امریکا میں تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز، 5 روز میں 10 ہزار سے زائد گرفتار

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں تیزی لاتے ہوئے صرف 5 روز کے دوران 10 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ امیگریشن حکام کو روزانہ کم از کم 2 ہزار گرفتاریاں یقینی بنانے کا نیا ہدف بھی دے دیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر بے دخلی کے منصوبے پر عمل درآمد تیز کر دیا ہے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ہدایت پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکاروں کو روزانہ کم از کم دو ہزار افراد کی گرفتاری کا ہدف دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں زیرِ حراست تارکینِ وطن کی تعداد 63 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث حراستی مراکز پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں اس وقت مزید شدت آئی جب امریکی سپریم کورٹ سے انتظامیہ کو کئی اہم قانونی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف مہم میں گرفتار 5 سالہ بچے کی رہائی کا حکم

وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ جن افراد سے قانونی تحفظ واپس لے لیا گیا ہے، انہیں ملک بدر کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

دوسری جانب ہوم لینڈ سیکیورٹی سے وابستہ رکنِ کانگریس مارک وین ملن نے پہلے نسبتاً خاموش انداز میں کارروائیاں کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم حالیہ مہم سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ صدر ٹرمپ کے سالانہ دس لاکھ افراد کو ملک بدر کرنے کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے زیادہ جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے۔

آئی سی ای حکام کے مطابق ادارے کا ہدف مالی سال 2026 اور 2027، دونوں میں سالانہ 10 لاکھ افراد کو امریکا سے بے دخل کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp