اقوام متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کا باضابطہ عمل شروع ہو گیا ہے۔ موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے، جبکہ نئے سربراہ یکم جنوری 2027 سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ انتخابی عمل کے تحت امیدوار رکن ممالک کی نامزدگی پر اپنا وژن اور ترجیحات پیش کر رہے ہیں، جس کے بعد سلامتی کونسل نئے سیکریٹری جنرل کے نام کی سفارش کرے گی اور جنرل اسمبلی اس کی منظوری دے گی۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کی کھلی پذیرائی پر اقوام متحدہ کی خاموشی پر سوالات
اب تک 6 شخصیات اس عہدے کے لیے امیدوار ہیں۔ ان میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی (ارجنٹینا)، اقوام متحدہ کی تجارتی و ترقیاتی کانفرنس کی سیکریٹری جنرل ربیکا گرینسپین (کوسٹا ریکا)، چلی کی سابق صدر اور اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باشلے، سینیگال کے سابق صدر ماکی سال، ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور جنرل اسمبلی کی سابق صدر ماریا فرنانڈا ایسپینوسا، اور گیانا کی سابق وزیر خارجہ و اقوام متحدہ میں مستقل مندوب کیرولین روڈریگز برکیٹ شامل ہیں۔
امیدوار مختلف عوامی مکالموں اور اجلاسوں میں اپنا پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ بیشتر امیدواروں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات، عالمی تنازعات کے حل، انسانی حقوق کے فروغ، مالی بحران سے نمٹنے اور ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کو اپنی ترجیحات قرار دیا ہے۔

سفارتی حلقوں میں ربیکا گرینسپین، رافیل گروسی اور مشیل باشلے کو نسبتاً مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے، تاہم فی الحال کسی ایک امیدوار کو واضح فیورٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حتمی فیصلہ بڑی حد تک سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان، امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے اتفاق رائے پر منحصر ہوگا، کیونکہ ان میں سے کسی بھی ملک کا ویٹو کسی امیدوار کی کامیابی کی راہ روک سکتا ہے۔
یہ انتخاب ایک اور وجہ سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کی تقریباً 80 سالہ تاریخ میں آج تک کوئی خاتون سیکریٹری جنرل منتخب نہیں ہو سکی۔ اس بار متعدد بااثر خواتین امیدوار میدان میں ہونے کے باعث عالمی سفارتی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ آیا پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کی قیادت کسی خاتون کے سپرد کی جائے گی یا نہیں۔














