام کو کس طریقے سے متاثر کرتا ہے۔
تاہم موجودہ شواہد کی بنیاد پر میرا گرونروس کے نزدیک فطرت کے قریب جانے، گھاس پر بیٹھنے یا تھوڑی سی مٹی میں ہاتھ گندے کرنے کے فوائد قابلِ توجہ ہیں۔
ان کے مطابق فطرت سے اس طرح کا رابطہ کم خطرے والا عمل ہے اور اس میں کسی بڑے واضح نقصان کے بغیر بہت سے ممکنہ فوائد موجود ہیں۔
مزید پڑھیے: بچے کی پیدائش کے بعد کئی ماؤں میں ذہنی صدمے کی علامات، لیکن اکثر تشخیص نہیں ہو پاتی
شاید یہ تحقیق ہمیں ایک سادہ سی بات یاد دلانے کے لیے کافی ہے کہ کبھی درخت کی کائی لگی چھال کو چھو لینا، گھاس پر بیٹھ جانا یا بچوں کو مٹی میں کھیلنے دینا بھی ہماری صحت اور مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔














