بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع اُودھم پور میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشتگردی کی تازہ کارروائی کے دوران 2 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دونوں نوجوان ضلع اُودھم پور کے علاقے مجالتہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید ہوئے۔
بھارتی فورسز نے منگل کے روز اُودھم پور کے علاقوں خوبند، سوہان، مجالتہ اور بسنت گڑھ میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی تھی۔ بھارتی حکام نے دونوں نوجوانوں کو ’عسکریت پسند‘ قرار دیا ہے، تاہم کشمیر میڈیا سروس نے انہیں بھارتی فورسز کی کارروائی میں شہید ہونے والے نوجوان قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کا کریک ڈاؤن، گھروں پر چھاپے، ڈیجیٹل نگرانی مزید سخت
رپورٹ کے مطابق شہید ہونے والے نوجوانوں کی شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی، جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
کشمیر میں اس نوعیت کی کارروائیوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دیگر مبصرین ماضی میں بھی سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ بعض واقعات میں جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
جموں و کشمیر میں جاری عسکری ماحول کے تناظر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں تاکہ ہلاکتوں کے حقائق کی غیر جانب دارانہ تصدیق ہو سکے۔
جموں و کشمیر دنیا کے انتہائی عسکریت زدہ خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں بھارتی فورسز کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) سمیت بعض خصوصی قوانین کے تحت وسیع اختیارات اور قانونی تحفظ حاصل ہے۔














