مصنوعی ذہانت کا نیا خطرہ، ’کلاڈ‘ نے اوپن اے آئی کا سسٹم ہیک کرلیا

جمعہ 18 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائبر سیکیورٹی کمپنی ’ہیکٹرون‘ کے محققین نے اینتھروپک کے جدید ترین اے آئی ماڈل ’کلاڈ‘ کا استعمال کرتے ہوئے اوپن اے آئی کے اندرونی سسٹم میں کامیابی سے دراندازی کر کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے پیدا ہونے والے نئے سائبر خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔

سیکیورٹی فرم ہیکٹرون کے مطابق ریسرچرز نے ’ڈس کورس‘ پلیٹ فارم پر مبنی اوپن اے آئی کے عمومی ہیلپ فورم میں ایک بڑی سیکیورٹی خامی کی نشاندہی کی۔

ابتدا میں اس خامی سے فائدہ اٹھانے کے لیے اینتھروپک کا ’کلاڈ اوپس 4.8‘ ماڈل استعمال کیا گیا، لیکن اس سے مستقل نتائج حاصل کرنا دشوار تھا۔
یہ بھی پڑھیں:کلاڈ، چیٹ جی پی ٹی، گروک اور مائیکروسافٹ کی سروسز میں تعطل، بحالی شروع

تاہم، اینتھروپک کی جانب سے نیا اور زیادہ طاقتور ماڈل ’کلاڈ اوپس 5‘ جاری ہوتے ہی محققین نے محض 3 گھنٹوں کے اندر سسٹم پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے والا کوڈ تیار کر لیا۔

محققین نے واضح کیا کہ اس تجربے کے لیے اینتھروپک کے سب سے طاقتور سائبر ماڈل ’کلاڈ میتھوس‘ کا استعمال نہیں کیا گیا، جو فی الوقت صرف مخصوص سائبر دفاعی اداروں تک محدود ہے۔

اوپن اے آئی کا فوری ردعمل اور انعام

ہیکٹرون کے مطابق اس خامی کی اطلاع فوری طور پر اوپن اے آئی اور ڈس کورس کو دی گئی، جس پر دونوں اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پیچ جاری کیا۔

اوپن اے آئی نے تصدیق کی کہ اطلاع ملنے کے 14 گھنٹوں کے اندر اس خامی کو مکمل طور پر دور کر دیا گیا اور ریسرچرز کو 6,500 ڈالر کا انعام بھی دیا گیا۔

مزید پڑھیں:اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران

اوپن اے آئی کے ترجمان ڈریو پوساتیری کا کہنا تھا کہ ادارہ محققین کی کاؤشوں کا ممنون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سائن ان ٹوکنز کے اختیارات محدود کر کے متاثرہ تمام سیشنز کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

دیگر اداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی

ہیکٹرون کے مطابق یہ سیکیورٹی خامی صرف اوپن اے آئی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ڈس کورس پلیٹ فارم استعمال کرنے والی کئی دیگر بڑی کمپنیوں جیسے میٹا اور سلیک کے پروڈکٹس میں بھی موجود ہے، جہاں مزید ٹیسٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس واقعے نے اس خوف کو سچ ثابت کر دیا ہے کہ جدید اے آئی ٹولز نے پیچیدہ سائبر حملوں کو انتہائی سستا، آسان اور تیز ترین بنا دیا ہے، جن کے لیے ماضی میں ماہرین کی بڑی ٹیموں اور مہینوں کی محنت درکار ہوتی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp