بھارت میں 2 پیرا ملٹری اہلکاروں کی خودکشی، سیکیورٹی فورسز میں ذہنی و مالی دباؤ پھر زیرِ بحث

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی ریاستوں تلنگانہ اور بہار میں پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں 2 پیرا ملٹری اہلکاروں نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کو درپیش ذہنی اور مالی دباؤ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 30 سالہ کانسٹیبل گڈے پون کمار نے اپنی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔

پولیس کو اطلاع دینے سے قبل اہل خانہ نے پون کمار کو گھر میں بے سدھ حالت میں پایا۔ پڑوسیوں کی مدد سے دروازہ توڑ کر انہیں باہر نکالا گیا۔

پولیس کے مطابق اہل خانہ نے بتایا کہ پون کمار شدید مالی دباؤ اور قرض کی ادائیگی نہ کر پانے کے باعث پریشان تھے۔

یہ بھی پڑھیے ماؤ نواز علاقوں میں تعینات بھارتی فوجی اہلکاروں کی خودکشیاں بڑھنے لگیں

دوسرا واقعہ بہار کے ضلع کشن گنج میں سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کی 19ویں بٹالین کے کیمپ میں پیش آیا، جہاں ایک اہلکار نے مبینہ طور پر ڈیوٹی کے دوران اپنی سروس ریوالور سے خود کو گولی مار لی۔

پولیس کے مطابق واقعے کی فرانزک تحقیقات کی گئیں، جبکہ کیمپ میں موجود اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ ابتدائی شواہد خودکشی کی جانب اشارہ کرتے ہیں، تاہم واقعے کی اصل وجہ اور دیگر حالات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

یہ واقعات ایک بار پھر بھارت کی مسلح اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکاروں کو درپیش ذہنی دباؤ اور کام کے مسائل کی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک

اہلکاروں کو اکثر پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے علاوہ امن و امان برقرار رکھنے، ہجوم پر قابو پانے، انتخابی ڈیوٹی، سیکیورٹی انتظامات اور انسدادِ شورش سمیت مختلف فرائض بھی انجام دینا پڑتے ہیں، جنہیں طویل اور مشکل تعیناتیوں کے ساتھ ذہنی و جسمانی تھکن کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔

رپورٹس میں ان عوامل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو سیکیورٹی اہلکاروں میں ذہنی دباؤ بڑھا سکتے ہیں، جن میں کام کا دباؤ، اعلیٰ افسران کی جانب سے مبینہ ناروا سلوک، ازدواجی مسائل اور مالی یا جائیداد سے متعلق تنازعات شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp