شام کے سابق صدر بشار الاسد کی شدید مخالف اور نامور شامی گلوکارہ اصالہ نصری 15 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئی ہیں۔ دمشق میں ان کے تاریخی اور ہاؤس فل کنسرٹ میں ہزاروں مداحوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔
2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد نئی شامی قیادت کی جانب سے “دمشق کی بیٹی” کا لقب پانے والی 57 سالہ گلوکارہ نے اس موقع پر کہا کہ ملک کی حقیقی بحالی اور زخمی روحوں کا علاج صرف آرٹ اور موسیقی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
شامی دارالحکومت کے شو میں ہزاروں مداحوں نے 57 سالہ گلوکارہ (جنہیں دنیا بھر میں صرف ‘اصالہ’ کے نام سے جانا جاتا ہے) کا پرجوش نعروں اور تالیوں سے استقبال کیا۔ اصالہ نے اسٹیج پر جھک کر مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور شامی عوام کی ترنم سے بھرپور گیتوں سے شو کا آغاز کیا۔
جذباتی مناظر کے دوران اصالہ نے بار بار نعرے لگاتے مداحوں سے کہا ’میری روح کے ٹکڑو! میں نے آپ کو بہت یاد کیا۔ میرے پیارو، میرے اپنے لوگو! خدا کی قسم، اس لمحے تک مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں آپ کے درمیان ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں نے اس دن کا کتنا خواب دیکھا تھا۔‘
یہ دیکھیے ویڈیو: انگلش گلوکارہ لورا رائٹ نے منفرد انداز میں پاکستان کا قومی ترانہ گاکر سب کو حیران کردیا
کنسرٹ کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، کیونکہ بعض متشدد گروہوں نے اس کی منسوخی کے لیے مہم چلا رکھی تھی۔ گلوکارہ نے اعلان کیا ہے کہ شو سے حاصل ہونے والی نصف آمدنی خیراتی کاموں کے لیے عطیہ کی جائے گی۔
2024 میں بشار الاسد کا تختہ الٹنے والی شام کی نئی حکمران انتظامیہ نے اصالہ کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔ شام کے وزیر ثقافت محمد یاسین صالح نے انہیں ’دمشق کی بیٹی‘ قرار دیتے ہوئے اسٹیج پر ان کا استقبال کیا اور کہا کہ ان کی واپسی ’ہر باضمیر اور آزاد شامی کی واپسی‘ ہے۔
اصالہ ان پہلے فنکاروں میں شامل تھیں جنہوں نے 2011 میں اسد حکومت کے خلاف اٹھنے والی پرامن تحریک کی علانیہ حمایت کی تھی اور حکومتی پروپیگنڈا شوز کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس پاداش میں انہیں شامی آرٹسٹس یونین سے نکال دیا گیا تھا اور ان کے خلاف شدید میڈیا مہم چلائی گئی تھی۔
اس کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ قاہرہ منتقل ہو گئیں اور جلاوطنی کے دوران مختلف عرب ممالک میں فن کا مظاہرہ کرتی رہیں۔
یاد رہے کہ شام میں پرامن مظاہروں کے خلاف خونی کریک ڈاؤن کے بعد خانہ جنگی چھڑ گئی تھی جو 13 سال تک جاری رہی اور جس میں 5 لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔ شو کے دوران ہال میں موجود مداح شام کے چھوٹے چھوٹے پرچم لہرا رہے تھے اور کئی افراد جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے رو پڑے۔
شو میں موجود 56 سالہ مداح سوسن وضح کا کہنا تھا ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ دن آئے گا۔ یہ ایک خوبصورت خواب کی طرح ہے۔‘ جبکہ 40 سالہ لین نہاس نے کہا ’ہمیں بے حد خوشی ہے کہ ہمارا ملک آگے بڑھ رہا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے فلسطین نژاد چلی کی گلوکارہ الیانا ریاض میں پرفارم کریں گی
اصالہ نے اپنے نئے البم ‘دی سیرین البم’ (The Syrian Album) میں شام کے تمام 14 صوبوں کے لوک گیت شامل کیے ہیں تاکہ ملک کی ثقافتی تنوع کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے جنگ سے متاثرہ شہروں کے علاوہ ساحلی علاقوں کے لیے بھی گایا ہے جہاں ماضی میں شدید فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا۔
کنسرٹ کے دوران اصالہ نے اپنے نئے البم کے گانوں کے ساتھ ساتھ اپنے مشہور زمانہ کلاسیک گانے جیسے ‘سامحتک’ اور ‘صندوق’ بھی گائے، جن پر پورا ہال ان کے ساتھ مل کر گنگناتا رہا۔
اصالہ اور ان کا خاندان رواں ہفتے ہی دمشق پہنچا ہے۔ دمشق کے ایک قدیم اشیاء کے تاجر نے اصالہ کے آنجہانی والد (جو اپنے دور کے معروف موسیقار تھے) کا تاریخی ‘عود’ (شرقی بینجو) بھی انہیں واپس لوٹا دیا ہے۔
واضح رہے کہ 2025 کے بعد سے شام میں ایک طرف جہاں ثقافتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب عوامی مقامات اور یونیورسٹیوں میں مذہبی حلقوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث آزادیِ اظہار پر پابندیوں کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔













