پی ٹی آئی میں اختلافات بڑھ گئے، 27 ستمبر کے احتجاج پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی قیادت میں کس بات پر تنازع ہے؟

اتوار 13 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جیل میں موجودگی کے دوران پارٹی کے اندر ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ موجودہ حالات میں مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کو آگے بڑھایا جائے یا مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی قیادت کے درمیان بھی احتجاجی حکمت عملی، باہمی مشاورت اور کارکنوں کی قربانیوں کے حوالے سے تحفظات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت اور نسبتاً فعال تنظیمی ڈھانچے کے باعث صوبائی قیادت احتجاجی سیاست کو زیادہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھانے پر زور دیتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ پنجاب میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو درپیش گرفتاریوں، مقدمات، پولیس کارروائیوں اور تنظیمی خلا کے باعث صورتحال مختلف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پی ٹی آئی رہنما معین قریشی کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پارٹی قیادت اور کارکنوں کو بالکل مختلف نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔

خیبر پختونخوا میں حکومت پی ٹی آئی کی ہے، اس لیے وہاں احتجاجی سرگرمیوں کے لیے حالات پنجاب کی نسبت نسبتاً آسان ہیں، جبکہ پنجاب میں احتجاج کرنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

معین قریشی کے مطابق پنجاب میں ایسا کوئی ضلع شاید ہی ہو جہاں پارٹی کے کسی رہنما یا کارکن کے گھر پولیس نے دستک نہ دی ہو، 27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے صورتحال انتہائی مشکل ہے، تاہم ان مشکلات کے باوجود پارٹی احتجاج کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی احتجاجی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت کی احتجاج کے حوالے سے اپنی رائے ہے جبکہ پنجاب کی قیادت اپنی تجاویز دے رہی ہے۔

معین قریشی کے مطابق خیبر پختونخوا سے احتجاج فیصل آباد سے شروع کرنے کی تجویز سامنے آئی، تاہم پنجاب کی جانب سے یہ رائے دی گئی کہ احتجاج میانوالی سے شروع کیا جائے اور مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا فیصل آباد پہنچا جائے تاہم حتمی فیصلہ سہیل آفریدی ہی کریں گے، تاہم پنجاب کی قیادت ان کے فیصلے کے باوجود احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور تعاون کرے گی۔

سابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کو درپیش بحران کی نوعیت خیبر پختونخوا سے بالکل مختلف ہے، پنجاب میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ہوا، بڑی تعداد میں کارکن گرفتار ہوئے، لیکن پارٹی قیادت ان کارکنوں کے ساتھ اس انداز میں کھڑی نہیں ہوئی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاندانہ گلزار کا علیمہ خان کے انٹرویو پر سخت ردعمل

فواد چوہدری کے مطابق پنجاب کی قیادت کو منتشر کیا گیا، کئی رہنما جیلوں میں ہیں یا سیاسی طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ کارکنوں پر بھی سختیاں جاری ہیں۔ ان کے بقول یہی صورتحال پنجاب میں احتجاجی سیاست کو کمزور کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک طرف پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور دوسری طرف وہاں پنجاب جیسی سختیاں نہیں، اس لیے دونوں صوبوں میں احتجاج کے محرکات اور حالات مختلف ہیں۔

فواد چوہدری کے مطابق پنجاب میں پارٹی کے پاس اس وقت ایسی قیادت موجود نہیں جو کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے مؤثر انداز میں متحرک کر سکے، مسئلہ صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر پارٹی میں ایک ایسی مرکزی قیادت کا فقدان ہے جس کی بات تمام گروپس سنیں اور جو جماعت کو ایک سمت میں آگے لے کر چل سکے۔

سینیئر تجزیہ کار عمر چیمہ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں عمران خان کے علاوہ کوئی ایسا عنصر موجود نہیں جو مختلف دھڑوں کو متحد رکھ سکے، عمران خان پارٹی کے لیے بنیادی طور پر ایک یونائٹنگ فیکٹر ہیں، لیکن ان کی غیر موجودگی میں پارٹی کے مختلف رہنماؤں کے درمیان طاقت اور اختیار کے حوالے سے کشمکش پیدا ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اعلیٰ قیادت میں اختلافات کے بعد پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہوگا؟ نصرت جاوید کا اہم تجزیہ

عمر چیمہ کے مطابق عمران خان کے بعد پارٹی میں ہر شخص خود کو اہم سمجھتا ہے اور دوسرے کو جواب دہ بنانے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں جماعت کے اندر انتشار کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، پارٹی کے اندر اختلافات پہلے بھی موجود تھے، لیکن اب یہ اختلافات میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

عمر چیمہ کے مطابق عمران خان کی سیاست میں سوشل میڈیا کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی اور اب ان کے پیروکار بھی اپنے اختلافات اور شکایات اسی پلیٹ فارم پر سامنے لاتے رہے، عمران خان کی عدم موجودگی میں پارٹی کے مختلف دھڑوں کو ایک جگہ رکھنے والا کوئی مضبوط مرکز موجود نہیں، جس کے باعث رہنماؤں کے درمیان اختلافات کم ہونے کے بجائے منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  پی ٹی آئی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان اختلافات کا ایک بڑا سبب احتجاجی سیاست ہی ہے، عمران خان کی گرفتاری کے بعد تقریباً ہر بڑے احتجاج میں یہ سوال اٹھا کہ پنجاب کی جانب سے خیبر پختونخوا کی توقعات کے مطابق ردعمل کیوں نہیں آیا۔

احمد ولید نے 26 نومبر کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پنجاب کے بعض رہنماؤں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ وہ باہر نکلے لیکن انہیں سڑکوں پر کارکن نظر نہیں آئے اور بالآخر وہ واپس گھروں کو چلے گئے، اس صورتحال پر خیبر پختونخوا کے رہنماؤں اور کارکنوں میں شدید ناراضی پیدا ہوئی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے مسلسل سڑکوں پر نکل رہے ہیں، جبکہ پنجاب سے مطلوبہ ردعمل سامنے نہیں آ رہا۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کے ساتھ 12 سال سے اختلافات، اتنی جلدی معاملات درست نہیں ہوسکتے، مولانا فضل الرحمان

احمد ولید کے مطابق پنجاب کی قیادت کا مؤقف بھی مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ پنجاب میں پارٹی کے متعدد اہم رہنما جیلوں میں ہیں اور کئی رہنماؤں کو سیاسی سرگرمیوں میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے، پنجاب میں احتجاجی سیاست کے لیے تنظیمی قیادت کا وہ ڈھانچہ موجود نہیں جو ماضی میں موجود تھا۔

احمد ولید کے مطابق 9 مئی کے واقعات کے بعد پنجاب میں پی ٹی آئی کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد اہم رہنما گرفتار ہوئے، جن میں یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری سمیت کئی رہنما شامل ہیں، اس کے باوجود پنجاب میں پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد نے مختلف مواقع پر مزاحمت کی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گرفتاریوں، مقدمات اور مسلسل دباؤ نے احتجاجی سیاست کے لیے موجود گنجائش کو محدود کر دیا۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کی قیادت اور کارکنوں کا شکوہ یہ ہے کہ جب وہ پنجاب کی طرف احتجاج لے کر آتے ہیں تو انہیں وہ عوامی اور سیاسی ردعمل نہیں ملتا جس کی انہیں توقع ہوتی ہے۔

ایک جانب خیبر پختونخوا یہ سمجھتا ہے کہ وہ احتجاج کی قیمت ادا کر رہا ہے، جبکہ پنجاب کی قیادت کا کہنا ہے کہ اسے بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے لیکن وہاں کے حالات مختلف ہیں۔

پی ٹی آئی کے اندر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان موجود اختلافات کا جائزہ لیا جائے تو معاملہ صرف اس سوال تک محدود نہیں کہ کون احتجاج کے لیے باہر نکلتا ہے اور کون نہیں۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باعث پارٹی کے پاس احتجاجی سیاست کے لیے ایک نسبتاً مضبوط انتظامی اور سیاسی پلیٹ فارم موجود ہے۔ پنجاب میں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں پارٹی قیادت کے ایک بڑے حصے کو مقدمات، گرفتاریوں اور سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

پارٹی کے اندر ایک اہم شکایت یہ بھی ہے کہ احتجاجی پروگرام اور سیاسی فیصلے کرتے وقت تمام صوبوں کی قیادت سے یکساں مشاورت نہیں ہوتی۔

پی ٹی آئی کے اندر موجودہ اختلافات کے بارے میں تجزیہ کاروں کی آرا میں ایک قدر مشترک دکھائی دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ عمران خان کی غیر موجودگی میں پارٹی کو ایک ایسا مرکز درکار ہے جو مختلف گروپس، صوبائی قیادتوں اور رہنماؤں کے درمیان اختلافات کو ختم کرا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبریں من گھڑت، عمران خان کا متبادل کوئی نہیں، شاہ محمود قریشی

عمر چیمہ کے مطابق عمران خان ہی وہ شخصیت ہیں جو مختلف دھڑوں کو ایک جگہ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ احمد ولید کے خیال میں جب تک پارٹی میں مضبوط اور متفقہ قیادت سامنے نہیں آتی، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان شکوے شکایات جاری رہنے کا امکان ہے۔

فواد چوہدری بھی پارٹی میں قیادت کے بحران کو بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہیں، جبکہ معین قریشی کے مطابق صوبائی سطح پر موجود مشکلات کو سمجھ کر ہی مشترکہ احتجاجی حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے۔

جب تک پارٹی ان مسائل کے لیے کوئی واضح اور متفقہ سیاسی و تنظیمی طریقہ کار وضع نہیں کرتی، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان یہ شکوے شکایات اور احتجاجی حکمت عملی پر اختلافات ختم ہونے کے بجائے وقتاً فوقتاً دوبارہ سامنے آنے کا امکان برقرار رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس تقسیم ہوں گی، دانش اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، وزیر اعظم شہباز شریف

عالمی ایندھن بحران کے دوران روس کے 3 ڈیزل بردار جہاز امریکا روانہ

امریکی ریاست فلوریڈا میں فائرنگ، کم عمر بچوں سمیت 11 افراد زخمی

چین کے آبی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارتی ڈیم کی تعمیر پر تنازع، مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے

ولیمے پر جانے والے جوڑے پر فائرنگ، شادی کے اگلے ہی روز دلہن قتل

ویڈیو

میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس تقسیم ہوں گی، دانش اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، وزیر اعظم شہباز شریف

حرمین شریفین ہماری ریڈلائن، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے، مولانا عبدالخبیر آزاد

پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟