مریخ پر زندگی کس جگہ تلاش کی جائے؟ ’شیطان کیڑے‘ نے سائنسدانوں کو نیا اشارہ دے دیا

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں نے زمین کی سطح سے تقریباً 1.3 کلومیٹر (0.8 میل) نیچے رہنے والے ایک انتہائی منفرد کیڑے ہیلیسیفیلوبس میفسٹو جسے عام طور پر ڈیول ورم یعنی شیطان کیڑا کہا جاتا ہے پر ہونے والی تحقیق کو زندگی کی تاریخ کی اہم ترین دریافتوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریخ پر 14 سالہ تحقیق کے بعد شہد کے چھتے جیسی حیران کن ساخت دریافت

یہ اب تک دریافت ہونے والا زمین کی سب سے زیادہ گہرائی میں رہنے والا جانور ہے جس نے سائنسدانوں کے اس تصور کو بدل دیا ہے کہ زندگی کن انتہائی سخت حالات میں بھی برقرار رہ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چند دہائیاں قبل تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ زمین کے اندر چند فٹ سے زیادہ گہرائی میں زندگی کا وجود ممکن نہیں تاہم بعد ازاں گہرائی میں رہنے والے بیکٹیریا دریافت ہوئے اور پھر سنہ 2011 میں جنوبی افریقہ کی ایک سونے کی کان سے شیطان کیڑے کی دریافت نے سائنس کی دنیا میں ہلچل مچا دی۔

یہ ننھا سا گول کیڑا صرف چند انسانی بالوں کے برابر لمبا ہوتا ہے مگر زمین کی گہرائی میں موجود اپنی دنیا میں یہ نسبتاً بڑا جانور سمجھا جاتا ہے۔ یہ چٹانوں کی دراڑوں میں موجود بیکٹیریا کو خوراک بناتا ہے اور سورج کی روشنی کے بغیر، انتہائی زیادہ دباؤ، اندھیرے اور تقریباً 37 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں زندگی گزارتا ہے۔

ایک کیڑا جس نے سائنس بدل دی

بیلجیئم کے محقق گیٹن بورگونی نے سنہ 2008 میں جنوبی افریقہ کی بیٹرکس گولڈ مائن میں گہرائی سے نکلنے والے پانی کو فلٹر کیا تو ہزاروں لیٹر پانی میں صرف ایک نامعلوم کیڑا ملا۔ خوش قسمتی سے وہ مادہ تھا اور مرنے سے پہلے اس نے آٹھ زندہ انڈے دے دیے، جن سے پیدا ہونے والی نسلوں پر آج بھی تحقیق جاری ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ واحد کیڑا زندہ نہ رہتا تو شاید یہ حیرت انگیز دریافت کبھی ممکن نہ ہوتی۔

سخت ترین ماحول میں زندہ رہنے کا راز

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ شیطان کیڑے کے جسم میں ایسے جینز کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے جو ہیٹ شاک پروٹینز بناتے ہیں۔ یہ پروٹین شدید گرمی میں جسم کے دوسرے پروٹینز کو نقصان سے بچاتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مریخ پر زندگی کے آثار: نئے اور مضبوط سراغ مل گئے

مزید یہ کہ اس کی توانائی پیدا کرنے والی حیاتیاتی مشینری عام درجہ حرارت پر تقریباً سست پڑ جاتی ہے جبکہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ پر نہایت مؤثر طریقے سے کام کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کیڑا ٹھنڈے ماحول میں سست اور گرم ماحول میں انتہائی سرگرم رہتا ہے۔

بغیر نر کے نسل بڑھانے کی صلاحیت

سائنسدانوں کے مطابق شیطان کیڑے کی ایک اور حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ مادہ کیڑا بغیر نر کے بھی افزائش نسل کر سکتا ہے جسے پارتھینوجینیسس کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں اپنی ہی نسل کے دوسرے کیڑوں سے ملاقات انتہائی کم ہونے کی وجہ سے یہ صلاحیت اس کی بقا میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

زمین کے اندر ایک پوشیدہ دنیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں صرف یہی کیڑا نہیں بلکہ بے شمار بیکٹیریا، فنگس اور دیگر خردبینی جاندار بھی موجود ہیں جو ایک مکمل زیرِ زمین حیاتیاتی نظام تشکیل دیتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق زمین کے تمام خردبینی جانداروں کے مجموعی حیاتیاتی حجم کا 12 سے 20 فیصد حصہ اسی گہری حیاتیاتی دنیا میں موجود ہے۔

یہ بیکٹیریا نہ صرف ان کیڑوں کی خوراک بنتے ہیں بلکہ ایسے کیمیائی ماحول کو بھی برقرار رکھتے ہیں جس میں پیچیدہ جاندار زندہ رہ سکتے ہیں جبکہ کیڑے مرنے کے بعد دوبارہ انہی جرثوموں کی خوراک بن جاتے ہیں۔

مریخ پر زندگی کی تلاش میں بھی مدد؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ شیطان کیڑے کی دریافت نے صرف زمین پر زندگی کے بارے میں ہی نہیں بلکہ مریخ اور دیگر سیاروں پر ممکنہ حیات کے بارے میں بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر مریخ پر زندگی موجود ہے تو اس کے سطح کے بجائے زیر زمین ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی بڑے شہابیے کے ٹکرانے سے زمین کی سطح پر زندگی ختم بھی ہو جائے تو ممکن ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں موجود یہی جاندار دوبارہ زندگی کے آغاز کی بنیاد بنیں۔

مزید پڑھیں: ناسا نے دور افتادہ سیارے پر زندگی کے ٹھوس آثار ڈھونڈ نکالے

ماہرین کے مطابق شیطان کیڑا اس بات کا ثبوت ہے کہ زندگی انتہائی ناموافق حالات میں بھی اپنا راستہ نکال لیتی ہے اور یہی خصوصیت اسے زمین پر موجود سب سے حیران کن جانداروں میں شامل کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp