گلہ، شکوہ، جھگڑا، اور مستقل تنازع۔ ان میں سے جو بھی صورتحال ہو، بالعموم ایک فریق ایسا ضرور ہوتا ہے جو مجروح ہوتا ہے، اور یہی وہ فریق ہوتا ہے جو کسی بڑے نقصان کے باوجود اچھی اخلاقی پوزیشن میں ہوتا ہے۔ یہ پوزیشن اسے ہمدردی اور حمایت دونوں دلاتی ہے۔ دوسری طرف جارح اگرچہ بظاہر مجروح کو نقصان پہنچا کر کچھ اور نہ بھی سہی تو جذباتی تسکین ضرور حاصل کرچکا ہوتا ہے، مگر اس کی اخلاقی پوزیشن بہت کمزور ہوتی ہے۔ وہ بس ایک دو دن ہی یہ ڈینگیں مار پاتا ہے کہ اس نے اگلے کو اٹھایا اور زمین پر پٹخ دیا۔ ان ڈینگوں پر اسے کچھ گھٹیا اخلاق والوں سے داد بھی مل جاتی ہے، مگر یہ سب بہت عارضی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ کمزور اخلاقی پوزیشن کو ضمیر جان کا وبال بنا دیتا ہے۔
ایسے شخص کے لیے خاص طور پر اپنی تنہائی کے لمحات سب سے بڑا بوجھ بن جاتے ہیں، کیونکہ ضمیر کی اذان سب سے زیادہ گونج تنہائی کے محراب میں ہی پیدا کرتی ہے۔ یہ گونج پہلے مضطرب، پھر بے چین اور آخر میں زمین میں گاڑنے لگتی ہے۔ ایسے لمحوں میں سانس کبھی رک رک کر چلتی ہے تو کبھی چل چل کر رکتی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے ایک نئی صورتحال جنم لینے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن مجید جس چیز کو ’دل پر مہر لگنا‘ کہتا ہے وہ کیا ہے؟ اہل علم کا کہنا ہے کہ ضمیر کی خلش پر اکثر لبیک کہنے والوں کو اس کی آواز تاحیات سنائی دیتی ہے۔ یوں یہ سلسلہ تاحیات چلتا ہے کہ جب بھی غلطی ہوئی سب سے پہلی عدالت ضمیر نے ہی لگا لی، لیکن اگر ایک شخص ضمیر کی آواز اور فیصلے نظر انداز کرنا معمول بنا لے تو رفتہ رفتہ یہ آواز آنی بند ہوجاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں ایسا شخص پہلے اخلاقی دائروں اور پھر مذہبی بندشوں سے بھی نکل جاتا ہے۔ اور معاشرہ اس کے بعض اقدامات پر پوچھنے لگتا ہے، کوئی مسلمان ایسا کیسے کرسکتا ہے؟
جارح اگر اپنے ضمیر کے فیصلے کے آگے سر جھکا لے اور خود ہی غلطی کا احساس کرلے تو اگلا مرحلہ اعتراف کا اور معافی مانگنے کا ہوتا ہے۔ مگر یہ بہت ہی نازک مقام ہے، کیونکہ جارح کے اعتراف اور معافی مانگتے ہی یہ تبدیلی یکایک نمودار ہوجاتی ہے کہ جارح کے لیے آس پاس موجود افراد کے دلی جذبات بڑے تغیر سے گزرنے لگتے ہیں۔ یہ تغیر اس کے لیے دلوں میں احترام اور ہمدردی پیدا کرنے لگتا ہے۔ جس کا سب سے بڑا اثر اس کی اخلاقی پوزیشن پر پڑتا ہے۔ جو لوگ پانچ منٹ قبل کہہ رہے تھے کہ ملک صاحب نے بہت زیادتی کی ہے، انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ وہی اب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ملک صاحب کو خدا خوش رکھے، انہیں اپنی غلطی کا احساس ہی نہیں ہوا بلکہ انہوں نے معافی مانگ کر اصل بہادری بھی دکھادی ہے۔
مگر ایک منٹ! ابھی تبدیلی بس اتنی ہی رونما ہوئی ہے کہ ملک صاحب کی کمزور اخلاقی پوزیشن اب پیچھے رہ گئی ہے، لیکن یہ مرحلہ ابھی باقی ہے کہ ان کی معافی کے ساتھ سلوک کیا ہوتا ہے؟ یہ مرحلہ دو لحاظ سے بہت اہم ہے۔ اگر معافی قبول ہوگئی تو ایک ناخوشگوار صورتحال کا مکمل خاتمہ ہوجائےگا، اور روزمرہ امور اپنے پرانے معمول پر آجائیں گے، لیکن اگر معافی قبول نہ ہوئی تو؟ یہ معمولی سوال نہیں، کیونکہ اس کے بعد مجروح کی اخلاقی پوزیشن زمیں بوس ہونے کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ ہم یوں کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ہاں ’میں کبھی معاف نہ کروں گا‘ کا تکبر اب نیو نارمل بننے لگا ہے۔ جو معتدل سماج کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
سمجھنے والی بنیادی بات یہ ہے کہ زیادتیاں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو منصوبہ بند زیاتیاں ہوتی ہیں، اور یہ عام طور پر ہوتی بھی سنگین ہیں، لیکن سماج میں ان کی تعداد ہوتی قلیل ہے۔ اس کے برخلاف وہ زیادتیاں بہت کثیر تعداد میں ہوتی ہیں جو عزم اور منصوبے سے نہیں بلکہ غلطی سے سرزد ہوتی ہیں۔ کوئی جذباتی لمحہ، کوئی غفلت یا کوئی غلط فہمی، کچھ بھی اس کا باعث بن جاتا ہے۔ غفلت اور غلط فہمی کا تو انسان فوراً اعتراف کر لیتا ہے مگر جذباتی لمحہ بسا اوقات انا کا پہاڑ بن جاتا ہے۔ لیکن اگر ایک شخص اسے پہاڑ ہی نہ بننے دے اور معافی مانگ لے تو کچھ لوگوں کے لیے معاف کردینا اتنا مشکل کیوں بن جاتا ہے؟ عجیب بات نہیں کہ ہم اللہ سے اپنے لیے مسلسل معافی چاہتے ہیں، مگر اللہ کے بندوں کو معاف کرنا ہم اپنی شان کے خلاف سمجھ لیتے ہیں؟
یہ رویے اب سماج میں عام نظر آنے لگے ہیں کہ کوئی شخص ہماری دس سال پرانی غلطی یاد رکھتا ہے، لیکن اپنی دس غلطیاں بھی آسانی سے بھول جاتا ہے۔ دوسروں کی غلطی کو کردار کی خرابی قرار دیدیا جاتا ہے، لیکن اپنی غلطی کو حالات کا نتیجہ بتاتا ہے۔ ہم اب معافی مانگنے والے سے بھی کہتے ہیں ’معافی مانگنے سے کیا ہوتا ہے؟ جو کیا سو کیا!‘ ہماری حالت یہ ہوچکی کہ کسی نے ایک مرتبہ ہمیں تکلیف دی تو ذہن میں اس کی پوری شخصیت اسی ایک واقعے کے فریم میں قید ہو کر رہ جاتی ہے، مگر اس نفسیاتی صورتحال کا اگلا مرحلہ یہ ہے کہ اگلے کی تو ہم محض تصویر کسی ایک واقعے کے فریم میں قید رکھ لیتے ہیں لیکن خود ہماری تصویر نہیں بلکہ پوری ہستی اس ایک لمحے کی قیدی بن کر رہ جاتی ہے۔ جب اور جہاں بھی متعلقہ شخص کا ذکر چھڑے، وہ ذکر بیشک اس کی کسی شدید علالت کا ہی کیوں نہ ہو، ہم اپنی یاد کے قید خانے کا آہنی گیٹ ہلانا شروع کردیتے ہیں۔
ایسے میں یہ سوال بہت اہم ہوجاتا ہے کہ کیا ہم واقعی دوسروں سے ناراض ہی ہوتے ہیں یا اپنے دل میں ان کے خلاف مقدمہ چلاتے رہنے سے ہم کوئی کمینی سی تسکین حاصل کرتے ہیں؟ اگر ہلکی سی فلسفیانہ زبان میں کہیں تو خود کو دوسرے کی غلطی کا قیدی بنانے والا شخص درحقیقت صرف دوسرے کی غلطی کو یاد نہیں رکھتا، وہ اس غلطی سے اپنی شناخت بھی بناتا ہے۔ یعنی کبھی کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ فلاں نے ہمارے ساتھ کیا کیا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے ذہن میں اس واقعے کو اپنی مظلومیت کی ایک مستقل کہانی بنا لیا ہے۔ سائیکالوجی اس کی توجیہ یہ پیش کرتی ہے کہ ہمیں اپنے اس طرح کے زخم سے تکلیف بھی ہوتی ہے اور اسی زخم سے ایک بے جا قسم کی اخلاقی برتری کا احساس بھی حاصل ہوتا ہے، لیکن فی الحقیقت ہم ایسا کسی ہمدردی کے حصول کے لیے نہیں بلکہ اگلے کو مستقل کٹہرے میں رکھنے کے لیے کرتے ہیں۔ یعنی معاملہ وہی کمینی سی تسکین والا ہی ہوتا ہے۔ ہم کہتے ہیں:
’میں نے اسے معاف نہیں کیا، کیونکہ اس نے میرے ساتھ بہت برا کیا تھا‘
لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا وجہ یہی ہے؟ یہ سوال یوں بہت اہم ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم اگلے کو اس لیے معاف نہیں کرتے کہ اسے معاف کر دینے کے بعد ہمارے پاس اس شخص کے خلاف اپنا مقدمہ باقی نہیں رہتا، اسے مستقل کٹہرے میں رکھنے والی اسکیم ہاتھ سے جاتی نظر آتی ہے۔ سو اونٹ جیسا کینہ رکھنے والوں کو نفسیات کا یہ کلیہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ معاف کرنا ہمیشہ دوسرے کو بری کرنا نہیں ہوتا، بیشتر کیسز میں یہ اپنے آپ کو ہی ماضی کی قید سے آزاد کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ جس شخص کو ہم نے اپنے ذہنی کٹہرے کا قیدی سمجھ رکھا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ہر روز ہمارے بارے میں ہی سوچ رہا ہو۔ ممکن ہے وہ اپنی زندگی میں آگے نکل چکا ہو اور یہ فقط ہم ہوں جو اپنے ذہن میں اس کے خلاف آج بھی مقدمہ کھولے بیٹھے ہوں۔ لہٰذا معافی کا سب سے بڑا فائدہ یہ نہیں کہ دوسرا ضمیر کی خلش سے آزاد ہوجاتا ہے، اصل فائدہ یہ ہے کہ ہم اس واقعے کے قیدی نہیں رہتے، اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ذرا ملاحظہ کیجیے قرآن مجید اس مسئلے کو کس خوبصورتی سے موضوع بناتا ہے۔
’انہیں چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟‘ (النور: 22)
قابل غور نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ شخص معافی کے قابل ہے، اس لیے اسے معاف کرو۔ بلکہ وہ گویا یہ سوال کھڑا کر دیتا ہے، اگر تم خود اللہ کی معافی چاہتے ہو تو پھر دوسروں کے ساتھ کیا معاملہ کرو گے؟ یعنی قرآن انسانی نفسیات کو اس عجیب مقام پر لا کھڑا کرتا ہے کہ جس شخص کو ہم معاف نہیں کرنا چاہتے، ممکن ہے وہ ہماری اپنی بخشش کا امتحان بن گیا ہو۔ یوں یہ آیت گویا ہمیں اس سوال سے روبرو کردیتی ہے کہ جب ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے کہتے ہیں کہ ہماری لغزشوں کو ہماری زندگی کا آخری فیصلہ نہ بنائیے گا، تو پھر دوسروں کی ایک لغزش کو ان کی پوری شخصیت کا آخری فیصلہ کیوں بنا دیتے ہیں؟ ذرا حضرت یوسف علیہ السلام کی حیات مبارکہ پر غور کیجیے۔ بھائیوں نے انہیں کنویں میں پھینکا تھا، مگر کنعان کے اس کنویں سے نکلنے والی آزمائشیں انہیں مصر کی جیل تک لے گئیں۔ ان کی حیات مبارکہ کا غالب حصہ بھائیوں کے اس اقدام کے نتیجے میں پے در پے آنے والی آزمائشوں سے گزرا، لیکن جب وہ مصر کی مسند اقتدار پر بیٹھے تھے اور اچانک وہی بھائی سامنے آگئے تو کوتوال یا جلاد کو آواز نہ دی بلکہ فرمایا ’آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہاری بخشش فرمائے‘ مصر کی قید سے گزرنے والے اس جلیل القدر پیغمبر نے ہمیں شاید معافی کا سب سے بڑا سبق یہی دیا کہ انسان کو دوسروں کی غلطی سے چپکے رہنے کی بجائے اپنی نفسیات کی قید سے آزاد ہونا چاہیے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











