اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس بھرپور تاریخ، ثقافت اور مختلف تہذیبوں کے امتزاج کی دولت موجود ہے، ملک میں تاریخی اور ثقافتی مقامات کی کمی نہیں، جبکہ صوفی ازم کو سیاحت کے ساتھ مربوط کرکے پاکستان کے لیے ایک منفرد پہلو سامنے لایا جاسکتا ہے۔
اسلامی سیاحت کے موضوع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا کہ اسلامی سیاحت کے تصور پر دعوت ملنے سے پہلے انہیں اس حوالے سے کوئی خاص علم نہیں تھا، تاہم پاکستان میں سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سیاحت ایک باقاعدہ صنعت کی حیثیت رکھتی ہے اور مختلف معیشتوں میں اہم کردار ادا کررہی ہے، تاہم پاکستان میں سیاحت سے پیدا ہونے والی معیشت کے حجم کا تعین کرنے کے لیے سنجیدہ کام کی ضرورت ہے۔
لاہور، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا بین الاقوامی اسلامی کانفرنس کی تقریب سے خطاب pic.twitter.com/R9BJNreMyG
— PTV News (@PTVNewsOfficial) September 17, 2026
ملک احمد خان نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں ملائیشیا کو کیس اسٹڈی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر پاکستان سیاحت کو قومی معیشت میں مؤثر کردار دینا چاہتا ہے تو وفاقی حکومت کو بھی ملائیشیا کی طرز پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ سیاحت کا معاملہ صوبائی خودمختاری کے حوالے سے بھی ایک سنجیدہ بحث کو جنم دیتا ہے۔ اگر سیاحت کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات ہوگی تو صوبائی خودمختاری کے حامی ان جیسے لوگ بھی اس پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے ماہرین کو مل بیٹھ کر تحقیقی سفارشات اور پالیسی پیپرز تیار کرنے چاہییں۔ سیاحت کے معاملے میں سیاسی نقطہ نظر بھی انتہائی اہم ہے، تاہم وہ خود سیاحت کے ماہر نہیں بلکہ ایک عام آدمی کی حیثیت سے اپنا نقطہ نظر پیش کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان سے ڈیل ہو رہی ہے نہ شہباز حکومت کے خلاف کوئی فیصلہ آئے گا: ملک احمد خان
ملک احمد خان نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 3 دہائیوں سے دہشتگردی اور سیاسی عدم استحکام جیسے چیلنجز کا سامنا کررہا ہے اور بڑی و علاقائی طاقتوں کے لیے کئی دہائیوں تک تجربات کی جگہ بنا رہا، تاہم ان تمام چیلنجز کے باوجود ملک میں سیاحت کی خواہش ختم نہیں ہوسکی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 6 کروڑ افراد کے اندرون ملک سفر کے اعداد و شمار اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ملک میں سیاحت کی گنجائش اور صلاحیت موجود ہے۔ پاکستانی عوام میں سیاحت کی خواہش موجود ہے، چاہے یہ اندرون ملک سفر ہو یا اسلامی ممالک کی سیاحت، جبکہ لوگ اپنی مالی استطاعت کے مطابق سفر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
ملک احمد خان نے کہا کہ اسلامی سیاحت کا تصور بنیادی طور پر ایک اچھا خیال ہے اور اسے بہتر منصوبہ بندی، تحقیق اور پالیسی کے ذریعے پاکستان کی معیشت اور سیاحتی شعبے کے لیے مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔













