مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو کاروبار کے دوران فروخت کا دباؤ برقرار رہا اور انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے دوچار ہوگیا۔
دوپہر 12 بجے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,040 پوائنٹس یعنی 0.61 فیصد کمی کے بعد 168,352.35 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں شامل ہیں۔
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک اور نیشنل بینک جیسے انڈیکس پر اثر انداز ہونے والے نمایاں حصص منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔
https://Twitter.com/search?q=investify%20&src=typed_query
واضح رہے کہ منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی دیکھی گئی تھی، جب سرمایہ کاروں نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کا مثبت ردعمل دیا۔
اس کے نتیجے میں بڑے شعبوں میں منتخب خریداری ہوئی اور مارکیٹ نے گزشتہ سیشن کے دوران ہونے والے نقصانات کا بڑا حصہ واپس حاصل کرلیا تھا۔
منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,421.67 پوائنٹس کے اضافے سے 169,392.33 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: خام تیل مہنگا، ایشیائی مارکیٹیں دباؤ کا شکار، پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی مندی کی لپیٹ میں
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی بدھ کو ایشیائی مارکیٹوں میں محتاط انداز میں تیزی دیکھی گئی، تاہم عالمی بانڈز کی پیداوار اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی فیصلے پر مرکوز رہی۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس گزشتہ 4 مسلسل سیشنز میں کمی کے بعد اتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور آخری اطلاعات تک 0.2 فیصد اضافے میں تھا۔
جنوبی کوریا کے حصص میں 0.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں بھی 0.1 فیصد اضافہ ہوا۔

ادھر وال اسٹریٹ پر منگل کو ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 0.5 فیصد کمی ہوئی، جو مسلسل دوسری روز گراوٹ ہے۔ اس دوران 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
ایشیائی کاروبار کے دوران 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار 0.8 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.9875 فیصد رہی۔ منگل کو یہ تین سال میں پہلی مرتبہ 5 فیصد کی سطح سے تجاوز کر گئی تھی۔
سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی فیصلے اور فیڈ چیئر کی میڈیا کانفرنس پر بھی مرکوز ہے۔ سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق، مارکیٹ میں 25 بیسس پوائنٹس شرح سود بڑھنے کے امکان کی 92.4 فیصد عکاسی ہو رہی ہے، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ امکان 59.4 فیصد تھا۔














