ایف آئی آر میں تاخیر، سپریم کورٹ سندھ پولیس پر سخت برہم، آئندہ توہینِ عدالت کی وارننگ

جمعہ 18 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے سندھ میں ایف آئی آر کے اندراج میں مسلسل تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ تاخیر کی صورت میں آئی جی سندھ سمیت ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے دادو کے 2012 کے قتل کیس میں ملزم علی رضا سیال کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔

7 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا کہ سابقہ ہدایات اور آئی جی سندھ کی پیشی کے باوجود صوبے میں ایف آئی آر کے تاخیر سے اندراج کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ : قابل دست اندازی جرم کی اطلاع پر اندراج مقدمہ میں تاخیر کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ اس حکم کی خلاف ورزی پر آئی جی، ایس پی انویسٹی گیشن اور ایس ڈی پی اوز کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔

عدالت عالیہ نے اپنے 2026 کے ’محمد بخش کیس‘ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جرم کی اطلاع ملتے ہی فوراً ایف آئی آر درج کرنا پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے۔

کریمنل جسٹس سسٹم میں وقت کی انتہائی اہمیت ہے اور تاخیر سے فرانزک ثبوت ضائع یا خراب ہو جاتے ہیں، جس سے مقدمے کی شفافیت متاثر ہوتی ہے۔ موجودہ کیس میں واقعے کی اطلاع اسی رات ملنے کے باوجود ایف آئی آر 3 دن بعد درج کی گئی۔

2 ماہ میں رپورٹ اور فیصلے کا سندھی ترجمہ کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے پروٹیکٹر جنرل سندھ کو حکم دیا کہ وہ یکم جنوری 2025 سے اب تک کے تمام قتل کے مقدمات کی تفصیلی رپورٹ 2 ماہ کے اندر چیمبر میں پیش کریں، جس میں 24 گھنٹے کے بعد درج ہونے والی ایف آئی آرز کی نشاندہی کی جائے۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی کہ ’محمد بخش کیس‘ کے فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کر کے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے تاکہ سندھ کے عام شہری اسے آسانی سے سمجھ سکیں۔

’فریادی‘ اور ’بخدمت جناب ایس ایچ او‘ جیسے الفاظ پر اعتراض

سپریم کورٹ نے پولیس کی کارروائی میں استعمال ہونے والے نوآبادیاتی دور کے الفاظ پر شدید اعتراض اٹھایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ لفظ ’فریادی‘ فارسی لفظ ’فریاد‘ سے نکلا ہے جس کے معنی آہ و زاری کے ہیں، جبکہ شہری اپنے حقوق کے لیے حکام کے پاس آتے ہیں، رحم کی بھیک مانگنے نہیں۔

مزید پڑھیں:کچے میں سندھ پولیس کا آپریشن جاری، خطرناک ڈاکو نے سرینڈر کردیا

اسی طرح ’بخدمت جناب ایس ایچ او‘ جیسے الفاظ بھی ماتحتی کا تاثر دیتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایس ایچ او عوام کا خادم ہوتا ہے۔

ٹرائل کورٹس کو کارروائی کا اختیار

عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں تاخیر کو صرف ایک انتظامی بے قاعدگی نہیں سمجھا جائے گا۔ اگر ٹرائل کورٹس کو یہ ثابت ملے کہ تاخیر پولیس کی غفلت تھی تو وہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201 کے تحت قانونی کارروائی اور متعلقہ افسر کے خلاف شعبہ جاتی اقدام کے لیے آئی جی کو معاملہ بھیجنے کی پابند ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں بھی جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر مناللہ اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے قرار دیا تھا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت ایف آئی آر کا اندراج ایک لازمی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے جسے آئین کے آرٹیکل 4 کے مطابق انجام دینا ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp