کینیا کا دارالحکومت نیروبی 2029 کی ورلڈ آؤٹ ڈور ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ کی میزبانی کرے گا، جس کے ساتھ پہلی بار عالمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ افریقی براعظم میں منعقد ہوگی۔
ورلڈ ایتھلیٹکس نے منگل کے روز اعلان کیا کہ نیروبی نے 2029 کی میزبانی کے لیے لندن، میونخ اور روم کی بولیوں کو شکست دی، جبکہ 2031 کی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میونخ میں ہوگی۔ یہ فیصلہ بڈاپسٹ میں ورلڈ ایتھلیٹکس کونسل کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر آئی شو اسپیڈ کے دورۂ کینیا نے انٹرنیٹ اور نیروبی کی سڑکوں پر ہلچل کیوں مچا رکھی ہے؟
ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر سیبسٹین کو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 2029 اور 2031 کی میزبانی کے لیے 4 شاندار بولیاں موصول ہوئی تھیں اور کونسل کے لیے فیصلہ آسان نہیں تھا۔
سیبسٹین کو نے کہا کہ 2027 کی چیمپیئن شپ پہلے ہی بیجنگ کو دی جاچکی ہے، جبکہ آج کے فیصلے کے بعد اگلی 3 ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ ایشیا، افریقہ اور یورپ میں منعقد ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار چیمپیئن شپ کو افریقہ لے جانا تاریخی موقع ہوگا، نیروبی نے ایک مؤثر اور جذباتی بولی پیش کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضروری تھا کہ عالمی چیمپیئن شپ اس وقت افریقہ آئے جب موزوں میزبان، مضبوط بولی اور درست حالات موجود ہوں۔ نیروبی نے واضح طور پر ثابت کیا ہے کہ یہ کینیا اور پورے افریقہ میں ایتھلیٹکس کی ترقی کو تیز کرنے کا وقت ہے اور اس سے ایسا ورثہ قائم ہوگا جو پورے براعظم کے لیے حوصلہ افزا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ: ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی
کینیا اس سے قبل 2025 کی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ کی میزبانی کے لیے ناکام بولی دے چکا ہے۔ تاہم ملک 2007 میں ممباسا میں ورلڈ کراس کنٹری چیمپیئن شپ، 2017 میں نیروبی میں ورلڈ انڈر 18 چیمپیئن شپ اور 2021 میں نیروبی میں ورلڈ انڈر 20 چیمپیئن شپ کی میزبانی کرچکا ہے۔
نیروبی 2010 کی افریقی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ کی میزبانی بھی کرچکا ہے۔
سیبسٹین کو نے کہا کہ 2025 کی میزبانی کی بولی کے عمل میں شامل ہونے کی وجہ سے نیروبی کی ٹیم کو معلوم تھا کہ کیا ضروری ہے، اسی لیے وہ زیادہ مضبوط تجویز کے ساتھ واپس آئی۔ انہوں نے بتایا کہ نیروبی کا کسرانی اسٹیڈیم بھی ازسرنو تعمیر کے مرحلے میں ہے اور 2027 کے افریقی کپ کی میزبانی سے قبل اس میں مکمل تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایتھلیٹکس کینیا کے معاشرے میں گہری جڑیں رکھتا ہے اور عالمی و اولمپک سطح کی درمیانی فاصلے کی دوڑ کی اسٹار فیتھ کیپیگون سمیت کئی کینیا کے ایتھلیٹس نے ایتھلیٹکس کی تاریخ تشکیل دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کی عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے جینیاتی جانچ لازم، ورلڈ ایتھلیٹکس کا اہم فیصلہ
کینیا کے کابینہ سیکریٹری سلیم موریہ نے کہا کہ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی ایتھلیٹکس برادری نے کینیا کو ورلڈ ایتھلیٹکس کے مرکز میں اس کے مقام کی توثیق کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا ایک ایسے ملک میں آئے گی جہاں دوڑ محض مقابلہ نہیں بلکہ قومی کہانی ہے اور جہاں ہر نسل یہ یقین رکھتی ہے کہ اگلا عالمی چیمپیئن کینیا سے سامنے آسکتا ہے۔
میونخ کو 2031 کی میزبانی
سیبسٹین کو نے میونخ کو 2031 کی چیمپیئن شپ کی میزبانی ملنے پر کہا کہ جرمنی بارہا بڑے ایتھلیٹکس مقابلوں کے لیے بہترین اور تخلیقی میزبان ثابت ہوا ہے۔














