امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگی اختیارات محدود کیے جانے کے اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس سیاسی مخالفت میں اس حد تک جا چکے ہیں کہ وہ انہیں مزید کامیابیاں حاصل کرنے دینے کے بجائے ملک کو نقصان پہنچانا پسند کریں گے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کو دھچکا،امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور کر لی
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ گزشتہ روز ان کے جنگی اختیارات محدود کرنے کے لیے ایک ایسی ووٹنگ کرائی گئی جسے انہوں نے بے معنی قرار دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ووٹنگ ایسے وقت میں کی گئی جب وہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے اہم اور فیصلہ کن مذاکرات میں مصروف ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اپنے ہی ملک کے مفادات کے خلاف اس نوعیت کا اقدام آخر کون کر سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ووٹنگ میں حصہ لینے والے ارکان بخوبی جانتے ہیں کہ مذاکرات کس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اس کے باوجود انہوں نے ایسا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس انہیں ایک اور کامیابی حاصل کرتے دیکھنے کے بجائے ملک کو ناکامی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے ان 4 ریپبلکن ارکان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے قرارداد کی حمایت کی اور کہاکہ انہیں اپنے طرز عمل پر شرمندہ ہونا چاہیے۔
ایوانِ نمائندگان نے قرارداد منظور کرلی
واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے سے متعلق قرارداد منظور کرلی ہے۔ قرارداد کے حق میں 215 جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ ڈالے گئے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
یہ قرارداد ڈیموکریٹک ارکان کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس کی حمایت 4 ریپبلکن ارکان نے بھی کی۔
قرارداد کے تحت ایران کے خلاف کسی بھی جنگی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہوگی اور صدر تنہا اس نوعیت کا فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔














