پنجاب میں ‘پری اسموگ آپریشن’ کے مثبت نتائج، لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس بہتر ہوگیا

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر صوبے بھر میں جاری ‘پری اسموگ آپریشن’ کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) بہتری کے ساتھ 55 اور پنجاب کا مجموعی انڈیکس 90 ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق اسموگ کے تدارک کے لیے مانیٹرنگ سے لے کر انفورسمنٹ تک تمام متعلقہ محکمے فیلڈ میں متحرک ہیں۔

صنعتی و تجارتی آلودگی کے خلاف کارروائیاں

ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA) نے نائٹ اسکواڈز اور ڈرون سرویلنس کی مدد سے آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ 441 بھٹوں کے معائنے کے دوران 21 مسمار، 4 سیل، 6 ایف آئی آرز درج اور 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ 270 صنعتی یونٹس کی چیکنگ کے دوران 16 کو مسمار، 5 کو سیل اور 16لاکھ روپے کا جرمانہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس، مصنوعی بارش برسانے سے کتنا فائدہ ہوا؟

253 انسپیکشنز کے دوران 3,145 کلوگرام ممنوعہ پلاسٹک ضبط کر کے 26 مقامات کو سیل کر دیا گیا۔

باربی کیو اور کمرشل کچنز سے دھوئیں کے اخراج پر 52 مقامات کی تفتیش کی گئی اور 30 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کروائے گئے۔

زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور ‘زیرو ٹالرنس’

فصلوں کی باقیات (دھان کے کسانوں) کو آگ لگانے کے رجحان کو روکنے کے لیے جدید مشینی نظام نافذ کیا گیا ہے۔

کھیتوں میں 10 ہزار سپر سیڈرز فعال کر دیے گئے ہیں جن کی تعداد 2029ء تک 20 ہزار کرنے کا ہدف ہے۔ علاوہ ازیں 1,259 کبوتہ مشینیں اور 163 بیلرز فیلڈ میں کام کر رہے ہیں۔

باقیات جلانے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت 3 لاکھ 77 ہزار وارننگ نوٹسز جاری کیے گئے۔ مؤثر حکمتِ عملی کے باعث ایک ہی دن میں محض ایک واقعہ رپورٹ ہوا جس پر 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

موٹروے سے ملحقہ 373 ایکڑ زرعی زمین پر آگ لگانے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔

شہری نظم و ضبط اور ماحولیاتی بہتری

بلدیاتی محکمے (LG&CD) اور ضلعی انتظامیہ نے دھول اور کوڑا جلانے کی روک تھام کے لیے بھی سخت اقدامات کیے ہیں۔

گرد و غبار کم کرنے کے لیے 1,006 کلومیٹر طویل سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا، جبکہ تعمیراتی میٹریل کھلے عام رکھنے پر 58 سائٹس پر ایکشن لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے کیا لاہور میں فضائی آلودگی کی وجہ جاری ترقیاتی کام اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہے؟

ٹائر، پلاسٹک اور فضلہ جلانے پر 288 نوٹسز جاری کیے گئے۔

ٹریفک کی روانی متاثر کرنے پر 644 نوٹسز اور 7 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ درختوں کی کٹائی کے خلاف 12 اقدامات کے ساتھ ساتھ 244 نئے پودے لگائے گئے۔

حکومتِ پنجاب کے مطابق عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک ہی دن میں 254 اگاہی سرگرمیاں بھی منعقد کی گئی ہیں تاکہ انتظامی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون سے سموگ پر مستقل قابو پایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp