سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل منصور اعوان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق اہم نکات پر معاونت طلب کرلی، جبکہ کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔
بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ فریقین کی جانب سے کمرۂ عدالت میں کوئی موجود ہے؟ عدالتی عملے نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد کی حاضری لگی ہوئی ہے، تاہم وہ اس وقت عدالت میں موجود نہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اٹارنی جنرل آ جائیں، پھر سب کو سنیں گے۔ بعد ازاں ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے گزشتہ روز حکم نامہ جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ انہوں نے آئینی عدالت کا حکم نامہ ججز کو پڑھ کر سنایا۔
جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ کیا اٹارنی جنرل آفس میں موجود ہیں؟ رانا اسد نے جواب دیا کہ جی، اٹارنی جنرل آفس میں موجود ہیں، جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا۔
سماعت دوبارہ شروع ہونے پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی اور وہ صرف آئین کی تشریح کرسکتی ہے، جبکہ آئین کی تشریح کے علاوہ تمام معاملات سپریم کورٹ کے پاس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آئینی عدالت کا عمران خان کی اسپتال منتقلی کیس سے جڑے تمام مقدمات کی سماعت کا فیصلہ
اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ ہی نہیں بلکہ کیسز بھی منگوا سکتی ہے، تاہم اس بات کا تعین ہونا ہے کہ آئینی عدالت کہاں کہاں سے ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آئینی عدالت کے حکم نامے میں ریکارڈ منگوا کر کیسز مقرر کرنے کا ذکر ہے، ‘کیسز مقرر کرنے’ کا لفظ ہمیں تنگ کر رہا ہے، اٹارنی جنرل معاونت کریں کہ وفاقی آئینی عدالت یہ کیس کیسے سن سکتی ہے؟
جسٹس شاہد وحید نے مزید کہا کہ آئینی عدالت کے حکم میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ تعین کرے گی کہ بنیادی حقوق کے کیسز کون سن سکتا ہے، حالانکہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہر کیس میں ہوتا ہے اور شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ہر فوجداری کیس میں سامنے آتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ آئینی عدالت کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ منگوا کر سماعت کے لیے مقرر کرنے کے حکم کے کیا نتائج ہوں گے، اٹارنی جنرل اس نکتے پر معاونت کریں۔
دوران سماعت جسٹس شاہد وحید نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد سے متعلق بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ سرکاری افسران کو 18 اگست کے حکم میں طلب کیا گیا تھا لیکن کوئی پیش نہیں ہوا، کیا یہ حکم عدولی نہیں؟ انہوں نے پوچھا کہ ملاقاتوں اور بچوں سے بات کرانے کے عدالتی حکم پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں، سوالات کا منفی مطلب نہ لیا جائے، یہ صرف معاملہ سمجھنے کے لیے ہیں۔
اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی، کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کردیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہوگا ایک موقع دے دیا جائے۔
بعد ازاں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے موخر کردی جائے، جسے سپریم کورٹ نے منظور کرتے ہوئے سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔














