نازا : صیہونی وزیر نے اسرائیلی فلم سازوں کی شہریت ختم  کرنے کی دھمکی دیدی

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کی شہادتوں پر بننے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ نے اسرائیل میں نیا تنازع کھڑا کر دیا۔ اسرائیلی وزیرِ ثقافت میکی زوہار نے فلم کے ہدایت کاروں یووال ابراہم اور ریچل سور کی اسرائیلی شہریت ختم کرنے کی دھمکی دے دی۔

میکی زوہار نے دونوں فلم سازوں پر ریاست سے غداری کا الزام عائد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا، ’میں ریاست سے غداری کے مرتکب ان گھٹیا تخلیق کاروں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کے لیے فوری کارروائی کروں گا۔‘

اسرائیلی وزیرِ ثقافت نے فلم سازوں پر اپنے ملک کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ وہ ’دنیا بھر کے یہود مخالف لوگوں کی تالیاں حاصل کرنے کے لیے اپنے وطن کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہیں۔‘

دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر بھی فلم کے ہدایت کاروں کے خلاف میدان میں آگئے۔

اتمار بن گویر نے کہا، ’آپ  پوری اسرائیلی قوم کے لیے باعثِ شرمندگی و رسوائی ہیں، یہاں سے چلے جائیں!‘

انہوں نے مزید کہا، ’مجھے یقین ہے کہ آپ کے دوست، یعنی غزہ میں ہمارے دشمن حماس، آپ کا کھلے بازوؤں سے استقبال کریں گے۔‘

یہ بھی پڑھیں وینس فلم فیسٹیول: غزہ قتل عام  میں اے آئی کے استعمال پر  بننے والی دستاویزی فلم کے لیے 25 منٹ تک تالیاں

واضح رہے کہ فلم ’نازا‘ اسرائیلی ہدایت کار یووال ابراہم اور ریچل سور نے بنائی ہے۔ دونوں نے اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ 24 افراد کے انٹرویوز کیے، جنہوں نے غزہ پر بمباری کے لیے مصنوعی ذہانت  کے استعمال کی تفصیلات بیان کیں۔ فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

ایک انٹرویو میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ حماس کے ایک رکن کو نشانہ بنانے کے لیے ایسے حملے کی منظوری دی گئی جس میں 500 شہریوں کی شہادت متوقع تھی۔

’نازا‘ کو رواں سال وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ بھی دیا گیا، جبکہ فلم کی نمائش کے بعد اسے 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی، جو فیسٹیول کی تاریخ میں طویل ترین داد میں سے ایک قرار دی گئی۔

فلم کے ہدایت کار اس سے قبل ’نو ادر لینڈ‘ کے لیے بھی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکے ہیں، جس نے 2025 میں آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ’نازا‘ میں عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گمنام ذرائع کے بیانات کی تصدیق نہ ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان الزامات کا تفصیلی اور شواہد پر مبنی جواب دیا جانا چاہیے۔

ادھر اسرائیل میں بعض حلقوں نے فلم اور اس کے ہدایت کاروں کی حمایت بھی کی ہے۔ سابق قانون ساز یوسف جباریّن نے فلم کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے غزہ میں ہونے والی ’خوفناک کارروائیوں اور تلخ حقیقت‘ کو دنیا کے سامنے لایا گیا ہے۔

اسرائیل میں شہریت منسوخ کرنے کا قانونی راستہ موجود ہے، تاہم ایسا اقدام شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے اور اس کے لیے متعلقہ وزرا کے فیصلے کے ساتھ عدالتی منظوری بھی درکار ہوتی ہے۔

’نازا‘ کے گرد جاری تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp