لاجسٹکس سیکٹر میں انقلابی اقدام، این ایل سی اور پاکستان ریلویز کے درمیان اسٹریٹجک فریم ورک پر دستخط

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) اور پاکستان ریلویز نے ملک میں ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اسٹریٹجک فریم ورک پر دستخط کر دیے ہیں۔

اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں اداروں کی صلاحیتوں کو یکجا کر کے معیشت کے لیے موثر اور سستی مال بردار سروسز کا فروغ ہے۔

بدھ کو ہونے والی اس تقریب میں وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی سمیت این ایل سی اور پاکستان ریلویز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی آم کی وسط ایشیائی ریاستوں تک ترسیل، این ایل سی کا کنٹینر تاشقند پہنچ گیا

اسٹریٹجک فریم ورک آف کوآپریشن کا مقصد دونوں اداروں کے درمیان نئے کاروباری مواقع تلاش کرنا، فریٹ کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانا اور قومی معیشت کو سہارا دینے کے لیے مربوط لاجسٹکس حل تیار کرنا ہے۔

انفراسٹرکچر کی ترقی

اس فریم ورک کے تحت لاجسٹک انفراسٹرکچر کی ترقی، مال برداری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سپلائی چین کے مربوط منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔

یہ تعاون این ایل سی اور ریلویز کی مشترکہ طاقت سے تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل لاجسٹک سروسز کے فروغ پر مرکوز ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے دونوں اداروں کے درمیان دیرینہ تعاون کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فریم ورک ملک بھر میں مال برداری کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے قومی ترقی میں این ایل سی کی شاندار خدمات کی بھی بھرپور تعریف کی۔

واضح رہے کہ این ایل سی اور پاکستان ریلویز پہلے ہی کراچی میں ‘ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک’ اور ‘ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور’ کی تعمیر پر کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:این ایل سی نے خلیجی ممالک کے لیے پہلی کنٹینرائزڈ پرچم بردار بحری سروس کا آغاز کردیا

این ایل سی پاکستان ریلویز کی مال بردار ٹرینوں کے سب سے بڑے کلائنٹس میں سے ایک ہے، جس کی بدولت دونوں اداروں کا ورکنگ ریلیشن شپ انتہائی مستحکم ہے۔

2 ارب ڈالر کا میگا پراجیکٹ

رواں سال جنوری میں بھی دونوں اداروں نے مین لائن-2 (ایم ایل 2) کو ایک مخصوص فریٹ کوریڈور کے طور پر اپ گریڈ کرنے کا معاہدہ کیا تھا تاکہ ملک کے مختلف شہروں تک کم وقت میں تجارتی سامان کی ترسیل ممکن ہو سکے۔

کوٹری سے اٹک تک بننے والے اس کوریڈور پر تقریباً 2 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس اہم منصوبے کے لیے این ایل سی بینکوں یا دیگر فنڈنگ ایجنسیوں کے ذریعے خود مالیات کا بندوبست کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp