مصنوعی ذہانت انسانی حقوق کے لیے بھی خطرہ ثابت ہونے لگی۔ اے آئی سے انسانی حقوق کو لاحق خطرات کے پیش نظر برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور لارڈز نے نئے قانون کا مطالبہ کر دیا۔
برطانوی پارلیمنٹ کی جوائنٹ کمیٹی آن ہیومن رائٹس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات کا مؤثر طور پر علاج کرنے کے لیے موجودہ قوانین ناکافی ہیں۔
انسانی حقوق کی کمیٹی (جے سی ایچ آر) نے رپورٹ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک نئے قانون کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان خطرات کی سنگینی اور وسعت سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت کو لگام ڈالنے کے لیے امریکی کانگریس میں نئی پیشرفت
کمیٹی کے چیئرمین اور لیبر رکن پارلیمنٹ الیکس سوبل نے کہا کہ برطانیہ سمیت دنیا میں کہیں بھی مصنوعی ذہانت کے لیے موجودہ قوانین اور ضابطہ کار اس مقصد کے لیے موزوں نہیں۔
دوسری جانب حکومتی ترجمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے، جس سے مواقع کے ساتھ ساتھ خطرات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دنیا کے بہترین وسائل سے لیس سیکیورٹی اداروں کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی جانچ اور اسے سمجھنے کے لیے عالمی کوششوں کی قیادت کر رہی ہے۔ یہ ادارہ لوگوں کے تحفظ کے لیے ضروری معیارات اور حفاظتی اقدامات کی تیاری میں مدد دے گا۔
ادھر مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی مصنوعی ذہانت کی عالمی سطح پر نگرانی، آزادانہ مانیٹرنگ اور اس کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی تجویز دے چکے ہیں، جس سے حریف کمپنیوں کے سربراہان اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور ایلون مسک نے بھی اتفاق کیا ہے۔
حالیہ برسوں میں انسانی حقوق کے حوالے سے سامنے آنے والی تشویش میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو انٹرنیٹ سے جمع کیے گئے بڑے ڈیٹا بیس پر تربیت دی جائے تو وہ مخصوص گروہوں کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ ایسے ڈیٹا میں نسل پرستانہ، جنس پرستانہ اور دیگر ناپسندیدہ مواد بھی شامل ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کو غلط معلومات تیار کرنے اور پھیلانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اے آئی کے بے قابو ہونے کا خدشہ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
جے سی ایچ آر نے اپنی 100 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے خلاصے میں نشاندہی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیوں کا سبب بن رہی ہے، جن میں خواتین اور لڑکیوں کی جنسی نوعیت کی جعلی تصاویر بنانا اور لوگوں کی رضامندی کے بغیر چہروں کی اسکیننگ کرنا شامل ہے۔
کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے ایک آزاد اور قانونی حیثیت رکھنے والا نگران ادارہ قائم کیا جائے، جبکہ مختلف خطرات کی بنیاد پر اے آئی نظاموں کی درجہ بندی کی جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ خطرناک اے آئی نظاموں پر سخت ذمہ داریاں عائد کی جانی چاہئیں، جبکہ ایسے استعمال جنہیں انسانی حقوق سے متصادم سمجھا جائے، انہیں مکمل طور پر ممنوع قرار دیا جائے۔
برطانوی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے، جبکہ موجودہ نظام اس کے ممکنہ سنگین نتائج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔














