’اسٹریٹ موومنٹ نہیں کرسکتے تو واپس آجاؤ مگر پشتو فلموں والے سین چھوڑ دو‘، سہیل آفریدی کی جعلی گرفتاری پر لوگوں کا ردعمل

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ان دنوں پنجاب کے دورے پر ہیں اور انہوں نے لاہور پہنچتے ہی یہ الزام عائد کردیا کہ پنجاب پولیس نے انہیں اغوا کیا اور بعد ازاں سڑک پر چھوڑ دیا۔ انہوں نے اس واقعے کا ذمہ دار پنجاب کی حکومت اور پنجاب پولیس کو قرار دیا۔

وزیراعلیٰ کے اس بیان کے بعد ان کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئیں، جن میں یہ واضح نظر آرہا تھا کہ انہیں پولیس نے زبردستی اغوا یا موبائل میں نہیں ڈالا بلکہ وہ خود موبائل میں بیٹھ گئے اور اپنے ساتھیوں سے ویڈیو بنواتے رہے۔ اس پوری صورتحال پر سوشل میڈیا پر نہ صرف دلچسپ تبصرے ہوئے بلکہ اہم سوالات بھی اٹھائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے ناقدین حقائق سے ناواقف ہیں، عظمیٰ بخاری کا سہیل آفریدی کو جواب

سوشل میڈیا صارفین نے سوال کیا کہ اگر سہیل آفریدی کو واقعی اغوا کیا گیا تھا تو ان کے ساتھ کیمرہ مین اور دیگر افراد کیسے موجود رہے اور اغوا کے دوران ویڈیوز کیسے بنتی رہیں؟ شمع جونیجو لکھتی ہیں کہ ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے راہ چلتے موٹر سائیکل سواروں کو خود بتا رہے ہیں کہ دیکھو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اغوا کرلیا ہے۔

پی ٹی آئی ورکر اور وزیراعلی کے سابق معاون خصوصی نے لاہور کے دورہ کے دوران سہیل آفریدی کے ‘اغوا والی ویڈیو’ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ عجیب اغواء کاری ہے وزیراعلی اپنے گین مینوں اور کیمرہ مین سمیت پولیس گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

خالد خان نے سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ خدا کے لیے اگر اسٹریٹ موومنٹ نہیں کرسکتے تو واپس آجاؤ لیکن یہ پشتو فلموں والے سین چھوڑ دو، آپ خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹیو ہو جہانگیری اداکار نہیں۔

سہیل آفریدی سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا یہ بلی چوہے کا کھیل چل رہا ہے؟ جس پر انہوں نے صحافی کو گالیاں نکالنی شروع کردیں۔ صارفین نے اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ “ٹک ٹاکر وزیرِ اعلیٰ” ہیں جن کا اپنی زبان پر قابو نہیں اور رویہ وزیرِاعلیٰ والا نہیں۔ سید عدنان نے کہا کہ سہیل آفریدی پشاور سے پنجاب آ کر صحافیوں کے ساتھ وہ زبان استعمال کر رہے ہیں جو کسی بھی باعزت عہدے کے لیے موزوں نہیں ہے۔

صحافی اعظم ملک لکھتے ہیں کہ جب ہم نے سہیل آفریدی سے پوچھا کہ “آپ خود پولیس وین میں جا کر بیٹھے، نہ گرفتاری ہوئی نہ حراست؛ آپ پولیس کی گاڑی میں بیٹھے پولیس اپنی گاڑی لے کر وہاں سے چل پڑی اور آپ کو لکشمی چوک چھوڑ دیا، اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟” تو انہوں نے جواب دینے کے بجائے کہا کہ “آپ حکومت کی سائیڈ لے رہے ہیں۔” ہم نے کہا آپ کے گارڈز ہمیں قریب نہیں آنے دے رہے، تو اس موقع پر سہیل آفریدی صاحب اونچی آواز میں بولنا شروع ہوگئے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ تاریخ کی شاید یہ پہلی اور منفرد اغوا کاری ہے جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے گن مین اور کیمرہ مین سمیت پولیس کی گاڑی میں بیٹھ کر مبینہ طور پر اغوا ہوگئے، جہاں انہیں ٹک ٹاک کے لیے ویڈیوز بنانے کی مکمل آزادی بھی حاصل رہی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ منظرنامہ تیار ہی کرنا تھا تو اسکرپٹ ذرا بہتر لکھ لیتے، کیونکہ اس بھونڈے سٹنٹ پر شاید پانچ سال کا بچہ بھی یقین نہ کرے۔

دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ان کے دعوے پر طنزیہ ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی خود وین میں بیٹھ کر کیمرہ مین اور سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ ویڈیو بنوا رہے ہیں اور پھر اغوا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp