کہا جاتا ہے کہ شاعر، ادیب یا لکھاری معاشرے کا حساس ترین طبقہ ہوتے ہیں۔ یہ دوسروں کے دکھ اور تکلیف کو ایسے مؤثر انداز میں لکھتے یا بیان کرتے ہیں کہ کرداروں کی تکلیف کو قارئین اپنی ذاتی تکلیف محسوس کرنے لگتے ہیں۔
مگر معاشرے کے اس حساس طبقے میں بھی بعض اوقات چند ‘دانے’ ایسے نکل آتے ہیں جنھیں اگر سفاک، ظالم بلکہ سیدھا سیدھا قاتل کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔
آج ہم نے یہاں ایسے ہی کچھ مشہور لکھاریوں یا کرائم رائٹرز کا ‘خاص’ احوال جمع کیا ہے، جنھوں نے جرم و سزا کے موضوع پر اپنے فکشن کو ذاتی زندگی میں حقیقت کا روپ دے ڈالا اور ویلن بن کر کسی کی جان لے لی۔
ان کی تخلیقی ‘دیانت’ کا عالم دیکھیے کہ انہوں نے اپنے اگلے ناول میں وہ واردات من و عن لکھ بھی دی اور اسی باعث پکڑے گئے اور عدالتوں سے سزا کا سامنا کیا۔
نینسی کریمپٹن
وہ امریکا کی ایک مشہور لکھاری ہیں جو ریاست اوریگان میں رہتی ہیں۔ نینسی کریمپٹن کا ایک ناول بیسٹ سیلر بھی رہا ہے۔
اس ناول میں انہوں نے ایک خاتون کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا ہے جو کھلی آنکھوں سے روزانہ ہی ایک خواب دیکھتی ہے کہ اس نے اپنے شوہر کو قتل کر دیا ہے۔ یہ کردار عمر رسیدہ لکھاری نینسی کریمپٹن پر اتنا حاوی ہو جاتا ہے کہ وہ سچ مچ اپنے میاں کو قتل کر ڈالتی ہے۔
نینسی کریمپٹن کے ناول کا عنوان ‘دی رانگ ہزبنڈ’ ہے، جو 2015ء میں شائع ہوا تھا۔ اس سے پہلے 2011 میں انہوں نے اسی موضوع پر ایک ویب سائٹ ‘سی جین پبلش’ پر بلاگ بھی لکھا تھا، جس کا عنوان تھا: ‘ہاؤ ٹو مرڈر یور ہزبنڈ’ ۔
حالانکہ ان کی ابتدائی شہرت رومانوی کہانیوں کی لکھاری کی تھی، مگر بعد میں وہ خوفناک جرائم کی کہانیاں لکھنے لگی تھیں۔
اس حوالے سے انہوں نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ’ایک رومانوی اور سسپنس لکھاری ہونے کے باعث مجھے اپنا بہت زیادہ وقت قتل کی نت نئی وارداتوں، پولیس کی تفتیش اور سراغ رسانی سے متعلق سوچتے گزرتا ہے۔
یہ سب سوچتے سوچتے، پتا نہیں کب میں نے خود قاتل بننے کا فیصلہ کر لیا۔ شاید یہ اس لیے ہوا کہ میرے ذہن میں ایک ایسے قتل کا منصوبہ پروان چڑھ چکا تھا جو کم از کم میری نظر میں ایک مکمل اور بے داغ جرم تھا اور اس کے نتیجے میں قاتل کبھی پکڑا نہیں جانا تھا… اور وہ قاتل میں خود بن بیٹھی!’
ہماری اس دنیا میں نینسی کریمپٹن واحد رائٹر نہیں جو قتل کی من گھڑت کہانیاں اور ناول لکھتے لکھتے خود اپنے شوہر ڈینیل بروپھی کی قاتل بن چکی ہیں اور آج کل قتل کا مقدمہ بھی بھگت رہی ہیں۔
ایسے اور بھی کئی لکھاری موجود ہیں جو اپنی ہی خوفناک فکشنل تخلیقات سے متاثر ہو کر قاتل بن چکے ہیں۔ آئیے ایسے قاتل ادیبوں کے تخلیقی اور تخریبی کارناموں پر نظر ڈالتے ہیں۔
لیو یَنگ بیائو
اگست 2017 میں چینی ادیب لیو یَنگ بیائو اپنی نئی کتاب پر کام کر رہے تھے کہ پولیس نے انھیں چار افراد کے قتل کی واردات میں ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لے لیا۔ یہ واردات تقریباً دو دہائیاں پہلے ہوئی تھی۔
اسی دوران ان کا ناول ‘دی بیوٹی فل رائٹر ہو کِلڈ’ شائع ہوا تھا، جس میں مرکزی کردار ایک خاتون لکھاری کا تھا جو خفیہ طور پر ایک سیریل کلر ہوتی ہے۔ اس نے کئی قتل کیے ہوتے ہیں مگر پکڑی نہیں جاتی۔
ایک چینی ویب سائٹ ‘سکستھ ٹون’ کی رپورٹ کے مطابق، لیو یَنگ بیائو اور ان کا ایک ساتھی وینگ 1995 میں شہر ہوچو میں ایک ہوسٹل میں ٹھہرے تھے۔ وہ وہاں ٹھہرے ہوئے دیگر امیر مہمانوں کو لوٹنے کی نیت سے گئے تھے۔
اس واردات کے دوران انہوں نے ایک مہمان پر اتنا تشدد کیا کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔ جب قتل کی بات کھل گئی تو انہوں نے ہوسٹل کے مالک، اس کی بیوی اور ان کے تیرہ سالہ پوتے کو بھی قتل کر دیا۔ اس کے بعد دونوں قاتل وہاں سے فرار ہو گئے اور پہلے کی طرح اپنی نارمل زندگی گزارنے لگے۔
پولیس تب سے مسلسل قاتلوں کی تلاش میں خوار ہو رہی تھی۔ بالآخر کچھ عرصہ پہلے ڈی این اے کے شواہد سے سراغ رساں اس مشہور ادیب لیو یَنگ کے گھر تک آ پہنچے۔ جب پولیس نے لیو کو حراست میں لیا تو اس نے بڑے سکون سے کہا:
‘میں تو کئی سال سے آپ لوگوں کی آمد کا منتظر بیٹھا تھا۔ آپ ہی نے مجھ تک پہنچنے میں سستی کی۔ اس میں میرا کیا قصور؟’
لیو یَنگ بیائو نے اسی عرصے میں ایک اور ناول ‘دی گلٹی سیکرٹ’ بھی لکھ کر شائع کروایا تھا۔ گرفتاری کے بعد اس نے اپنی بیوی کو ایک خط لکھا، جس میں اس نے اپنے جرائم کا اعتراف ان الفاظ میں کیا تھا:
‘میں گزشتہ بیس برس سے انتہائی خوف کے عالم میں جی رہا تھا۔ مجھے پتا تھا کہ ایک دن آئے گا جب مجھے اپنے کرتوتوں کا حساب دینا پڑے گا۔ اب مجھے اس ذہنی عذاب سے نجات مل جائے گی جس نے اس پورے عرصے میں مجھے پاگل بنا رکھا تھا۔’
‘ڈیلی میل’ کی رپورٹ کے مطابق لیو یَنگ بیائو کو عدالت نے 2018ء میں موت کی سزا سنا دی تھی۔ واضح رہے کہ لیو کی لکھی ہوئی 50 قسطوں کی ایک ٹیلی ویژن سیریز چین میں بہت مقبول ہوئی تھی۔
ایک فلم کے اسکرپٹ پر لیو یَنگ کو ‘انہوئی لٹریچر پرائز’ بھی ملا تھا، اور وہ چین کے ادیبوں کی بڑی انجمن ‘چائنا رائٹرز ایسوسی ایشن’ کے عہدہ دار بھی رہے ہیں۔
بلیک لِیبل
کینیڈین گرافک ناول نگار، آرٹسٹ اور فلم پروڈیوسر بلیک لِیبل کو گزشتہ سال جون میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس معروف اور مہنگے رائٹر نے اپنی گرل فرینڈ لانا کسیان کو انسانیت سوز تشدد کر کے مار دیا تھا۔
استغاثے کی وکیل بیتھ سلورمین نے ایک موقع پر کرائم سین کا منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ’مقتولہ کا خون اس کے کمرے میں اس طرح پھیل گیا تھا جیسے اس کا قاتل اپنے گرافک ناولوں میں مرنے والے کرداروں کا خون بکھرا ہوا دکھاتا ہے۔ المناک بات یہ ہے کہ مقتولہ لانا کسیان خود بھی بلیک لِیبل کے کئی ناولوں کی شریک لکھاری رہی تھیں۔’
اس وکیل خاتون نے اس قتل کی واردات کو اپنے دلائل میں قاتل کا ‘ایک کیس آف لائف امیٹیٹنگ آرٹ’ قرار دیا تھا، جو اس کے گرافک ناول ‘سنڈروم’ میں پیش کیے گئے ایک منظر جیسا تھا۔ جس طرح مقتولہ کی نعش کے ٹکڑے گھر میں بکھرے پڑے تھے، ویسا ہی منظر بلیک لِیبل نے اس ناول میں ایک گڑیا کا دکھایا تھا۔ لانا کسیان کا تعلق یوکرین سے تھا اور وہ ایک مشہور ماڈل تھیں۔
رچرڈ کلنک ہیمر
ولندیزی ادیب رچرڈ کلنک ہیمر جرائم کی کہانیاں لکھتے ہیں۔ ان کے ویسے تو کئی ناول شائع ہو چکے ہیں، لیکن جس ناول کی بات یہاں کی جا رہی ہے وہ رچرڈ کلنک ہیمر نے 1992ء میں برائے اشاعت اپنے پبلشر کے حوالے کیا تھا۔
اس سے ایک سال پہلے اس معروف ڈچ رائٹر کی اہلیہ ہینیلورے پراسرار طور پر لاپتا ہو چکی تھیں۔ اس ناول کی خصوصیت یہ تھی کہ رچرڈ کلنک ہیمر نے اس کے مرکزی کردار کے حوالے سے بتایا تھا کہ وہ کس طرح سات مختلف طریقوں سے اپنی بیوی کو قتل کر سکتا ہے۔
ان میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ بیوی کو قتل کر کے اس کا قیمہ بنایا جائے اور پھر وہ قیمہ اپنے پالتو کبوتروں کو کھلا دیا جائے۔ پبلشر نے یہ ناول انتہائی لرزہ خیز قرار دے کر چھاپنے سے انکار کر دیا تھا۔
ادھر پولیس کی نظر میں رچرڈ کی بیوی کی گمشدگی کے واقعے میں سب سے زیادہ مشکوک خود ناول نگار ہی تھا، مگر ابھی تک نعش برآمد نہیں ہوئی تھی، اس لیے پولیس اس پر ہاتھ ڈالنے سے گریزاں تھی۔
جب پبلشر نے اس کا یہ ناول شائع کرنے سے معذرت کر لی تو رچرڈ نے کوئی دوسرا پبلشر تلاش کرنے کے خیال سے ناول کے کچھ اقتباسات پریس میں جاری کر دیے۔ یہ اقتباسات چھپتے ہی رچرڈ کی بطور لکھاری اہمیت میں بہت اضافہ ہو گیا اور اسے مختلف ادبی پروگراموں اور ٹی وی شوز میں مہمان سیلیبریٹی کی حیثیت سے بلایا جانے لگا۔
اس قتل کا راز تب فاش ہوا جب یہ چالاک لکھاری اپنا علاقہ چھوڑ کر ملک کے بڑے شہر ایمسٹرڈیم منتقل ہو گئے۔ ان کا چھوڑا ہوا مکان جس کنبے نے لیا، اس نے تزئین و آرائش کے دوران فرش کی جا بہ جا کھدائی کروائی۔ اسی کھدائی کے دوران پچھواڑے کے باغ میں ایک جگہ سے انسانی کھوپڑی برآمد ہوئی۔ ظاہر ہے کہ نئے مالکان نے پولیس طلب کر لی۔
فورنسک اور ڈی این اے ٹیسٹ میں پتا چلا کہ کھوپڑی رچرڈ کلنک ہیمر کی گمشدہ قرار دی گئی بیوی ہینیلورے کی ہے۔ اس انکشاف کے بعد 2000ء میں رچرڈ کو قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔ تفتیش کے دوران اس نے اعترافِ جرم کر لیا۔ بعد میں عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے عمر قید کی سزا سنا دی۔
کرسچیان بیلا
جرم و سزا اور تجسس سے بھرپور ناول لکھنے والا پولش ادیب کرسچیان بیلا اگر اپنا اگلا ناول ‘امک’ نہ لکھتا تو کبھی پکڑا نہ جاتا۔
لیکن جو سندھی میں ایک کہاوت ہے کہ ‘خون اور کھتھوری (کستوری) اپنا نشان ضرور چھوڑتے ہیں’، اس لحاظ سے کرسچیان بیلا جیسے مشہور ادیب اور چالاک قاتل کی عقل پر بھی پردہ پڑ گیا اور اس نے کئی سال پہلے جو ایک تاجر دوست کو تشدد کر کے اور بھوکا رکھ کر مار ڈالا تھا، وہ پوری واردات اس نے اپنے ناول ‘امک’ میں بیان کر دی۔
ناول میں البتہ اس نے اتنا فرق رکھا کہ مرکزی کردار ایک ادیب و دانشور کرِس کے ہاتھوں کسی تاجر مرد کے بجائے اس کی محبوبہ کو بالکل اسی طرح قتل کروایا، جیسے خود اس ناول نگار نے 2000ء میں پولش بزنس مین دریوش یانیشیفسکی کو مارا تھا اور اس کی لاش دریا برد کر دی تھی۔
پولینڈ کی پولیس نے کئی برس اس بزنس مین کے قتل کا معمہ حل کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہو کر کیس کو داخلِ دفتر کر دیا تھا۔
پھر قدرت کا کرنا یوں ہوا کہ ناول نگار کرسچیان بیلا نے اسی اصلی واردات کو جب تحریری طور پر ‘امک’ میں پیش کیا تو اسے پڑھ کر کسی قاری کو کئی سال پہلے ہونے والے قتل کی واردات یاد آ گئی، جس میں ایک شخص کے ہاتھ مضبوط تار سے پیچھے باندھ کر وہی تار اس کی گردن سے اس طرح گھمایا گیا تھا کہ وہ بندہ گول مول ہو کر رہ گیا تھا۔
اس حالت میں اسے کئی دن نہ صرف بھوکا پیاسا رکھا گیا بلکہ اس پر انسانیت سوز تشدد بھی کیا جاتا رہا، اور جب وہ مر گیا تو اس کی نعش دریا میں پھینک دی گئی تھی۔ جس طرح اس قتل کا محرک معلوم نہیں ہو سکا تھا، اسی طرح ناول میں ہیرو (یا ویلن؟) نے اپنی گرل فرینڈ کو عین اسی طرح قتل کیا، اس کی وجہ بھی بیان نہیں کی گئی۔
یہ کیس جب 2003ء میں پولیس کے سراغ رساں یاتسک وروبلیفسکی کے حوالے ہوا تو ریکارڈ میں انھیں ایک مشکوک فون کال بھی ملی تھی جو قتل کی واردات سے تھوڑی دیر پہلے مقتول کے دفتر کی گئی تھی۔
تفتیش میں پتا چلا کہ جس فون سے وہ کال کی گئی تھی وہ ناول نگار کرسچیان بیلا نے خریدا تھا، اور یہ فون اس نے بعد میں ‘ای بے’ پر فروخت کر دیا تھا۔
یہ ‘کلیو’ ملنے کے بعد سراغ رساں نے کرسچیان بیلا پر نظر رکھنا شروع کر دی اور ساتھ ہی اس کا نیا ناول ‘امک’ بھی پڑھنا شروع کیا۔ اس نے بعد میں معروف جریدے ‘نیو یارکر’ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا:
‘میں نے ناول میں کرِس کی گرل فرینڈ کو قتل کیے جانے کا طریقہ پڑھا تو بزنس مین دریوش یانیشیفسکی کے اصلی قتل کی واردات میری آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔’
ناول میں لکھاری، قاتل یا ہیرو کی زبانی واردات یوں بیان کروائی گئی ہے، ‘میں نے پہلے تار کو اس کی گردن کے گرد گھما کر کس دیا۔ اس کے بعد تار کے دونوں سرے اس کی پشت کی جانب لے جا کر اس کے ہاتھ بھی پیچھے باندھ دیے۔ اس کے بعد میں روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے اسے مارتا رہا اور بھوکا پیاسا رکھ کر موت کی طرف دھکیلتا رہا۔’
فکشن کی کتاب کو عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا تھا، اس کے باوجود سراغ رساں یاتسک وروبلیفسکی نے جج کو ذاتی گزارش کر کے ناول کا وہ حصہ پڑھوایا جس میں کرِس، لڑکی کو موت کے منہ میں دھکیلتا ہے۔
عدالت کے علم میں بزنس مین کے قتل کیے جانے کا طریقہ پہلے سے تھا، اس لیے ناول نگار کرسچیان بیلا کو حراست میں لے کر تفتیش کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
اس کے بعد کے مراحل پولیس کے لیے آسان ثابت ہوئے کیوں کہ کرسچیان بیلا نے ابتدائی تفتیش ہی میں قتل کے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے پچیس سال قید کی سزا سنا دی۔
این پیری
بطور ناول نگار شہرت کے آسمانوں کو چھونے سے پہلے، انگریز لکھاری خاتون این پیری کا پیدائشی نام جولیٹ ہیوم تھا۔ وہ نوعمری ہی میں قتل کے جرم میں اپنے آبائی ملک نیوزی لینڈ میں قید کی سزا بھگت چکی تھیں۔
ہوا یوں کہ جب وہ پندرہ سال کی تھیں تو ان کے والدین کے مابین اختلافات اتنے بڑھ گئے کہ طلاق تک نوبت جا پہنچی۔ طلاق کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ نوعمر بیٹی جولیٹ ہیوم کو جنوبی افریقا بھیجا جائے گا، جہاں ان کی خالہ ان کی پرورش کریں گی۔
جولیٹ نیوزی لینڈ چھوڑ کر جانا نہیں چاہتی تھیں کیوں کہ یہاں ان کی عزیز ترین سہیلی پائولین پارکر رہتی تھیں۔ مگر جب جانا ٹھہر ہی گیا تو انہوں نے پائولین کے کہنے پر اس کی ماں آنورا پارکر سے گزارش کی کہ وہ پائولین کو بھی ان کے ساتھ جنوبی افریقا بھیج دیں۔
ظاہر ہے کہ یہ بات ایک ماں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھی کہ وہ اپنی جوان بیٹی کو ایک سہیلی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے دوسرے ملک بھیج دے، اس لیے آنورا نے انکار کر دیا۔ مگر جولیٹ بدستور ضد پر اڑی رہیں۔
جب دونوں سہیلیاں مایوس ہو گئیں کہ پائولین کی ماں اسے جولیٹ کے ساتھ جانے نہیں دے گی تو ایک دن انہوں نے پائولین سے کہہ کر اسے اور اس کی ماں کو پارک میں بلا لیا۔ جب وہ ماں اور بیٹی پارک میں پہنچیں تو موقع پا کر جولیٹ نے لمبے موزے میں ڈالی ہوئی ایک اینٹ اٹھا کر پائولین کی ماں کے سر پر دے ماری۔
اس کے بعد دونوں لڑکیاں وہاں سے بھاگ اٹھیں اور بھاگتے ہوئے چلّا چلّا کر کہتی جا رہی تھیں کہ آنٹی آنورا گر پڑی ہیں، میری امی گر پڑی ہیں اور ان کے سر پر اینٹ لگی ہے۔ ادھر خاتون کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی تھی۔
پولیس تفتیش میں جولیٹ اور پائولین زیادہ دیر اپنے جھوٹ پر قائم نہ رہ سکیں اور اصل واقعہ بتا دیا۔ اس کے بعد دونوں گرفتار کر لی گئیں۔ انھیں کم عمری کا فائدہ دیتے ہوئے صرف پانچ سال کی جیل ہوئی۔
رہائی کے بعد جولیٹ اپنی ماں، باپ یا جنوبی افریقا والی خالہ کے پاس جانے یا پائولین سے مل کر رہنے کے بجائے اسکاٹ لینڈ چلی آئیں۔ یہاں پہنچتے ہی پہلے تو انہوں نے اپنا نام بدل کر ‘این پیری’ رکھ لیا، اور اس کے بعد تخلیقی ادب و تحریر کی فیلڈ میں ڈگری حاصل کر کے ناول نویسی شروع کر دی۔
آج ان کے تین درجن سے زائد ناولز بیسٹ سیلرز مانے جاتے ہیں۔ ان کی کتابیں جرم، سزا اور تھرلرز پر مشتمل ہوتی ہیں۔ بطور ناول نگار نصف صدی طویل کامیاب کیریئر کے دوران انہوں نے کبھی اپنی اصل شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی کبھی اپنے ماضی سے متعلق کسی سوال کا جواب دیا۔
مگر 1994ء میں ایک فلم ساز پیٹر جیکسن نے این پیری سے اجازت لے کر ان کی زندگی پر فلم ‘ہیونلی کریچرز’ بنائی تو اس میں مصنفہ نے کھل کر اپنے ماضی پر بات کی۔ تبھی دنیا کو علم ہوا کہ ان کی پسندیدہ رائٹر ماضی میں قتل جیسا بھیانک جرم بھی کر چکی ہیں۔ مگر اس فلم کے بعد لوگوں میں این پیری کی کتابیں پڑھنے کا شوق کم ہونے کے بجائے کئی گنا بڑھ گیا، اور وہ آج بھی ایک کے بعد ایک ناول لکھے جا رہی ہیں۔
ان کی طرح اور بھی کئی مصنفین ایسے ہیں جنھوں نے قتل جیسے بھیانک جرم کیے ہیں۔ کچھ پکڑے گئے اور کچھ بچ نکلے ہیں، مگر ان میں سے بیشتر نے اپنی حقیقی وارداتیں اپنے ناولوں یا تحریروں میں بیان کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی وارداتوں اور گھاتوں کی تفصیلات بھی میسر نہیں ہیں۔
اس لیے جیسے ‘خلیفہ’ لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک چاول چکھ کر پوری دیگ کا احوال بتا دیتے ہیں، اسی طرح فی الحال آپ بھی ان چند دانوں پر اکتفا کیجیے۔ یار زندہ، صحبت باقی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













