ایران جنگ کی لاگت 38 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی، امریکی ایوان میں جنگ ختم کرنے کی تیسری قرارداد بھی منظور

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے تیسری مرتبہ جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور کرلی۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کانگریشنل بجٹ آفس نے جنگ کی لاگت کم از کم 38 ارب ڈالر اور امریکی دفاعی میزائلوں کے ذخیرے کو دوبارہ مطلوبہ سطح پر لانے میں کم از کم 5 سال لگنے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔

ایوان نمائندگان میں قرارداد 204 کے مقابلے میں 220 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس بار چند مزید ریپبلکن ارکان نے بھی زیادہ تر ڈیموکریٹس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم، اس نوعیت کی سابقہ قراردادوں کی طرح یہ بھی سینیٹ سے منظوری اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے بغیر قانون نہیں بن سکتی، جبکہ ٹرمپ کی جانب سے اسے ویٹو کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

کانگریشنل بجٹ آفس کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ جاری رہنے کی صورت میں اس کی لاگت ہر ماہ تقریباً 3 ارب ڈالر مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں پیٹریاٹ، تھاڈ اور بحری انٹرسیپٹر میزائلوں کی بڑی تعداد استعمال ہوچکی ہے، جس کے باعث امریکی ذخائر اس حد تک کم ہوگئے ہیں کہ پیداوار بڑھانے کے باوجود انہیں دوبارہ بھرنے میں کم از کم 5 سال لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمی مستقبل میں تائیوان کے معاملے پر چین کے ساتھ ممکنہ تنازع میں خاص طور پر مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کے حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں پر سینکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے، بالخصوص آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث، امریکی افراطِ زر بھی پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں نصف فیصد زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق 2027 کے آغاز تک جنگ مہنگائی کو متوقع سطح سے 0.5 فیصد پوائنٹ زیادہ رکھ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر سخت تنقید، ڈیموکریٹس کو آڑے ہاتھوں لے لیا

اس سے ایک روز قبل پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 30 جون تک امریکا نے صرف جنگی سازوسامان کی خریداری پر 22.3 ارب ڈالر خرچ کیے جبکہ مجموعی اخراجات 33.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ جنگ نے امریکی فوج کے اسٹریٹجک ذخائر میں کمی اور ہتھیاروں کی دوبارہ فراہمی کے لیے صنعتی صلاحیت میں رکاوٹوں کو نمایاں کردیا ہے۔ ادھر جون میں وائٹ ہاؤس نے اضافی طور پر 87.6 ارب ڈالر کی منظوری طلب کی تھی، جس میں 67.1 ارب ڈالر پینٹاگون کے لیے مختص تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp