مقدمات کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں خصوصی بینچ بنانے کا فیصلہ، چیف جسٹس کا فل کورٹ ریفرنس سے خطاب

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جلد سماعت کی درخواستوں کے لیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دیا جا رہا ہے، جبکہ جلد سماعت کے مقدمات کی کارروائی کے لیے شام کے اوقات میں بھی بینچ بیٹھے گا۔

نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ایک بینچ کے سامنے ایک روز میں 75 مقدمات مقرر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا ایک سال مکمل، سپریم کورٹ میں کیا کچھ بدلا؟

انہوں نے بتایا کہ مقدمات مقرر کرنے کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کے لیے پالیسی ویب پر اپ لوڈ کردی گئی ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق اب ان کے کہنے پر بھی مقدمہ مقرر نہیں ہوتا، مقدمات مقرر کرنے کی پالیسی ویب سائٹ پر جاری کردی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کاز لسٹ میں شامل ہونے والے مقدمات کو 2 افسر دوبارہ چیک کرتے ہیں۔

’کاز لسٹ میں آنے والے مقدمات کو 2 افسران دوبارہ چیک کرتے ہیں تاکہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق مقدمات کی فہرست تیار کی جاسکے۔‘

مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ کو ٹائٹینک کیوں کہا؟

ججز کی چھٹیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عمومی تاثر ہے کہ ججز 3 ماہ کی چھٹیاں کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ججز 3 ماہ کے اندر صرف ایک ماہ کی چھٹی کرتے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے مزید کہا کہ شریعت اپیلیٹ بینچ ہر 2 ماہ میں ایک ہفتے کے لیے بیٹھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp