افغانستان دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا، امریکی تھنک ٹینک

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل نے خبردار کیا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے 25 سال بعد بھی افغانستان دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، جبکہ عالمی دہشتگردی کی نوعیت اور تنظیمی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں۔

اٹلانٹک کونسل نے جمعرات کو’11 ستمبر کے 25 سال بعد دہشتگردی کی صورتحال‘ کے عنوان سے رپورٹ جاری کی، جس میں کونسل کے 25 ماہرین نے گزشتہ 25 برس کے دوران دہشتگردی کے خطرات میں آنے والی تبدیلیوں اور مستقبل کے ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا۔

طالبان کے دہشتگرد گروہوں سے تعلقات

رپورٹ کے مطابق القاعدہ اور داعش اب پہلے کی طرح مرکزی اور طاقتور تنظیمیں نہیں رہیں، تاہم ان سے منسلک نیٹ ورکس نے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے اور مختلف علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیا سے متعلق سینیئر فیلو مائیکل کگل مین نے کہا کہ 11 ستمبر سے پہلے کے برسوں کے مقابلے میں جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کی صورتحال بظاہر بہتر نظر آتی ہے، القاعدہ کمزور ہوچکی ہے، تاہم افغانستان میں ایک درجن سے زائد دہشتگرد گروہ اپنی عملی صلاحیتوں کے ساتھ سرگرم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کا دعویٰ جھوٹا، دونوں کا گٹھ جوڑ برقرار

انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں دہشتگردی کے خطرے کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق گزشتہ 5 برس سے افغانستان پر قابض طالبان حکومت کے خطے میں سرگرم متعدد دہشتگرد گروہوں کے ساتھ تعلقات اور اتحاد ہیں، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور وسطی ایشیا کی دہشتگرد تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

مائیکل کگل مین نے کہا کہ طالبان کی مسلسل حکمرانی نے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے جو دہشتگرد گروہوں کے لیے سازگار ہے۔

11 ستمبر کے حملوں کے بعد کیا بدلا؟

رپورٹ میں کہا گیا کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں تقریباً 3,000 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد امریکی قومی سلامتی کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں امریکا کی قیادت میں ‘دہشتگردی کے خلاف جنگ’ شروع ہوئی اور امریکی انٹیلی جنس اور داخلی سیکیورٹی کے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں، تاہم دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوسکا۔

اٹلانٹک کونسل کے ماہرین نے دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ کو مکمل کامیابی یا ناکامی قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 25 برس میں امریکا نے کئی اہم تزویراتی کامیابیاں حاصل کیں، تاہم آنے والی امریکی حکومتیں یہ واضح نہیں کرسکیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فتح کب اور کن حالات میں حاصل سمجھی جائے گی۔

القاعدہ اور داعش اب بھی سرگرم

رپورٹ کے مطابق القاعدہ اور داعش اب پہلے کی طرح بڑے، منظم اور مرکزی ڈھانچے رکھنے والی تنظیمیں نہیں رہیں، تاہم دونوں نے اپنے ذیلی اور منسلک گروہوں کے نیٹ ورک قائم کرکے انہیں مضبوط بنایا ہے۔

یہ گروہ اب بھی ارکان بھرتی کرنے، تشہیری مواد پھیلانے، حملوں کی ترغیب دینے اور مقامی نیٹ ورکس قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ذرائع نے دہشتگرد تنظیموں کو انتہا پسندانہ پیغامات دنیا کے مختلف حصوں تک تیزی سے پہنچانے میں بھی مدد دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا نیا ہتھکنڈا: کم عمر بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے اور انتہا پسندانہ تربیت دینے کا انکشاف

رپورٹ میں داعش خراسان کو خطے میں سرگرم چند واقعی طاقتور دہشتگرد گروہوں میں شامل قرار دیا گیا ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے مطابق طالبان کی جانب سے افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنے سے گریز خطے کو درپیش بڑے سیکیورٹی چیلنجز میں سے ایک ہے۔

داعش خراسان اور وسطی ایشیا

رپورٹ میں مشرقی ترکستان اسلامی تحریک اور داعش خراسان کی سرگرمیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ ماہرین کے مطابق داعش خراسان افغانستان کے علاوہ وسطی ایشیائی ممالک میں بھی بھرتیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ تاجکستان سے تعلق رکھنے والے بعض افراد یورپ، فلپائن اور امریکا میں داعش خراسان سے منسلک منصوبوں اور حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

اٹلانٹک کونسل کے ماہرین نے پیش گوئی کی کہ مستقبل قریب میں بھی افغانستان دہشتگرد گروہوں کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھ سکتا ہے۔

دہشتگرد گروہوں کا مصنوعی ذہانت اور ڈرونز کا استعمال

رپورٹ میں دہشتگرد گروہوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دہشتگرد تنظیمیں مصنوعی ذہانت کو تشہیری مواد تیار کرنے، مختلف زبانوں میں مواد منتقل کرنے، ارکان کی بھرتی اور کمزور طبقات کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تکنیکی معلومات تک رسائی آسان بناسکتے ہیں، جس سے مستقبل میں دہشتگرد گروہوں کے لیے بعض تکنیکی رکاوٹیں کم ہوسکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش سے منسلک گروہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تشہیری مواد تیار اور پھیلاتے رہے ہیں۔

رپورٹ میں ڈرونز کو بھی مستقبل کے ممکنہ خطرات میں شامل کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق چھوٹے، کم قیمت اور آسانی سے دستیاب ڈرونز دہشتگرد گروہوں کے لیے مؤثر ذرائع بن سکتے ہیں، جنہیں ہجوم والی جگہوں، بنیادی ڈھانچے اور اہم علامتی اہداف کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ڈیجیٹل نظام اور اہم بنیادی ڈھانچے کو خطرات

اٹلانٹک کونسل نے کہا کہ پانی، توانائی، نقل و حمل، مواصلات، صحت اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے ڈیجیٹل نظام پر بڑھتے انحصار کے باعث زیادہ خطرات سے دوچار ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 75 فیصد افغان طالبان سے غیر مطمئن، کرپشن اور اقربا پروری پر اپنے ہی ارکان کی تنقید

کمزور ڈیجیٹل سیکیورٹی نظام اور پرانی ٹیکنالوجی سے دور بیٹھ کر کیے جانے والے حملوں کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے حملوں میں نقصان دہ سافٹ ویئر، تاوان طلب حملے، رہنمائی کے نظام میں خلل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ذرائع کا استعمال شامل ہوسکتا ہے۔

دہشتگردی کی مالی معاونت میں کرپٹو کرنسی کا کردار

رپورٹ میں دہشتگردوں کی مالی معاونت میں کرپٹو کرنسی کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ کرپٹو کرنسی اب بھی دہشتگرد تنظیموں کی مالی معاونت کا بنیادی ذریعہ نہیں، نقد رقم، ریاستی حمایت اور غیر رسمی مالیاتی نیٹ ورک زیادہ اہم ہیں، تاہم نئی ٹیکنالوجی نے روایتی نگرانی کے نظام سے باہر رقم منتقل کرنا آسان بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق داعش خراسان سمیت دہشتگرد گروہوں نے عطیات حاصل کرنے کے لیے رازداری پر توجہ دینے والی بعض کرپٹو کرنسیوں کا بھی استعمال کیا ہے۔

عالمی تعاون ناگزیر قرار

اٹلانٹک کونسل نے قرار دیا کہ گزشتہ 25 برس کے دوران دہشتگردی کے خلاف کوششوں میں ممالک کے درمیان تعاون، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور سیکیورٹی، سفارت کاری اور مالی معاملات میں رابطہ کاری اہم رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق دہشتگردی کی بدلتی نوعیت کے ساتھ عالمی تعاون کو بھی تبدیل کرنا ہوگا، خصوصاً شدت پسند افراد، دہشتگرد گروہوں، سوشل میڈیا اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے نئے طریقوں سے نمٹنے کے لیے۔

رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی کہ مستقبل میں ایسے افراد کی جانب سے حملے بڑھ سکتے ہیں جو دہشتگردی سے متاثر ہوکر خود کارروائی کریں، جبکہ تنہا حملہ آوروں اور دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں گی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے حوالے سے عالمی تعاون مزید اہم ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp