ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو کھلی ‘ریاستی دہشتگردی’ قرار دیا ہے جبکہ بھارتی صحافی کے بار بار اسرار کے باوجود پاکستان پر دہشتگردی کی سرپرستی کے بھارتی الزامات کی تائید کرنے سے دو ٹوک انکار کیا ہے۔
بھارت میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارت کے دورے پر موجود ملائیشین وزیراعظم نے ایک بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی ‘ کو خصوصی انٹرویو دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پہلگام واقعے میں پاکستان کا واضح سچ سامنے آیا، بھارتی الزامات کو پذیرائی نہ مل سکی، عطا تارڑ
اس دوران انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے انتہائی نپے تلے اور واضح جوابات دیے۔
#NDTVExclusive | Malaysia’s Prime Minister Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) says Israel is a state sponsor of terrorism. Does he, therefore, apply the same standard to Pakistan?
This is what he told @VishnuNDTV in this exclusive interview on the sideline of BRICS. pic.twitter.com/xjEq7zKcnj
— NDTV (@ndtv) September 12, 2026
فلسطین پر 70 سالہ اسرائیلی قبضہ
انور ابراہیم نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے اور نہتے عوام پر جاری بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس تو محض 20 سال پرانی تنظیم ہے، مگر فلسطین پر اسرائیلی تسلط اور نوآبادیاتی نظام 70 برسوں سے جاری ہے۔
ಗಾಜಾ ಮೇಲಿನ ಯುದ್ಧ ಇಸ್ರೇಲ್ ಭಯೋತ್ಪಾದನೆ ಎಂದ ಮಲೇಷ್ಯಾ ಪ್ರಧಾನಿ – ಪಾಕ್ ದಾಳಿ ಬಗ್ಗೆ ಮೌನ https://t.co/Rfyfrgd0Bh#AnwarIbrahim #MalaysianPM #Gaza #Israel #Pakistan #India #BRICSSummit
— PublicTV (@publictvnews) September 12, 2026
ملائیشین وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ غزہ میں مسلسل بمباری اور قتل و غارت گری صریحاً ‘ریاستی دہشتگردی’ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملائیشیا اور بھارت دونوں نوآبادیاتی نظام کے دکھ کو بخوبی سمجھتے ہیں، اس لیے اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔
پاکستان پر بھارتی الزامات کا دفاع
انٹرویو کے دوران جب بھارتی میزبان نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں گزشتہ سال ہونے والے واقعے کا حوالہ دے کر پاکستان پر ‘ریاستی دہشتگردی’ کا الزام لگوانا چاہا، تو انور ابراہیم نے ایسا کرنے سے صاف اور دو ٹوک انکار کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس حد تک نہیں جائیں گے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بھارت میں یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ انور ابراہیم نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ بھارتی وزیراعظم کے قریبی دوست ہیں، لیکن ان کا ملک پاکستان کے ساتھ بھی معمول کے سفارتی اور ریاستی روابط رکھتا ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ
بھارتی صحافی کی جانب سے مبینہ اعداد و شمار پیش کرنے اور بار بار اصرار پر ملائیشین وزیراعظم نے حقائق پر مبنی مؤقف اپنایا۔
انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ دہشتگردی کے واقعات نہیں ہوئے، لیکن ملائیشیا کے انٹیلی جنس اداروں نے کبھی ایسی کوئی رپورٹ نہیں دی جس میں ثابت ہو کہ پاکستان بھارت میں کسی ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے۔
انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ بحیثیت وزیراعظم وہ صرف ان حقائق پر بات کر سکتے ہیں جو ان کے ریاستی اداروں نے تصدیق کیے ہوں۔
انٹرویو کے آخر میں انہوں نے بھارت کی شاندار تاریخ اور ثقافت کی تعریف کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود تنازعات جلد حل ہو جائیں گے۔














