امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے، بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے جارہے اور صنعتیں تباہ ہورہی ہیں، لیکن حکومت غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کررہی۔
کراچی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری افسران اور وزرا کے لیے استعمال ہونے والی سرکاری گاڑیوں کی حد 1300 سی سی تک مقرر کی جائے، تاہم حکومت اس معقول تجویز پر توجہ نہیں دے رہی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارہ بھی سرکاری اخراجات کم کرنے پر زور دیتا ہے، لیکن حکومت وفاقی اخراجات میں مسلسل اضافے کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کررہی۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں طویل دھرنے کا عندیہ، ’اٹھانے کی کوشش کی تو اپنا شوق پورا کرلیں‘، حافظ نعیم
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی کمیٹی نے حکومت کی توجہ ان وزارتوں اور محکموں کی جانب بھی دلائی ہے جو اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت میں ان وزارتوں اور محکموں کی موجودگی برقرار ہے اور ان کے اخراجات بھی قومی خزانے سے برداشت کیے جارہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو جہاں جہاں اخراجات کم کیے جاسکتے ہیں وہاں عملی اقدامات کرنے چاہییں، تاہم اس کے بجائے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے مختلف موضوعات کو سامنے لایا جاتا ہے اور لوگوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں، جبکہ گزشتہ روز گجرات میں بھی ایک دھرنے کا اضافہ ہوا ہے، اس طرح اب ملک کے 40 شہروں میں بیک وقت دھرنے جاری ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی میں آج بڑا جلسہ ہوگا، جبکہ کل لاہور میں بھی بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا۔














