وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر موٹر سائیکل، چنگچی اور رکشہ صارفین کے لیے پیٹرول ریلیف اسکیم میں 3 بڑی ترامیم کردی گئی ہیں، جس کے تحت اب یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں بھی اسکیم سے مستفید ہوسکیں گی، جبکہ 5 لیٹر پیٹرول کی حد ختم اور ایس ایم ایس سروس مفت کردی گئی ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک بھر سے موصول ہونے والی تجاویز اور عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکیم میں ترامیم کی منظوری دی ہے تاکہ موٹر سائیکل، چنگچی اور رکشہ چلانے والے زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے 2011 سے رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں ہی اسکیم میں شامل تھیں، تاہم اب اس مدت کو بڑھا کر 2006 کردیا گیا ہے۔ یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں اب پیٹرول ریلیف اسکیم کا حصہ بن سکیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول اسٹیشنز کی رجسٹریشن کا عمل، ایسوسی ایشنز کے تحفظات اور مشکلات دور کردی گئیں، طارق فضل چوہدری
شزہ فاطمہ نے کہا کہ دوسری اہم تبدیلی کے تحت ٹو وہیلرز کے لیے فی ٹوکن 5 لیٹر پیٹرول کی حد ختم کردی گئی ہے۔ اب ماہانہ 4 ٹوکن حاصل کیے جاسکیں گے اور ہر ٹوکن پر 500 روپے کی رعایت دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شہری ٹوکن کے ذریعے پیٹرول ڈلواتا ہے اور 2 لیٹر پیٹرول کی قیمت 780 روپے بنتی ہے تو اسے 500 روپے کی رعایت کے بعد صرف 280 روپے ادا کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹوکن کی مقررہ رعایت کے تحت صارف پٹرول پمپ پر اپنی ضرورت کے مطابق پٹرول حاصل کرسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ تیسری بڑی تبدیلی کے تحت وزیراعظم کی ہدایت پر 800 سی سی تک کی گاڑیوں اور ٹو و تھری وہیلرز کے لیے ایس ایم ایس سروس مفت کردی گئی ہے، جس سے بیلنس نہ ہونے کے باعث تصدیقی پیغامات نہ بھیجے جانے کا مسئلہ ختم ہوجائے گا۔
شزہ فاطمہ کے مطابق حکومت نے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے فیول اسٹیشنز اور پیٹرول پمپس پر اسکیم کے حوالے سے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا، جبکہ تمام صوبوں کی انتظامیہ بھی پروگرام پر عملدرآمد میں بھرپور تعاون کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ، شیڈول جاری
انہوں نے کہا کہ اسکیم میں یہ ترامیم عوام سے موصول ہونے والے فیڈ بیک کی بنیاد پر کی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ موٹر سائیکل، چنگچی اور رکشہ صارفین پیٹرول پر ملنے والی رعایت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
پیٹرول ریلیف اسکیم: 17 لاکھ سے زائد رجسٹریشن، 15 لاکھ ٹوکن رجسٹر، 6 لاکھ 80 ہزار استعمال
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ پیٹرول ریلیف اسکیم کے تحت اب تک 17 لاکھ سے زائد رجسٹریشنز ہوچکی ہیں جبکہ شہریوں کی جانب سے 15 لاکھ سے زیادہ ٹوکن رجسٹر کیے جاچکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرول پمپس پر اب تک 6 لاکھ 80 ہزار سے زائد ٹوکن استعمال کیے جاچکے ہیں اور اسکیم سے مستفید ہونے والوں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
شزا فاطمہ کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر اسکیم کی پیشرفت کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم کی سربراہی میں اسٹیئرنگ کمیٹی جبکہ ان کی اور طارق باجوا کی سربراہی میں عملدرآمد کمیٹی کام کررہی ہے۔ عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس دن میں تین مرتبہ جبکہ اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس روزانہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز میں فیول ریلیف پیکج پر اتفاق، عمل درآمد شروع
انہوں نے کہا کہ شہریوں کو درپیش مشکلات کی فوری نشاندہی کرکے ان کا روزمرہ کی بنیاد پر حل نکالا جارہا ہے، جبکہ وزیراعظم خود اسکیم کے اعداد و شمار کو فالو کررہے ہیں، بالخصوص اس بات پر نظر رکھی جارہی ہے کہ کتنے افراد پیٹرول پمپس پر ٹوکن استعمال کرکے اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 5 لیٹر کی پابندی ختم ہونے کے بعد موٹر سائیکل، رکشہ اور چنچی چلانے والوں کے لیے اسکیم سے فائدہ اٹھانا مزید آسان ہوگیا ہے، جس کے باعث ٹوکن استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارت آئی ٹی میں 24 گھنٹے کنٹرول روم بھی کام کررہا ہے۔ حکومت نے رجسٹریشن اور ایس ایم ایس سمیت تمام سرکاری چارجز ختم کردیے ہیں، اس لیے شہریوں سے حکومت کی جانب سے کسی بھی مرحلے پر ایک روپے کا بھی چارج نہیں لیا جارہا۔














