امریکی حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں تیزی لاتے ہوئے صرف 5 روز کے دوران 10 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ امیگریشن حکام کو روزانہ کم از کم 2 ہزار گرفتاریاں یقینی بنانے کا نیا ہدف بھی دے دیا گیا ہے۔
🚨 JUST IN: The White House is reportedly pressuring ICE into SURGING ARRESTS of illegal aliens — Daily Wire
This comes as ICE reportedly arrested 10,000 THOUSAND people across 5 days
DHS is recently deporting 3,200 daily, per Sec. Markwayne Mullin pic.twitter.com/HGudmMRqb7
— Pastor Bob Joyce – Household Of Faith (@PastorBobJee) July 2, 2026
امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر بے دخلی کے منصوبے پر عمل درآمد تیز کر دیا ہے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ہدایت پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکاروں کو روزانہ کم از کم دو ہزار افراد کی گرفتاری کا ہدف دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں زیرِ حراست تارکینِ وطن کی تعداد 63 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث حراستی مراکز پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں اس وقت مزید شدت آئی جب امریکی سپریم کورٹ سے انتظامیہ کو کئی اہم قانونی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف مہم میں گرفتار 5 سالہ بچے کی رہائی کا حکم
وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ جن افراد سے قانونی تحفظ واپس لے لیا گیا ہے، انہیں ملک بدر کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

دوسری جانب ہوم لینڈ سیکیورٹی سے وابستہ رکنِ کانگریس مارک وین ملن نے پہلے نسبتاً خاموش انداز میں کارروائیاں کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم حالیہ مہم سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ صدر ٹرمپ کے سالانہ دس لاکھ افراد کو ملک بدر کرنے کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے زیادہ جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے۔
آئی سی ای حکام کے مطابق ادارے کا ہدف مالی سال 2026 اور 2027، دونوں میں سالانہ 10 لاکھ افراد کو امریکا سے بے دخل کرنا ہے۔














