الاسکا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے کے بعد 15 سالہ لڑکے نے برفیلے سمندر میں 62 گھنٹے گزار کر موت کو شکست دے دی، تاہم اس دوران اس کے بڑے بھائی اور کزن جان کی بازی ہار گئے۔
امریکی ریاست الاسکا کے قریب بیرنگ سی میں 5 ستمبر کو ایک چھوٹی مچھلی پکڑنے والی کشتی اچانک الٹ گئی، جس کے نتیجے میں کشتی پر سوار افراد سمندر میں جا گرے۔ حادثے کے بعد 15 سالہ ڈیرک پارکر اگنانگا اپنے بھائی اور کزن کے قریب رہا۔
A 15-year-old survived 62 hours at sea, holding onto the bodies of his own family members just to stay alive. Imagine being that young, completely alone in the middle of the ocean, with nothing but grief and hope keeping you going. 💔
Some stories are not just heartbreaking…… pic.twitter.com/x4R0Numbhh
— The World R🅰️nking (@worldranking_) September 16, 2026
رپورٹ کے مطابق دونوں کے ڈوبنے کے بعد ڈیرک نے طویل وقت تک ان کی لاشوں کو تھامے رکھا تاکہ وہ سمندری لہروں میں بہہ نہ جائیں۔ وہ مدد پہنچنے کی امید میں اپنے پیاروں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا، تاہم تیز سمندری دھاروں کے باعث بالآخر اسے ان سے الگ ہونا پڑا۔
امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق 7 ستمبر کی صبح الٹی ہوئی کشتی کا سراغ لگایا گیا اور امدادی سامان گرایا گیا۔ بعد ازاں قریب موجود ایک بحری جہاز نے ڈیرک کو کشتی پر موجود پایا اور اسے ریسکیو کرلیا، جبکہ اس کے بھائی اور کزن کی لاشیں بھی برآمد کرلی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ملاح اکیلے آرکٹک سمندر کا چکر لگانے کے منفرد مشن پر گامزن
ریسکیو کے وقت ڈیرک شدید پانی کی کمی اور ہائپوتھرمیا کا شکار تھا اور اس کی حالت تشویش ناک تھی، تاہم وہ سانس لے رہا تھا۔ اسے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے طبی مرکز منتقل کیا گیا۔
امدادی حکام نے کہا کہ اس واقعے میں دو افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، تاہم بروقت کارروائی کے نتیجے میں ایک قیمتی جان بچالی گئی۔














