اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع کے مطابق، ادارے کے سب سے بااثر اور بااختیار ادارے ‘سلامتی کونسل’ میں جمعے کے روز نئے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لیے کرائی گئی غیر رسمی رائے شماری میں ربیکا گرنسپین معمولی اکثریت کے ساتھ سب سے آگے رہی ہیں۔
کوسٹاریکا کی سابق نائب صدر ربیکا گرنسپین، جنہوں نے اقوام متحدہ کے تجارتی و ترقیاتی ادارے (UNCTAD) کے عہدے سے سیکرٹری جنرل کے لیے مہم چلانے کی خاطر عارضی چھٹی لے رکھی ہے، اس سے قبل ہونے والی پہلی خفیہ رائے شماری میں بھی پہلے نمبر پر آئی تھیں۔ تاہم دوسری رائے شماری میں گیانا کی سابق وزیر خارجہ کارولین روڈریگز برکیٹ نے برتری حاصل کی تھی۔
سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک میں سے متعدد نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی دسمبر کے آخر میں مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد بحرانوں کا شکار اس عالمی ادارے کی قیادت پہلی بار کسی خاتون کے سپرد کی جائے۔
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ تازہ ترین پول میں ربیکا گرنسپین کو 9 ارکان کی جانب سے ’حوصلہ افزا‘ (Encourage)، 5 ارکان کی جانب سے ’مخالف‘ (Discourage) اور ایک رکن کی جانب سے ’غیر جانبدار‘ (No Opinion) ووٹ ملا۔ دوسری جانب کارولین روڈریگز برکیٹ نے 8 حوصلہ افزا، 6 مخالف اور 1 غیر جانبدار ووٹ حاصل کیا۔
قواعد و ضوابط کے مطابق، کونسل کے ویٹو پاور رکھنے والے 5 مستقل ارکان برطانیہ، چین، فرانس، روس یا امریکا میں سے کسی ایک کا بھی ’مخالف‘ (Discourage) ووٹ کسی بھی امیدوار کی کامیابی کے امکانات کو ختم کر سکتا ہے۔ اسی بنا پر یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ پانچوں مستقل ارکان کی باہمی رضامندی سے کسی متفقہ غیر متوقع امیدوار کو بھی میدان میں لایا جا سکتا ہے۔
سیکرٹری جنرل بننے کی اس دوڑ میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے موجودہ سربراہ رافیل گروسی، سینیگال کے میکی سال، ایکواڈور کی ایوون اے باکی، چلی کی مشیل باچلیٹ، ایکواڈور کی ماریا فرنانڈا اسپنوسا اور یوگنڈا کے اولارا اوتونو بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کا انتخاب جیت لیا
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے تجزیہ کار ڈینیئل فورٹی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح کے سالانہ اجلاس (جو منگل سے شروع ہو رہا ہے) کے اختتام پر ایک اور غیر رسمی رائے شماری متوقع ہے۔
سلامتی کونسل کے مراحل مکمل کرنے کے بعد حتمی امیدوار کا نام حتمی توثیق کے لیے تمام رکن ممالک پر مشتمل جنرل اسمبلی کو بھیجا جائے گا۔














