مریخ پر پراسرار گڑھوں کی دریافت، 14 سال بعد بھی ناسا کا  ’کیوریوسٹی روور‘ سرخ سیارے سے حیران

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ناسا کے کیوریوسٹی روور نے مریخ کی سطح پر غیر معمولی گڑھوں کی تصاویر حاصل کی ہیں، جنہوں نے سائنس دانوں کے سامنے ایک نئی پہیلی کھڑی کر دی ہے۔

ناسا کے مطابق یہ دریافت اس وقت سامنے آئی، جب کیوریوسٹی روور ماؤنٹ شارپ کے اندر واقع گیل کریٹر کی ایک وسیع وادی ’ویل گرانڈے‘ سے گزر رہا تھا۔

ناسا کے مطابق کیمروں نے منظرنامے میں ایسے چوڑے اور کم گہرے گڑھوں کی نشاندہی کی، جو گرد و غبار سے ڈھکے آس پاس کے منظر میں نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے ناسا نے مریخ کے قریب سے گزرنے والے خلائی جہاز کی حیرت انگیز ویڈیو جاری کردی

خلائی ادارے مریخ کی سطح پر شہابیوں کے ٹکرانے سے بننے والے گڑھوں کی باقاعدگی سے تصاویر حاصل کرتے رہے ہیں۔ تاہم، ناسا کے مطابق حالیہ دریافت ہونے والے گڑھے ان سے مختلف نوعیت کے نظر آتے ہیں۔

مارس ہینڈ لینس امیجر، یعنی ایم اے ایچ ایل آئی کی ڈپٹی پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر مشیل منِٹی نے ناسا کی بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ اس قسم کے گڑھے کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم اس ہفتے مشاہدے میں آنے والے گڑھے ماضی کی مثالوں کے مقابلے میں زیادہ چوڑے اور کم گہرے تھے۔ ان کے ساتھ ایسی کوئی نمایاں چیز بھی موجود نہیں تھی جو کبھی ان گڑھوں کا حصہ رہی ہو۔

انہوں نے مزید کہا، ’مریخ کی سطح پر کیوریوسٹی کے 14 سال مکمل ہونے کے بعد بھی یہ سیارہ مسلسل حیران کر رہا ہے۔‘

ناسا کے مطابق ان گڑھوں کی قریبی تصاویر کیوریوسٹی کے کلر کیمرے مارس ہینڈ لینس امیجر (ایم اے ایچ ایل آئی) نے حاصل کیں، جبکہ ماسٹ کیم نے قریبی علاقے کی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تصاویر بنائیں۔

ان تصاویر کو بعد میں یکجا کرکے پراسیس کیا گیا، جس کے نتیجے میں مریخ کی سطح کے تھری ڈی ماڈلز تیار کیے گئے۔ ان ماڈلز کی مدد سے سائنس دانوں نے گڑھوں کی ساخت، شکل اور گہرائی کا جائزہ لیا۔

ناسا کے مطابق گڑھوں کا قطر تقریباً ایک سینٹی میٹر، یعنی 0.39 انچ ہے۔ کیوریوسٹی نے اس تصویری مجموعے کو 19 اگست 2026 کو 07:59:21 بجے یو ٹی سی کے مطابق تیار کیا۔

ڈاکٹر مشیل منِٹی نے ان گڑھوں کو ماؤنٹ شارپ کی چٹانوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل کو سمجھنے کے لیے ایک نئی پہیلی قرار دیتے ہوئے کہا، ’یہ ان عوامل کے بارے میں ایک نئی اور خوش آئند پہیلی تھی، جنہوں نے ماؤنٹ شارپ کی چٹانوں کی اس مخصوص تہہ دار ساخت کو متاثر کیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے مریخ پر زندگی کس جگہ تلاش کی جائے؟ ’شیطان کیڑے‘ نے سائنسدانوں کو نیا اشارہ دے دیا

انہوں نے مزید بتایا کہ بظاہر عام نظر آنے والی چٹانیں بھی دراصل خاصی پیچیدہ تھیں۔ ان کے مطابق ماسٹ کیم نے چٹانوں کی تہوں کی تصاویر بنائیں، جبکہ کیم کیم نے مختصر عمودی فاصلے کے اندر ساخت اور بناوٹ میں تبدیلیوں والی پیچیدہ تہوں کا جائزہ لیا۔

ڈاکٹر مشیل منِٹی نے کہا، ’یہ ممکنہ طور پر ان حالات میں تبدیلیوں کے شواہد ہو سکتے ہیں جن میں یہ چٹانی تہیں جمع ہوئیں اور جو ایک دوسرے کے قریب موجود تہوں میں محفوظ ہیں۔‘

ناسا کے مطابق کیم کیم، ایم اے ایچ ایل آئی اور اے پی ایکس ایس آلات نے سرمئی، کھردری اور سخت تہوں کا بھی جائزہ لیا، جو اردگرد کی بنیادی چٹان سے مختلف تھیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ان تہوں کی کیمیائی خصوصیات بھی مختلف ہو سکتی ہیں۔

کیوریوسٹی نے علاقے میں بکھرے ہوئے بھورے پتھروں میں سے ایک کا بھی مطالعہ کیا۔ یہ پتھر چھوٹے، ڈھیلے کنکروں کی شکل میں روور کے کام کرنے والے علاقے میں مختلف مقامات پر موجود تھے۔ کیم کیم کے ذریعے ان کا جائزہ لینے کا مقصد ان پتھروں کی اصل اور تشکیل کو سمجھنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp