امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ٹیکساس میں وفاقی سہولیات میں بھیجے جانے والے بے سہارا تارکین وطن بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کیا ہے جس پر امیگریشن کے حامیوں میں وکلا تک رسائی اور ممکنہ ملک بدری کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز، 5 روز میں 10 ہزار سے زائد گرفتار
دی گارڈین کے ساتھ شیئر کیے گئے امیگریشن ڈیٹا پلیٹ فارم کے تجزیے کے مطابق جولائی میں نئی امیگریشن عدالتی کارروائیوں میں داخل ہونے والے وفاقی تحویل میں موجود تقریباً 80 فیصد بچوں کو ٹیکساس بھیجا گیا جو اگست میں بڑھ کر 90 فیصد سے زیادہ ہو گیا۔
تجزیے میں پایا گیا کہ ان 2 مہینوں کے دوران 651 بچوں کو ٹیکساس بھیجا گیا۔
حامیوں نے دی گارڈین کو بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ بچوں کو ٹیکساس میں مرکوز کرنے سے ملک بدری آسان ہو سکتی ہے حالانکہ وفاقی حکام نے عوامی طور پر اسے اس تبدیلی کی وجہ قرار نہیں دیا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف مہم میں گرفتار 5 سالہ بچے کی رہائی کا حکم
فلورنس امیگرنٹ اینڈ ریفیوجی رائٹس پروجیکٹ کی روکسانا ایویلا-سمپینو نے خبردار کیا کہ یہ سہولیات ایک ایسی فیکٹری بن سکتی ہیں جو ملک بدری کو تیزی سے انجام دے جہاں نام کے تو وکیل ہوں لیکن حقیقی نمائندگی نہ ہو۔
تجزیے میں پایا گیا کہ ہیوسٹن میں 17.2 فیصد، ایل پاسو میں 18.6 فیصد اور سان انتونیو میں 8.7 فیصد بچوں کی قانونی نمائندگی کا فارم دائر کیا گیا تھا۔
ایجنسی 3,000 بستروں تک کی ہنگامی سہولیات کے لیے معاہدے بھی تلاش کر رہی ہے حالانکہ اس کا موجودہ شیلٹر اور فوسٹر کیئر نیٹ ورک تقریباً 27 فیصد صلاحیت پر کام کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس نئی کارروائی کے تحت ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں اکیلے داخل ہونے والے تارکین وطن بچوں کو ملک بھر کے لائسنس یافتہ شیلٹرز میں رکھنے کے بجائے بڑی تعداد میں ٹیکساس کی وفاقی اور ہنگامی سہولیات میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ جولائی میں 80 فیصد اور اگست میں 90 فیصد سے زیادہ بچے ٹیکساس بھیجے گئے حالانکہ موجودہ نیٹ ورک صرف 27 فیصد بھرا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: سیوٹا: یورپ کے خواب چکناچور، تارکین وطن مایوس ہو کر مراکش واپس لوٹنے لگے
پہلے بچوں کو مختلف ریاستوں میں رکھا جاتا تھا جہاں وکلا اور فلاحی اداروں کی رسائی بہتر تھی۔ ٹیکساس بھیجنے سے خطرہ اس لیے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں قانونی نمائندگی کی شرح بہت کم ہے (ہیوسٹن میں 17فیصد، ایل پاسو میں 18 فیصد) عدالتیں نسبتاً سخت سمجھی جاتی ہیں اور یہ غیر لائسنس یافتہ ہنگامی مراکز ہیں جہاں وکلا کی رسائی محدود ہوتی ہے – اس لیے انسانی حقوق کے گروپوں کو ڈر ہے کہ یہ ’ڈی پورٹیشن فیکٹری‘ بن جائیں گے جہاں بچوں کو وکیل کے بغیر تیزی سے ملک بدر کیا جا سکے گا۔














