بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کے 7 سینیئر رہنماؤں کو 2024 کی طلبہ تحریک کو کچلنے کی کوشش میں کردار ادا کرنے کے الزام میں سزائے موت سنا دی ہے۔
غیر موجودگی میں سزا پانے والوں میں جماعت کے سابق جنرل سیکریٹری عبیدالقادر اور سابق وزیر محمد علی عرفات بھی شامل ہیں۔
جسٹس نذرالاسلام چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی ٹریبونل نے ساتوں افراد کو قتل سمیت انسانیت کے خلاف جرائم، قتل پر اکسانے اور تشدد کو ہوا دینے کے الزامات میں مجرم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں شیخ حسینہ کی میڈیا سے گفتگو پر بنگلہ دیش کا سخت احتجاج، دوطرفہ تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ
استغاثہ کے وکیل محمد امین الاسلام نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے سے مطمئن ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں حکومت مخالف طلبہ تحریک کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
Bangladesh tribunal hands death sentences to seven Awami League leaders over 2024 protest violencehttps://t.co/38DmHwFzmb
— The Telegraph (@ttindia) September 15, 2026
اس تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور وہ اگست 2024 میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہوگئی تھیں، جہاں وہ اب بھی موجود ہیں۔
عدالت سے سزا پانے والے دیگر افراد میں اے ایف ایم بہاؤالدین نسیم، شیخ فضل شمس پراش، معین الحق خان نکھل، صدام حسین اور شیخ ولی عاصف اینان شامل ہیں۔
عدالت نے 5 ملزمان کے نصف اثاثے احتجاج کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کو بطور معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی جولائی تحریک کو 2 سال مکمل، 61 دن میں حسینہ واجد کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ
ریاست کی جانب سے مقرر کردہ دفاعی وکیل ایم حسن امام نے عدالت کے فیصلے پر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان قتل کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث نہیں تھے اور انہیں سزائے موت کے بجائے کم سزا دی جا سکتی تھی۔
تازہ فیصلے کے بعد 2024 کی احتجاجی تحریک سے متعلق مقدمات میں سزا پانے والے افراد کی تعداد 68 ہوگئی ہے، جن میں 22 کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔
ان میں سے صرف 4 افراد زیرحراست ہیں، شیخ حسینہ نے عدالت کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
The International Crimes Tribunal-2 has sentenced Awami League General Secretary Obaidul Quader and six others to death over crimes against humanity committed during the 2024 July Uprising. The six others are Mohammad Ali Arafat, AFM Bahauddin Nasim, Sheikh Fazle Shams Parash,… pic.twitter.com/1WTKGXJMmm
— Centrist Nation TV (@centristnattv) September 15, 2026
دوسری جانب بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں، پولیس نے جیسور اور منشی گنج میں لیگ کے 58 رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔
جیسور میں 27 افراد کو مبینہ تخریبی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جبکہ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران منشیات، دیسی ساختہ بم نما اشیا اور بم بنانے کا سامان بھی برآمد ہوا۔
منشی گنج میں پولیس نے مزید 31 عوامی لیگ کارکنوں کو مبینہ طور پر احتجاجی ریلی نکالنے کی تیاری کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔














