مشرق وسطیٰ بحران کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد وفاقی حکومت نے ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور شروع کردیا، جن میں ممکنہ طور پر ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ بھی شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایندھن کے استعمال میں کمی سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت سرکاری اور نجی شعبوں کے لیے مختلف تجاویز پر غور کررہی ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 15 ستمبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
اجلاس میں ایک تجویز 4 روزہ ورکنگ ویک سے متعلق بھی زیر غور آئی، جس کے تحت جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سرکاری و نجی دفاتر میں تعطیلات ہوں گی۔
اس اقدام کا مقصد روزانہ دفاتر آنے جانے والے افراد کی تعداد کم کرکے پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی لانا ہے۔
سرکاری ملازمین کے لیے باری باری حاضری کا نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کے تحت روزانہ تمام ملازمین کے بجائے ملازمین کے مختلف گروپس کو دفاتر بلایا جائے گا تاکہ آمدورفت اور ایندھن کے استعمال کو محدود کیا جاسکے۔
حکومت سرکاری گاڑیوں کی تعداد میں بھی کمی کے آپشن کا جائزہ لے رہی ہے۔
ایک تجویز کے تحت سرکاری گاڑیوں میں سے 50 فیصد کو گراؤنڈ کرکے ایندھن کے استعمال اور سفری اخراجات میں کمی لانے پر غور کیا جارہا ہے۔
مجوزہ اقدامات سے تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس حوالے سے ہفتے میں تین دن مارکیٹیں بند رکھنے یا کاروباری مراکز کے اوقات کار کم کرنے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کیسے حاصل کریں؟ حکومت نے طریقہ کار جاری کردیا
تاہم ان میں سے کسی بھی تجویز پر تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور تمام آپشنز زیر غور ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ممکنہ ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ کے اقدامات کے بارے میں فیصلہ کسی بھی وقت متوقع ہے۔














