حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز میں فیول ریلیف پیکج پر اتفاق، عمل درآمد شروع

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے درمیان فیول ریلیف پیکج سے متعلق مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، جس کے بعد ادائیگیوں کے طریقہ کار پر اتفاق کرتے ہوئے پیکج پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں فیول ریلیف پیکج سے متعلق تمام زیر التوا امور طے پاگئے ہیں۔ اجلاس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزارت پیٹرولیم کے اعلیٰ حکام نے پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کیے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے پر وفاقی حکومت نے سبسڈی واپس لے لی

اجلاس میں پیٹرول پمپس اور ڈیلرز ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کو ریلیف پیکج کے عملی طریقہ کار، مستحق صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے عمل اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تحفظات کا بھی جواب دیا گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام نے شرکا کو رقوم کی واپسی کے طریقہ کار پر بریفنگ دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ پیکج کے تحت جمع کرائے جانے والے دعووں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کی جائے گی، تاکہ شریک پیٹرولیم ڈیلرز کو بروقت رقوم واپس کی جاسکیں۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے بھی شرکا کو اسکیم پر عمل درآمد کے لیے تیار کیے گئے ڈیجیٹل نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیٹرول پمپس کی سہولت اور ان کے سوالات و شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے، جہاں پیٹرول پمپس مدد کے لیے 9772 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ فیول ریلیف اسکیم کے لیے3 ماہ کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے پہلے ماہ کے لیے 25 ارب روپے پہلے ہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فراہم کردیے گئے ہیں تاکہ اسکیم کے تحت ڈیلرز کو بروقت رقوم کی واپسی یقینی بنائی جاسکے۔

پیٹرول پمپس اور ڈیلرز ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے وزیراعظم کے فیول ریلیف پیکج کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کو اس پر مؤثر عمل درآمد اور عوام کو ریلیف کی فراہمی میں مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر بڑی سبسڈی دی، ڈاکٹر مصدق ملک

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم ڈیلرز کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریلیف اقدام پر مؤثر، شفاف اور بروقت عمل درآمد کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے درمیان قریبی رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔

اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کے سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آئل، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اوگرا، او سی اے سی اور پیٹرولیم ڈیلرز و پیٹرول پمپس ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

دوسری جانب پیٹرول پمپ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت ادائیگیوں کے طریقہ کار سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن جلد جاری کرے گی، جبکہ معاہدے کے تحت پیٹرولیم ڈیلرز کو واجب الادا رقوم اسٹیٹ بینک کے ذریعے 48 گھنٹوں کے اندر ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کردی جائیں گی۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مثبت اور کامیاب رہے ہیں اور ادائیگیوں سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کی توقع ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت اور ڈیلرز کے درمیان اتفاق رائے کے بعد فیول ریلیف پیکج پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے، جس کے ساتھ ہی اس معاملے پر جاری ڈیڈلاک بھی ختم ہوگیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میرپور نہر میں پھینکے گئے 3 بچوں میں سے 2 کی لاشیں برآمد، ملزم گرفتار

موڈ بہتر بنانے کے لیے صرف 30 سیکنڈ کافی، روزمرہ کی چند آسان عادتیں

بچوں کے سوشل میڈیا استعمال اور ’فیملی ولاگنگ‘ پر لگام کسنے کی تیاری، بڑے ایکشن کی تیاری

اے آئی کی دوڑ کو ایک اور خطرہ، ڈیٹا سینٹرز کے خلاف دنیا بھر میں بڑھتی مزاحمت کیوں؟

اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر میں 3 ارب ڈالر سے زائد اضافہ، مجموعی حجم 21.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

ویڈیو

حارث کھوکھر کے اپنی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات؟ لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ارکان پارلیمنٹ کی رائے

حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائےگی، شائستہ پرویز ملک

کالم / تجزیہ

غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟